Month: 2020 اکتوبر

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


خدا حافظ صدر ٹرمپ؟ پیش گوئیاں یا خوش فہمیاں!

صدر ٹرمپ نے ملک کو نسلی بنیادوں پر بھی تقسیم کرنے کی کوشش کی۔ افریقی امریکیوں پر پولیس کے تشدد اور ہلاکتوں پر ان کا رویہ ہمیشہ ناقبل فہم رہا۔ انہوں نے ان زیادتیوں پر ہونے والے احتجاج کو نہ صرف سختی سے دبانے کی کوشش کی بلکہ سفید فام لوگوں سے لاتعلقی سے انکار بھی کیا۔

جے کے ایل ایف کا لانگ مارچ: ’آزاد‘ کشمیر میں آزادی پسندوں پر تشدد

ہم جے کے ایل ایف کے لانگ مارچ کے خلاف ریاستی تشدد اور قیادت کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ ہم قائدین کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ کرتے ہیں۔ ہمارا موقف ہے کہ جوطبقے ریاست جموں کشمیر کے باشندگان کے چھوٹے سے پر امن جمہوری اظہار کو برداشت نہیں کر سکتے، وہ ان کے استصواب رائے کے حق کی بات کرنے کا بھی حق نہیں رکھتے۔

پی ٹی آئی حکومت کی معاشی نالائقیاں: صرف اسد عمر نے 743 ارب کا نقصان پہنچایا

اس میں شک نہیں کہ حکومتی فیصلوں کی وجہ سے غربت اور بھوک میں اضافہ ہوا۔ حکومت یہ فیصلہ بھی لے سکتی تھی کہ بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دولت کی تقسیم پر توجہ دیتی، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بجٹ بڑھاتی، فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کرتی اور ٹریڈ یونین کو مضبوط کرتی تا کہ مالکان تنخواہوں میں کمی نہ کر سکتے۔ پی ٹی آئی حکومت نے اس کے بالکل الٹ کیا کیونکہ غربت کا خاتمہ، شرح خواندگی میں اضافہ یا بچوں میں کم خوراکی کا مسئلہ حل کرنا پی ٹی آئی حکومت کی ترجیح تھی ہی نہیں۔