تاریخ

152 ویں سالگرہ مبارک

ٹیڈ گرانٹ

انقلابِ روس کے قائد ولادیمیر لینن کی 152 ویں سالگرہ کے موقع پر ان کے حوالے سے ٹیڈ گرانٹ کی کتاب ’’روس انقلاب سے رد انقلاب تک‘‘ میں لکھا گیا آرٹیکل قارئین کے لئے خصوصی طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔

 

برطانوی وزیراعظم جارج لائڈ نے وارسائی امن کانفرنس کے موقع پر کلیمن چاؤ کو ایک خفیہ یاداشت میں لکھا کہ ’’انقلابی جوش تمام یورپ میں سرایت کر گیا ہے۔ جن سے پہلے والے حالات کیخلاف محنت کشوں میں نہ صرف گہری بے چینی کا احساس پایا جاتا ہے بلکہ غصہ اور بغاوت بھی۔ موجودہ نظام کے سیاسی، سماجی اور معاشی پہلوؤں پر آبادی کی اکثریت کی طرف سے یورپ کے ایک سرے سے لیکر دوسرے سرے تک سوالات اٹھائے جارہے ہیں۔‘‘

غیر ملکی مداخلت کے خاتمے کے ساتھ ہی سرخ فوج نے فوراً سفید افواج کی باقیات کا صفایا کر دیا۔ یورپ میں انقلاب کی خبر نے بالشویک کارل راڈک کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا کہ ’’عالمی انقلاب آچکا تھا۔ عوام نے اس کے آہنی قدموں کی آہٹ سنی، ہماری تنہائی ختم ہو گئی تھی۔‘‘ مگر یہ بات المناک طور پر قبل از وقت ثابت ہوئی۔ انقلاب کی پہلی لہر نے اقتدار سوشل ڈیموکریٹ لیڈروں کے ہاتھوں میں دے دیا جنہوں نے تحریک کو غلط راستے پر ڈال کر اس سے غداری کی۔ لینن نے یورپی انقلاب کی پہلی لہر کی پسپائی کو ایک زبردست صدمہ خیال کیا جس سے ایک عرصے کیلئے سوویت ریپبلک تنہا رہ گئی۔ یہ کوئی ضمنی بات نہیں تھی بلکہ انقلاب کیلئے زندگی موت کا معاملہ تھا۔ لینن اور دوسرے بالشویک لیڈروں نے یہ بات بہت واضح کر دی تھی کہ اگر انقلاب کو مغرب تک نہ پھیلایا گیا تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔

7 مارچ 1918ء کو لینن نے صورت حال کا جائزہ لیا

’’اگر ہم تنہا رہ گئے اور دوسرے ممالک میں انقلابی تحریکیں نہ ابھریں تو عالمی تاریخی نقطۂ نظر کے حوالے سے ہمارے انقلاب کی حتمی فتح کی کوئی امید باقی نہیں رہے گی۔ جب بالشویک پارٹی نے تنہا کام کرنے کا بیڑا اٹھایا تو اسے کامل یقین تھا کہ تمام ممالک میں انقلاب پختہ ہو رہا ہے اور شروع میں تو نہیں مگر آخر کار چاہے ہمیں کتنی بھی مشکلات پیش آئیں، چاہے ہمیں کتنی ہی شکستوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے، عالمی انقلاب آئے گا کیونکہ وہ آرہا ہے، پختہ ہو گا کیونکہ وہ پختہ ہو رہا ہے اور بالآخر مکمل طو رپر پختہ ہو جائے گا۔ میں پھر دہراتا ہوں کہ ان تمام مشکلات سے ہماری نجات کا ذریعہ ایک کل یورپ انقلاب ہے۔‘‘

وہ آخر میں کہتا ہے کہ ’’ہر حال میں اور تمام قابل تصور صورتوں میں ہمارا تباہ ہونا یقینی ہے اگر جرمن انقلاب وقوع پذیر نہ ہوا تو۔‘‘

