Month: 2021 دسمبر


کابل میں ’فتح مکہ‘ منانے والا پاکستانی میڈیا اب افغانستان پر خاموش کیوں؟

اگر مان بھی لیا جائے کہ کوئی نیا نظام اسلامی امارات افغانستان میں نافذ ہو رہا ہے تو ایک نظر افغانستان کے حالات پر ہی ڈال لیتے ہیں جہاں غربت کا ننگا ناچ جاری ہے، آزادی اظہار رائے کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے، صحافیوں کو مارا جا رہا ہے ہراساں کیا جا رہا ہے، عورتوں کے حقوق کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے، بھوک نے تہذیب کے آداب چھین لیے ہیں، لوگ اپنے بچے بیچ رہے ہیں، گھر کا سامان تو کئی خاندانوں کا پہلے ہی بک چکا ہے۔

انٹر پارلیمنٹری یونین کا علی وزیر کے ٹرائل کی نگرانی کیلئے مبصر بھیجنے کا اعلان

پاکستان کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اس اجلاس سے خطاب بھی کیا۔ تاہم ممبر قومی اسمبلی محسن داوڑ نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے ممبران اسمبلی کو اس اجلاس سے نہ صرف لاعلم رکھا بلکہ پوری کوشش کی گئی کہ اپوزیشن میں سے کوئی بھی رکن اسمبلی اس اجلاس میں شریک نہ ہو سکے۔

ٹی وی نے ہمیں زنانہ اور مردانہ ڈبوں میں تقسیم کر دیا ہے: اصغر ندیم سید

معاشرے میں پھیلی تنگ نظری اور تعصب کی ذمہ داری نہ تو تعلیم پر ہے نہ شاعر پر۔ یہ حکومت پر ہے کہ اس کا قانون، اس کی پارلیمنٹ، اس کا انصاف کا نظام اور اس کا انتظامی ڈھانچہ بے حد کمزور ہے اور یہ یر غمال ہو چکا ہے۔ انتہاپسند جماعتوں اور تنظیموں نے فوج اور اس کے اداروں کو کب کا یرغمال بنا دیا ہے۔ حکومت تو خود فوج کے گھٹنوں میں رہتی ہے۔

’آپ پنڈی کے ساتھ ہیں یا پشاور کے؟‘

کالم کے مطابق طاقتور افسرکی پشاور میں نواز شریف کے ایک نمائندہ سے ملاقات سے نہ تو راولپنڈی میں کوئی زیادہ خوشی محسوس کی گئی اور نہ ہی وزیر اعظم عمران خان زیادہ خوش ہوئے۔

’روٹی، کام، آزادی‘: کابل میں خواتین کے طالبان مخالف مظاہرے

افغانستان کی صورتحال کافی گھمبیر ہے اور خواتین اپنے تقریباً تمام حقوق کھو چکی ہیں، غربت اور بھوک نے لوگوں کو اپنے بچے اورگھریلو سامان بیچنے پر مجبور کر دیا ہے لیکن اس اذیت اور تکلیف کے باوجود افغان خواتین مزاحمت کیلئے اٹھ رہی ہیں اور طالبان کی سختیوں اور سخت قوانین سے انکار کر رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی ضمانت سوشلزم ہی دے سکتا ہے

نسل انسان نے زندہ رہنے کی تگ و دو میں طویل سفر طے کیا، مختلف مدارج سے گزرتے ہوئے آج اس مقام تک پہنچی، جہاں مادی ترقی کے حوالے سے اگر دیکھا جائے تو یقینا وہ ماضی کے کسی بھی دور سے زیادہ ترقی یافتہ ہے۔ انسانی شعور کا مادی ترقی سے تعلق ہمیں یہ ادراک حاصل کرنے میں آسانی فراہم کرتا ہے کہ انسانی شعور بھی ماضی کے انسان کی نسبت، مادی ترقی کی وساطت سے اپنے بلند ترین مقام پر ہے۔