خبریں/تبصرے

امریکی سیاست دانوں اور سماجی کارکنوں کا کشمیریوں سے اظہار یکجہتی

(ڈیلاس، امریکہ) امریکی ریاست ٹیکساس کے ایوان نمائندگان کی رکن ٹیری میزا نے کہا ہے کہ وہ کشمیرکی آزادی اور تمام مظلوم اقوام کے حقوق کے لئے آواز اٹھاتی رہیں گی اور انہیں یقین ہے کہ ایک دن کشمیری بھی آزادی سے ہمکنار ہوں گے اور اپنے انسانی حقوق حاصل کر کے رہیں گے۔

وہ گزشتہ اتوار ڈیلاس میں ”کشمیر میں قیام امن کے مشترکہ لائحہ عمل“ کے موضوع پر ایک سیمینار سے خطاب کر رہی تھیں۔ سیمینار کا اہتمام ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ اور کشمیرگلوبل کونسل نے کیا تھا جس میں امریکہ کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں اور سماجی کارکنوں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

خواتین اور بچیوں کے حقوق کی علم بردار بیورلی ہل نے اس موقع پر کہا کہ ”میں اس سیمینار میں آپ اور کشمیریوں کے لئے امریکی یک جہتی کا پیغام لائی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کشمیر میں ان کے انسانی حقوق کوکچلنے کے لئے ظلم وستم دیکھتے ہیں تو ہمیں انتہائی دکھ ہوتا ہے۔“ انہوں نے بتایا کہ تمام فریقین کی باہمی رضامندی سے کشمیر کے مسئلے کا حل نکالنا چاہئے۔

سیمینار کے منتظم اور گلوبل کشمیر کونسل کے رہنما راجہ مظفر کا کہنا تھا کہ کونسل نے کشمیر کے تمام فریقین سے مذاکرات کے آغاز کے لئے بنیادی مسودہ تیار کیا ہے۔ اس دس نکات پر مشتمل قرارداد میں بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشمیریوں کے بنیادی حقوق کی حمایت، کشمیر سے چین، انڈیا اور پاکستانی فوجوں کے انخلا، کشمیریوں کو اپنے حق خودارادیت کے فیصلے کے مواقع، کونسل کی جانب سے کشمیر سینٹ کے قیام کی حمایت اور دوسرے مسائل پر بات چیت کی دعوت دی گئی ہے۔

سیمینار سے کونسل کے قائم مقام چیئرمین الطاف قادری، بین المذاہب ہم آہنگی کے رہنما مجیب قاضی، کشمیری پنڈت رہنما حسن اور ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ کے بورڈ ممبران سید فیاض حسن اور توصیف کمال نے بھی کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کے علاوہ نوجوان امریکی کشمیریوں کی تنظیم کے نمائندوں محی الدین، ذوالقرنین اور شعبان خان نے بھی دس نکاتی ایجنڈے کی اہمیت پر زور دیا۔