کئی ہفتوں بعد اس نے اسی پوزیشن کو دہرایا کہ ’’ہماری پسماندگی نے ہمیں اگلی صف میں لا کھڑا کیا ہے اور اگر ہم اس وقت تک نہ ڈٹے رہے جب تک دوسرے ملکوں میں انقلاب لانے والے مزدوروں سے زبردست امداد نہیں ملتی تو ہم ختم ہو جائیں گے۔‘‘

بنیادی فریضہ یہ تھا کہ جتنی دیر تک ممکن ہو اقتدار پر قبضہ برقرار رکھا جائے۔ لینن نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ سوویت ریاست کسی لمبے عرصے کیلئے تنہا رہ جائے گی۔ یا تو یہ تنہائی ختم ہو جائے گی یا سوویت حکومت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ ہر شے کا انحصار عالمی انقلاب پر تھا۔ اس تاخیر نے بہت سی مشکلات پیدا کیں جن کے گہرے نتائج برآمد ہوئے۔ ریاست کے رفتہ رفتہ مٹنے کی بجائے اس کے برعکس عمل واقع ہوا۔ بدحالی کی وجہ سے، جس میں خانہ جنگی کے باعث مزید اضافہ ہوا تھا، مارکس کے بقول ’’انفرادی بقا کی جدوجہد‘‘ غائب ہونے یا دھیمی پڑنے کی بجائے آنے والے برسوں میں انتہائی شدت اختیار کر گئی۔ انتہائی ترقی یافتہ سرمایہ داری کی بنیاد پر تعمیر کی بجائے سوویت ریاست قبل از سوشلزم اور قبل از سرمایہ داری کے مسائل پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اب فریضہ یہ بن گیا کہ ’’امریکہ اور یورپ کے مقابلے میں ترقی کی جائے۔‘‘ یہ بات مارکس کی ’’کمیونزم کے پہلے درجے‘‘ والی سوچ سے بہت مختلف تھی۔ بالشویک ان معاشی اور ثقافتی مسائل کو حل کرنے پر مجبور تھے جن پر عرصہ ہوا مغرب میں قابو پا لیا گیا تھا۔ لینن نے ایک بار اعلان کیا تھا کہ سوشلزم کا مطلب ’’سوویت اقتدار اور بجلی کی فراہمی‘‘ ہے جس کا مقصد ایک بنیادی فریضے کی نشاندہی کرنا تھا۔

یہ ’’سوشلزم کے روسی راستے‘‘ کی ترکیب نہیں تھی بلکہ معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اسے ہمیشہ عالمی انقلاب کے پیش منظر سے جوڑا گیا تھا۔ یہ مزدور ریاست کی تنہائی پر قابو پانے کی کوشش تھی جسے ہر طرف سے جارح سرمایہ دار ریاستوں نے گھیر رکھا تھا۔ روس کی انتہا درجے کی پسماندگی اور انقلاب کے محدود ہونے سے سوویت مزدور طبقے پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے۔ خانہ جنگی، قحط اور جسمانی تھکن نے انہیں سیاسی سرد مہری کا شکار کر دیا اور پارٹی و ریاست کی بقا کو یقینی بنانے کیلئے بین الاقوامی مدد کی ضرورت تھی۔ بالشویک صرف اتنا ہی کر سکتے تھے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود جب تک ممکن ہو اقتدار پر قبضہ برقرار رکھیں یہاں تک کہ مغرب سے کمک پہنچ جائے۔ ٹراٹسکی نے 1923ء میں لکھا، ’’تاریخ بلا قیمت کچھ نہیں دیتی۔ ایک بار سیاست میں رعایت دینے کے بعد وہ ہم سے ثقافت میں زیادہ قیمت کا مطالبہ کرتی ہے۔ جتنی آسانی سے (بے شک نسبتاً) روسی پرولتاریہ انقلابی بحران سے گزرا تھا سوشلسٹ تعمیر کا کام اب اتنا ہی زیادہ دشوار ہو گیا ہے۔‘‘

