تاریخ

سوویت روس 3 کروڑ کی تعداد میں 2 ہزار کتابیں دنیا بھر کی زبانوں میں شائع کرتا تھا

ٹونی پیسینوسکی

ترجمہ:ثوبان احمد

مشہور مصنف جان ریڈ ’دنیا کو جھنجوڑ دینے والے دس دن‘ میں لکھتا ہے کہ بالشویک انقلاب کی کامیابی کے بعد علم کی پیاس جو عرصہ دراز سے منجمد تھی، انقلاب کے ساتھ ہی اپنا پر جوش اظہار کرنے لگی۔ ”صرف سمولنی انسٹیٹیوٹ سے ہی شروع کے چھ ماہ روزانہ گاڑیاں اور ٹرینیں بھر بھر کر لٹریچر روانہ کیا جاتا تھا جو ملک کو سیراب کرتا تھا۔ روس اس لٹریچر کو ایسے جذب کرتا تھا جیسے گرم ریت پانی کو جذب کرتی ہے“۔

حال ہی میں شائع ہونے والی وجے پر شاد کی کتاب ’دی ایسٹ واز رِیڈ‘(The East Was Read) کے ابتدائیے ’مشرق پڑھتا تھا‘ کے مطابق”خواندگی مہم صرف روسی زبان میں ہی نہیں کی گئی بلکہ روس کی بے شمار قومیتوں کی زبان میں بھی کی گئی۔“ تیس سال بعد، دو جنگوں کی تباہ کاریوں کے باوجود، سوویت یونین کا ہر شہری لکھ اور پڑھ سکتا تھا، یہ ایک قابلِ غور کارنامہ تھا۔

’مشرق پڑھتا تھا‘ سوویت یونین میں صرف خواندگی یا کتابوں کی پیداوار، تقسیم اور کھپت کے بارے میں ہی ایک کتاب نہیں ہے۔ اس کا مقصد کافی بڑا ہے حالانکہ کتاب صرف 153 صفحات کی ہے۔

’مشرق پڑھتا تھا‘ کے مقاصد دو ہیں، سوویت کتابوں کی گم گشتہ روایت کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور ان کے پوری دنیا پر اثرات اور تیسری دنیا کے سوشلسٹ کلچر کو اجاگر کرنا۔

جیسا کہ پرشاد نے بیان کیا ہے: ”تیسری دنیا میں کئی نسلیں سوویت کتابوں کی اپنی الماریوں میں موجودگی کے ساتھ پروان چڑھی ہیں، جو کتابیں خریدسکتے تھے اْن کے پاس با تصویر سوویت بچوں کی کتابیں ہوتی تھیں، پھر ٹالسٹائی کے ایک دو البم، اْسکے بعد غالباً لینن کی کچھ تحریریں۔ یہی کتابیں تھیں، ناولوں سے لے کر ریاضی کی درسی کتابیں، جنہوں نے ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کو سیراب کیا، اْن خطوں میں قیمتی معلومات پہنچائیں جو خود اتنا وسیع عالمی ادب شائع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے تھے“۔

بھارتی مصنف پنکج مشرا اپنے لڑکپن میں سوویت میگزین ’سوویت لائف‘ کا اثر خود پر یاد کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں:”جب ڈاک سے نیا شمارہ آتا تھا میں اْس کے چمکدار صفحات کی خوشبو محسوس کرتا تھا اور اْن پر انگلیاں پھیرا کرتا تھا، میں سب سے زیادہ اْن صفحات پر آ کر رْکا کرتا تھا جس میں ینگ پائنیرز جو کہ کمیونسٹ بچوں کی تنظیم تھی، کی تصاویر ہوتی تھیں۔ میں دنیا بھر کے دوسرے کم عمر لوگوں کے ساتھ مہم جوئی اور رفاقت کا تصور کیا کرتا تھا۔“

تیسری دنیا کے کروڑوں کم عمر قاریوں کے لیے سوویت اور مشرقی یورپی لٹریچر وہ سستی درز تھی جس سے وہ ایک ناقابلِ رسائی دنیا کو دیکھتے تھے۔

