پاکستان

پہلے پالتے ہیں پھر مارتے ہیں

فاروق طارق

تحریک لبیک کے مارچ پر کئی دفعہ پولیس کا حملہ ہو چکا ہے۔ سوشل میڈیا پر زخمیوں اور ہلاک ہونے والوں کی فوٹو گرافس شیئر کی جا رہی ہیں۔ آج صبح صبح بھی ان پر شیلنگ کی گئی تا کہ اسلام آباد جانے سے روکا جا سکے۔

مظاہرین کے مطالبات مذہبی جنونیت کے پھیلاؤ کا اظہار ہیں اور افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد پاکستانی مذہبی جنونی گروہوں کی ابھرتی طاقت کی نشان دہی ہے۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ افغانستان کے انتہا پسند مذہبی گروہوں کو تو گلوریفائی کریں اور پاکستانی ایسے گروہوں کو کنٹرول میں رکھیں۔

حقیقت یہ ہے کہ اس گروپ کو خود اسٹیبلشمنٹ کے ایک دھڑے نے 2018ء میں رائیٹ ونگ کے ووٹ مسلم لیگ سے توڑنے کے کئے پوری طرح پالا پوسا۔ ان کے دھرنوں کی حمائیت کی۔ اس طرح یہ گروہ مسلم لیگ ن کے روایاتی ووٹوں کو توڑنے میں کافی حد تک کامیاب بھی رہا۔

مگر آپ ایک درندے کو پالیں گے تو وہ کسی دن آپ کے گلے بھی پڑے گا۔ تاریخ ایسے انتہا پسند گروہوں کے تجربات سے بھری پڑی ہے کہ ریاست کے ایک حصے نے انہیں سپورٹ کیا اور وہ اسی کے خلاف میدان میں اتر آئے۔

تحریک لبیک کے مارچ کو روکنے کے لئے ریاستی تشدد ان کےلئے حمائیت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

یہ ایک سیاسی ایشو ہے۔ ریاست پہلے اپنی سمت طے کرے۔ یہ پاکستان سے باہر مذہبی گروہوں کے اقتدار کے خلاف اور ملک کے اندر ان کو ہر طریقے سے اپنے کنٹرول میں رکھنے کے لئے کوشاں ہے۔

تحریک لبیک ایک انتہا پسند گروہ ہے جو ایک سے دوسرے واقعہ میں ریاست کو مذہبی انتہا پسندی میں دھکیلنے کے لئے کوشاں ہے۔ اس طرح وہ مسلسل اپنی سیاسی طاقت میں اضافہ کرتا ہے۔

اپنی حقیقی سمت طے کرنے میں ریاستی کنفیوژن مذہبی گروہوں کے ہاتھوں یرغمال بنتی نظر آتی ہے۔

ریاستی تشدد اس کا حل نہیں اور نہ ہی ریاست کے پاس اتنی نظریاتی بنیاد مضبوط ہے کہ وہ لبیک لبیک کہنے والوں پر گولیاں چلاتی رہے۔ ریاست ایسے گروہوں سے اپنے تمام رشتے ناطے توڑے بغیر ان کی طاقت کو بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

“پہلے پالنا اور پھر مارنا “ والی پالیسی بند کی جائے۔

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