دنیا

لاطینی امریکی باشندوں کی نقل مکانی خطے میں امریکی مداخلت کا نتیجہ ہے!

قیصر عباس

امریکہ میں اس وقت لاطینی امریکہ سے آئے ہوئے تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو اپنے ملکوں کو چھوڑکر امریکہ میں معاشی استحکا م کی تلاش میں یہا ں آئے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا بیانیہ اور میڈیا کی منفی کوریج کے نتیجے میں ان تارکین وطن کو جرائم پیشہ افراد کے طورپر دیکھا جا تا ہے جو امریکی شہریوں کے روزگار پر ڈاکہ ڈالنے اپنا ملک چھوڑ کر امریکہ بس گئے ہیں۔

بہت کم لوگ اس تاریخی حقیقت سے واقف ہیں کہ دراصل یہ لوگ اپنے ملکوں میں امریکی مداخلت کے نتیجے میں ہونے والے تشدد، اقتصادی مسائل اور سماجی افرا تفری سے نجات حاصل کرنے امریکہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے۔

اس تاریخی حقیقت کا اظہار واشنگٹن ڈی سی میں نیشنل پریس کلب کے ایک آئن لائن مذاکرے میں کیا گیا۔ اس پروگرام میں ’ہاروسٹ آف ایمپائر‘ دستاویزی فلم کی پروڈیوسر وینڈی تھامپسن اور معاون پروڈیوسر اور ہدائت کار ایڈوارڈو لوپیز نے کیا۔ یہ فلم اسی نام سے معروف صحافی ہوان گنزالس کی لکھی ہوئی کتاب پر بنا ئی گئی ہے جس میں تاریخی حوالوں اور اعدادوشمار کی بنیاد پر ان لاطینی امریکہ کے ملکوں کے سیاسی پس منظر پر بحث کی گئی ہے جن کے باشندوں کی ایک بڑی تعداد امریکہ نقل مکانی کرچکی ہے۔ دستاویزی فلم کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ لوگ اپنے سماج، تہذیب اور زبان کو کبھی چھوڑکر نہیں جاتے جب تک انہیں حالات مجبور نہیں کرتے۔

پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق امریکہ میں لاطینی امریکہ سے آئے ہوئے تارکین کی تعداد ساٹھ ملین کے قریب ہے جو ملکی آبادی کا 18 فیصد ہیں۔ یہ تارکین خطے کے 20 ملکوں کی نمائندگی کرتے ہیں اور ملکی معیشت (جی ڈی پی) میں ان کا حصہ 2.3 ٹریلین ڈالرزکے قریب ہے۔

پروگرام میں ایڈوارڈو نے کہا کہ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ لاطینی امریکہ کے جن ملکوں سے لوگ امریکہ منتقل ہوئے ہیں وہاں امریکی خارجہ پالیسی پورے زور شور سے متحرک رہی ہے۔ ان ملکوں میں کہیں تجارت اور کہیں نظریاتی مفادات کے پیش نظر امریکی سامراج نے مداخلت کی جس کے بعد یہاں بڑے پیمانے پر نہ صرف خون خرابہ بلکہ اقتصادی بحران اور سماجی بے چینی نے جنم لیا۔ صرف نکاراگوا کی سول وار کے نتیجے میں 50,000 لوگ مارے گئے تھے۔

ان ملکوں میں امریکی مداخلت سے پہلے بہت کم لوگ امریکہ آتے تھے لیکن اس کے بعد ملازمت کی تلاش میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد امریکہ آنے پر مجبورہوئی۔ ایل سلواڈور سے ہجرت کرنے والے لوگوں نے بڑے پیمانے پر یہاں ہونے والی سول وار کے بعدلوگوں نے نقل مکانی شروع کی۔ اس سول وار سے پہلے ان باشندوں کی تعداد امریکہ میں صرف 94,000 تھی لیکن اس بحران کے بعد یہ بڑھ کر دو ملین تک پہنچ گئی۔ یہاں امریکی مداخلت کا مقصد نظریاتی تھا۔

اس کے مقابلے میں گوئٹے مالا میں کیلے کی تجارت میں امریکی کمپنی کے مفادات کے تحفظ اور منافع کے لئے ملک کی برسر اقتدار حکومت کو امریکی سازش کے تحت کمیونسٹ قرار دے کراتاراگیا اور کٹھ پتلی حکومت قائم کی گئی جس نے امریکہ نوازپالیسیوں پر عمل درآمد کو ممکن بنایا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ کی مغربی سرحد کے بیشتر علاقے میکسکو کا حصہ تھے جن پر امریکہ نے بزور قبضہ کرکے اپنی سرحدوں کی توسیع کی۔ ان میں ٹیکساس اور دوسری ریاستوں کے بڑے حصے میکسکو میں شامل تھے۔ یہاں سے آنے والے تارکین وطن میں یہ مقبول فقر ہ کہ ’ہم نے سرحدپار نہیں کی، سرحدنے ہمیں پارکیا ہے‘ اس حقیقت کی جانب طنزیہ اشارہ ہے کہ امریکہ نے ان کے علاقوں پر قبضہ کرکے نئی سرحدیں قائم کی ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی لیڈرشپ میکسکو کے علاقوں پرتو قبضہ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کے شہریوں کو ملک سے باہر رکھنے کی کوشش میں تمام بڑی آبادیوں کے شہروں کو شامل نہیں کیاگیا۔ امریکہ کی ان سامراجی پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ لاطینی امریکہ سے آنے والے تارکین وطن کی سب سے بڑی تعداد میکسکوکے شہریوں کی ہے۔

فلم کی ہدائت کاروینڈی ٹھامپسن نے کہاکہ پورٹو ریکو میں گنے کی کاشت کی منافع بخش تجارت پر کنٹرول کے لئے اس علاقے کو امریکہ میں شامل کیا گیا۔ اگرچہ یہاں کے باشندے امریکی شہری ہیں لیکن یہ مسئلہ اب بھی یہا ں تنازعہ کا باعث بنا ہواہے۔

دستاویزی فلم میں لاطینی امریکہ کے تارکین وطن کے انٹرویو اور واقعات کے ذریعے ثابت کیا گیا ہے کہ اس خطے میں کیوبا، ڈومینکن رپبلک، نکاراگوا، گوئٹے مالا، میکسکواور ایل سلواڈور میں امریکہ کے کٹھ پتلی حکمرانوں نے اپنے مفادات اور تجارت کے تحفظ کے لئے اپنے شہریوں کا قتل عام جاری رکھا اور اور ان پر اندوہناک ظلم و ستم ڈھائے گئے۔ ان حالات کے نتیجے میں لاطینی امریکہ کے باسی نقل مکانی کرکے امریکہ آئے۔ لیکن امریکہ کے بیشتر لوگ اس تاریخی حقیقت سے واقف نہیں کیونکہ یہ قومی بیانئے یا تعلیمی نصا ب کا حصہ نہیں ہے۔

’ہاروسٹ آف ایمپائر‘ جیسی مشہور کتاب اور اس پر بنی دستاویزی فلم لوگوں کوتاریخی حقیقتوں اور کمزور ملکوں میں سامراجی سازشوں سے آگاہ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ پروگرام کے شرکاکو بتایا گیا کہ فلم کو نئے سیاسی حالات کے پیش نظر اپ ڈیٹ کرنے کو کوشش کی جارہی ہے اور اس کے دائرہ کارکو اسکولوں اور ملک کے پالیسی ساز اداروں تک بڑھایا جائے گا۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