عالمی انقلاب کی ضرورت پر لینن کی پوزیشن کو شک و شبے سے بالا ثابت کرنا بہت مشکل نہیں ہو گا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اس کا خیال تھا کہ اگر سوویت ریاست اپنی تنہائی کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہوئی تو اکتوبر انقلاب زیادہ عرصے تک برقرار نہیں رہ سکے گا۔ انقلاب کے بعد لینن کی تحریروں اور تقریروں میں اس خیال کا بارہا اعادہ کیا گیا۔ ذیل میں ہم اس کی محض کچھ مثالیں دے رہے ہیں۔ ان میں بے شمار اضافہ کیا جا سکتا ہے:

24 جنوری 1918ء

’’ہم ابھی سرمایہ داری سے سوشلزم تک کے عبوری دور کو مکمل کرنے سے بہت دور ہیں۔ ہم اس بارے میں کبھی بھی بہت زیادہ پر امید نہیں رہے کہ ہم بین الاقوامی پرولتاریہ کی مدد کے بغیر ایسا کر سکتے ہیں۔ ہم اس سلسلے میں کبھی خوش فہمی کا شکار نہیں رہے۔ کسی ایک ملک میں سوشلزم کی حتمی فتح بلاشبہ ناممکن ہے۔ سوویت اقتدار کی بالا دستی کو قائم رکھنے والا ہمارا مزدوروں اور کسانوں پر مشتمل جتھہ عظیم عالمی فوج کے جتھوں میں سے ایک ہے جو ( فی الحال) عالمی جنگ کی وجہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں لیکن متحد ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اب ہم واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں کہ انقلاب کا ارتقا کس حد تک ہو گا۔ روسیوں نے اسے شروع کیا جرمن، فرانسیسی اور برطانوی اسے انجام تک پہنچائیں گے اور سوشلزم فتح یاب ہو گا۔‘‘

8 مارچ 1918ء

’’کانگریس کا خیال ہے کہ روس میں فتح یاب ہونے والے سوشلسٹ انقلاب کو مستحکم بنانے کی واحد قابل اعتماد ضمانت یہ ہے کہ اسے عالمی مزدور طبقے کے انقلاب میں تبدیل کر دیا جائے۔‘‘

23 اپریل 1918ء

’’ہمیں آخری فتح صرف اس وقت حاصل ہو گی جب ہم آخر کار فیصلہ کن طور پر عالمی سامراج کو پاش پاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے جو آلات اور تنظیم کی بے پناہ قوت پر انحصار کرتا ہے۔ مگر ہم تمام ملکوں اور تمام دنیا کے مزدوروں کے ساتھ مل کر ہی فتح حاصل کریں گے۔‘‘

14 مئی 1918ء

’’اس وقت تک انتظار کا مطلب جب تک مزدور طبقات عالمی پیمانے پر انقلاب برپا نہیں کرتے، یہ ہے کہ ہر کوئی ہوا میں معلق رہے گا۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کسی ایک ملک میں شاندار کامیابی کے ساتھ شروع ہواور پھر اذیت ناک ادوار سے گزرے کیونکہ آخری فتح صرف عالمی پیمانے پر اور تمام ممالک کے مزدوروں کی مشترکہ کاوشوں سے ہی ممکن ہے۔‘‘