پنکج مشرا بیان کرتے ہیں کہ یہ صرف سوویت یونین سے شائع شدہ کتابیں، میگزین، جرنلز اور اخبارات ہی نہیں تھے بلکہ سوویت یونین نے اْس وقت کی پوری ترقی پذیر دنیا میں پبلشنگ ہاؤسز اور کتابوں کی دکانوں کو قائم کیا تھا اور تعاون فراہم کیا تھا۔ خواندگی، تعلیم اور انقلاب کے لئے کی جانے والی ایک کاوش جو مشرقی یورپ میں سوشلزم کے انہدام کے ساتھ ہی ختم ہو گئی۔

نیو یارک یونیورسٹی میں روسی زبان کے اسسٹنٹ پروفیسر روزن جاگالوو اپنے ایک مضمون میں ماسکو میں واقع ’پروگریس پبلشرز‘ کا سرسری تذکرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”اشاعت کی تاریخ میں پروگریس سے زیادہ لسانیاتی طور پر پْرعزم پریس کبھی نہیں رہا“۔

1991ء تک پروگریس پبلشرز ایک دیو تھا جو سالانہ تقریباً دو ہزار نئی کتابیں جن کی تعداد اشاعت تین کروڑ تک ہوتی، دنیا کی تقریباً ہر زبان میں شائع کر رہا تھا۔ دنیا بھر میں کئی لوگ پروگریس کے باآسانی دستیاب ہو جانے والے، کم قیمت مگر بہترین معیار کے مارکسی ادب کو یاد کرتے ہیں، جس کا حصول ویسے مشکل تھا۔

’مشرق پڑھتا تھا‘ میں آپ نہ صرف سوویت یونین کی ملکی خواندگی مہمات اور پروگریس پبلشرز کے بارے میں جانیں گے بلکہ آپ بدیسی زبانوں کے اشاعت گھر کے بارے میں بھی پڑھ سکیں گے جو کہ پہلا سوویت پریس تھا جو غیر سوویت دنیا کے لیے اشاعت کرتا تھا۔

سب سے اہم یہ کہ آپ کو اندازہ ہو سکے گا کہ کم قیمت، بلند معیار کی کتابوں اور رسائل کی دنیا کے کروڑوں لوگوں کے نزدیک کیا اہمیت تھی جو اْن سے متاثر تھے۔ ایک اور معاون نے اضافہ کیا کہ ”ایک ایسے وقت میں جب فارن کا مطلب دور دراز، غیر ملکی ہوتا تھا تب یہ کتابیں ہمیں یورپ کے برفیلے میدانوں تک کئی جذباتی، سیاسی، سماجی اور طبعی حدود کو عبور کر کے ہمیں رسائی دیتی تھیں۔

’مشرق پڑھتا تھا‘ صرف کتابوں کے بارے میں ہی نہیں ہے بلکہ یہ اْس کلچر کے بارے میں ہے جس کا مقصد آزادی تھا۔ کتاب کا ایک باب 1968ء کی ہوانا میں منعقد ہونے والی کلچرل کانگریس بارے ہے۔

یہ کانگرس ایک عظیم واقع تھا۔ اس کو نہ صرف کیوبا بلکہ پوری تیسری دنیا کے لیے کلیدی اہمیت کا حامل مانا جاتا ہے۔ اِس کتاب میں سوشلسٹ سنیما اور شاعری پر بھی ابواب ہیں۔

بطور ایک مختصر کتاب’مشرق پڑھتا تھا‘ ایک بڑی کامیابی ہے۔ تمام ابواب ایک مکمل تصویر کا احاطہ کرتے ہیں جو کہ ناسٹالجیا… انسان کی ترقی کی صلاحیت، ارتقا اور تمام براعظموں اور پیڑھیوں سے یکجہتی برائے تعمیرِ خواندہ، تعلیم یافتہ، سوشلسٹ برادریِ اقوام… پر مشتمل ہے۔

یہ ایک منصوبہ تھاجو کہ سوویت یونین اور مشرقی یورپی ریاستوں کے انہدام کے ساتھ ہی بڑی حد تک بھلا دیا گیا۔

’مشرق پڑھتا تھا‘ ہمیں ایک دوسرے زمان و مکاں کے امکانات کی یاد دہانی کرواتی ہے۔ اس طرح یہ کتاب ہمیں مستقبل کے لیے اْمید بھی دیتی ہے۔ درحقیت یہ کتاب بہت اہم ہے!