29 جولائی 1918ء

’’ہمیں یہ خوش فہمی کبھی نہیں رہی کہ کسی ایک ملک کا پرولتاریہ اور انقلابی عوام کی طاقت، چاہے وہ کتنے بھی بہادر اور منظم کیوں نہ ہوں، بین الاقوامی سامراج کا تختہ الٹ سکتے ہیں۔ ایسا صرف عالمی مزدوروں کی مشترکہ کوششوں سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم نے خود کو کبھی یہ سوچ کر دھوکہ نہیں دیا کہ کسی واحد ملک کی کوششوں سے ایسا کیا جا سکتا ہے۔ ہم جانتے تھے کہ ہماری کاوشیں ناگزیر طور پر ایک عالمی انقلاب کی طرف جا رہی ہیں اور یہ کہ سامراجی حکومتوں کی شروع کردہ جنگ بذات خود ان حکومتوں کی کوششوں سے ختم نہیں ہو سکتی۔ یہ صرف تمام مزدوروں کی کوشش سے ختم ہو سکتی ہے اور جب ہم اقتدار میں آئے تو ہمارا فریضہ یہ تھا کہ اس اقتدار کو اور سوشلزم کی اس مشعل کو جلائے رکھیں تاکہ یہ زیادہ سے زیادہ چنگاریاں بکھیر کر سوشلسٹ انقلاب کے بڑھتے ہوئے شعلوں کو مزید بھڑکائے۔‘‘

8 نومبر 1918ء

’’اکتوبر انقلاب کے آغاز ہی سے خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات ہمارے سامنے سب سے بڑا سوال رہے ہیں۔ محض اس لئے نہیں کہ اب دنیا کی تمام ریاستیں سامراج کے ذریعے مضبوطی سے ایک غلیظ اور خون آشام اکائی میں جوڑی جا رہی ہیں۔ بلکہ اس لئے کہ کسی واحد ملک میں سوشلسٹ انقلاب کی مکمل فتح ناقابل تصور ہے اور کم از کم کئی ترقی یافتہ ممالک کے انتہائی سرگرم تعاون کا تقاضا کرتی ہے جن میں روس شامل نہیں ہے۔ ہم عالمی پرولتاری انقلاب سے کبھی بھی اتنے قریب نہیں ہوئے جتنے اس وقت ہیں۔ ہم نے ثابت کر دیا کہ عالمی مزدور انقلاب پر تکیہ کرنے میں ہم غلطی پر نہیں تھے۔ اگر وہ کسی ایک ملک کو دبا بھی لیتے ہیں تو بھی وہ عالمی پرولتاری انقلاب کو کبھی نہیں دبا سکیں گے۔ وہ صرف اس آگ پر تیل چھڑکیں گے جس سے وہ سب جل کر راکھ ہو جائیں گے۔‘‘

20 نومبر 1918ء

’’ہمارے روسی انقلاب کی ایک سوشلسٹ انقلاب میں تبدیلی کوئی مشکوک مہم نہیں بلکہ ایک ضرورت تھی کیونکہ کوئی دوسرا نعم البدل موجود نہیں تھا۔ اگر عالمی سوشلسٹ انقلاب یا عالمی بالشوازم کامیاب نہیں ہوا تو برطانوی، فرانسیسی اور امریکی سامراج ناگزیر طور پر روس کی آزادی و خودمختاری کو ختم کر دے گا۔‘‘

مارچ 1919ء

’’عالمی پیمانے پر مکمل اور آخری فتح صرف روس میں ہی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ یہ صرف اس وقت حاصل ہو سکتی ہے جب کم از کم سارے ترقی یافتہ ممالک میں پرولتاریہ فتح یاب ہو یا بہر صورت بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک میں سے کچھ کے اندر۔ اسی وقت ہم مکمل اعتماد کے ساتھ یہ کہنے کے قابل ہونگے کہ پرولتاریہ نے اپنے مقاصد میں کامیابی حاصل کر لی ہے اور ہمارا پہلا مقصد یعنی سرمایہ داری کا تختہ الٹنے کا مقصد حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور یہ ہمیں ایک دوسرا فرض سونپتا ہے۔ کیونکہ سوویت اقتدار قائم ہو چکا ہے، بورژوازی کا تختہ ایک ملک میں الٹا جا چکا ہے، دوسرا فریضہ ایک مختلف سطح پر، عالمی پیمانے پر جدوجہد کا ہے، ایک پرولتاریہ ریاست کی جدوجہد کا جو سرمایہ دار ریاستوں میں گھری ہوئی ہے۔‘‘

5 دسمبر 1919ء

’’اکتوبر سے پہلے اور اکتوبر کے بعد بھی ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم خود کو صرف اور صرف عالمی پرولتاری فوج کے جتھوں میں سے ایک جتھہ سمجھتے ہیں۔ ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ سوشلسٹ انقلاب کی فتح کو صرف اسی وقت سمجھا جا سکتا ہے جب یہ کم از کم کئی ترقی یافتہ ممالک کے پرولتاریہ کی فتح بن جائے۔‘‘

20 نومبر 1920ء

’’منشویکوں کا دعویٰ تھا کہ ہم نے اپنے طور پر عالمی بورژوازی کو شکست دینے کا تہیہ کیا ہوا ہے۔ تاہم ہم نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم عالمی انقلاب کی زنجیر کی ایک کڑی ہیں اور ہم نے کبھی بھی اپنے ذرائع سے فتح کے حصول کو اپنا مقصد نہیں بنایا۔‘‘

فروری 1922ء

’’لیکن ہم نے اپنی سوشلسٹ معیشت کی بنیاد رکھنے کا کام ابھی مکمل نہیں کیا اور قریب المرگ سرمایہ داری کی جارح قوتیں ہمیں اب بھی اس سے محروم کر سکتی ہیں۔ ہمیں واضح طور پر اسے سمجھنا اور تسلیم کرنا چاہیے کیونکہ جھوٹے خوابوں سے زیادہ خطرناک کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ اور اس کڑوی حقیقت کو تسلیم کرنا کوئی بہت خوفناک بات نہیں کیونکہ ہم نے ہمیشہ مارکسزم کی اس بنیادی سچائی کو دہرایا اور اس پر زور دیا ہے کہ سوشلزم کی فتح کیلئے کئی ترقی یافتہ ممالک کے مزدوروں کی مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہوگی۔‘‘

لینن کی ناقابل مصالحت بین الاقوامیت کوئی جذباتی یوٹوپیا نہیں بلکہ اس کے برعکس صورتحال کی حقیقت پسندانہ تشخیص کی پیداوار تھی۔ لینن اس بات سے پوری طرح آگاہ تھا کہ سوشلزم کیلئے ضروری مادی حالات روس میں موجود نہیں ہیں مگر عالمی پیمانے پر موجود ہیں۔ عالمی سوشلسٹ انقلاب طبقاتی سماج کی وحشیانہ خصوصیات کے از سر نو زندہ نہ ہونے کی پیش بندی کرتا جنہیں مارکس ’’تمام تر پرانی بکواس‘‘ کہتا تھا۔ کیونکہ یہ اپنے آغاز ہی سے سرمایہ دار سماج سے زیادہ ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ لینن عالمی انقلاب کے پیش منظر پر اس قدر زور دیتا تھا اور اس نے کمیونسٹ انٹرنیشنل کی تعمیر کیلئے اتنا وقت اور توانائی خرچ کی۔

محنت کی نئی عالمی تقسیم اور پیداوار کی عالمی پیمانے پر منصوبہ بندی کی بنیاد پر پیداواری قوتوں کو بہت تیزی سے ترقی کرنے کی تحریک ملتی۔ فطرت پر غلبہ حاصل کرنے اور صحراؤں کو زرخیز میدانوں میں تبدیل کرنے کیلئے سائنس اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کیاجاتا۔ سرمایہ داری کے ہاتھوں ہونے والے زبردست ضیاع اور کرہ ارض کی تباہی کو روکا جا سکتا تھا۔ ایک آدھ نسل کے دوران سوشلزم کیلئے مادی بنیاد رکھی جا سکتی تھی۔ کچھ عرصے میں پیداوار میں زبردست اضافہ تمام مادی ناہمواریاں ختم کر کے اشیا کی ایسی افراط پیدا کرتا جس سے معیار زندگی عالمی پیمانے پر بے مثال سطح تک بلند ہو جاتا۔ ایسی عالمی معاشی منصوبہ بندی کے ذریعے تمام بنیادی انسانی ضروریات کی تسکین ممکن ہو جاتی۔ اس کے نتیجے میں طبقات سماج کے اندر ضم ہو جاتے اور ان کے ساتھ ساتھ طبقاتی سماج کی باقیات یعنی پیسہ اور ریاست بھی۔ اس سے حقیقی کمیونزم کو فروغ حاصل ہوتا اور انسان پر انسان کے غلبے کی جگہ اینگلز کے بقول ’’چیزوں کا انتظام‘‘ لے لیتا۔

لیکن سرمایہ داری کا تختہ اس ترتیب سے نہیں الٹا گیا۔ سرمایہ دار ترقی یافتہ صنعتی ممالک میں مزدور طبقے کے برسر اقتدار آنے کی بجائے لینن کے الفاظ میں سرمایہ داری ’’اپنی کمزور ترین کڑی‘‘ سے ٹوٹ گئی۔ عالمی سرمایہ داری کے دیوالیہ پن کی قیمت کمزور روسی سرمایہ داری نے ادا کی۔ روسی بورژوازی بہت تاخیر سے تاریخی دھارے میں شامل ہوئی تھی اور قومی جمہوری انقلاب کے ان تقاضوں کو پورا کرنے سے قاصر تھی جو عرصہ ہوا مغرب میں پورے کئے جا چکے تھے۔ تاہم نا ہموار اور مشترکہ ترقی کے اصول کے تحت بیرونی سرمائے نے روس کے شہروں میں انتہائی جدید اور بڑی بڑی صنعتیں قائم کر دی تھیں جن کی وجہ سے کسان کی جڑیں اکھڑ گئیں اور وہ راتوں رات صنعتی مزدور بن گیا۔ تجربے کی بنیاد پر اس نئے مزدور طبقے کا جھکاؤ مزدور تحریک کے انتہائی جدید تصورات کی طرف ہوا جو اس کی ضروریات کی عکاسی کرتے تھے یعنی مارکسزم۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ پہلا پرولتاریہ طبقہ تھا جس نے سوشلسٹ انقلاب کو انجام تک پہنچایا۔

اگر یہ انقلاب ایک عالمی انقلاب کاپیش خیمہ ثابت ہوتا تو اس حقیقت کی کوئی خاص اہمیت نہ ہوتی کہ روس ایک پسماندہ ملک تھا۔ لینن اور ٹراٹسکی کی قیادت میں بالشویک پارٹی کا یہی مقصد تھا۔ ’’سوشلزم انسانی ضروریات کی تسکین کیلئے ایک منصوبہ بند اور ہم آہنگ سماجی پیداوار کی تنظیم ہے۔ ذرائع پیداوار کی اجتماعی ملکیت ابھی سوشلزم نہیں بلکہ محض اس کی قانونی بنیاد ہے۔ سوشلسٹ سماج کے مسئلے کو پیداواری قوتوں کے مسئلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا جو انسانی ترقی کے موجودہ مرحلے پر اپنی نوعیت کے حوالے سے عالمی ہیں۔‘‘

اکتوبر انقلاب کو نئے عالمی سوشلسٹ نظام کی شروعات خیال کیا جاتا تھا۔

تاریخ ایک سیدھی لکیر میں نہیں بلکہ ناہموار اور مشترکہ ترقی کے اصولوں کے تحت آگے بڑھتی ہے۔ ایک پسماندہ ملک ترقی یافتہ ملک کی مادی اور ذہنی حاصلات کو من و عن نہیں بلکہ ایک متضاد انداز میں نقل کرتا ہے۔ قبل از سرمایہ داری اشکال پر انتہائی جدید ٹیکنیک اور ثقافت کی کندہ کاری تاریخی عمل میں مختلف مراحل کے عجیب و غریب اشتراک کا باعث بنتی ہے۔ مجموعی اعتبار سے ان کا ارتقا ایک غیر منصوبہ بند اور ملا جلا کردار اختیار کر لیتا ہے۔