دنیا

کشمیر میں بھی بھارتی کسانوں کی حمایت میں ہڑتال

حارث قدیر

بھارتی زیر انتظام جموں کشمیر میں پھلوں کے کاشتکاروں نے ’بھارت بند‘ کی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے پھلوں کی منڈیوں میں تمام تر سرگرمیاں بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ’بھارت بند‘ در اصل بھارتی کسانوں کی جانب سے ملک گیر ہڑتال کی کال ہے، آج آٹھ دسمبر کو پورے ملک میں کسانوں کے تین مطالبات کیلئے یہ ہڑتال کی جا رہی ہے اور اپوزیشن کی تمام بڑی جماعتوں نے بھی کسانوں کی حمایت کر رکھی ہے۔

کشمیر ویلی پھل کاشتکاروں کی یونین کے چیئرمین اور نیو کشمیر فروٹ ایسوسی ایشن کے صدر بشیر احمد بشیر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”ہم منگل کو کسانوں کی طرف سے دی گئی ہڑتال کی کال کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ وادی کے تمام پھل کاشتکاروں کی انجمنوں کے صدور سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ ہر طرح کے کاروبار کیلئے اپنی تمام ترمنڈیاں بند کر دیں۔“

انہوں نے مزید کہا کہ ”کئی ہفتوں سے احتجاج کرنے والے کسانوں کی حمایت میں فروٹ منڈی سرینگر کی تمام دکانیں منگل کے روز بند رہیں گی۔ ہم چاہتے ہیں کہ کسانوں کے تمام مطالبات پورے ہوں کیونکہ وہ ہمارے معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔“

ایشیا کی دوسری بڑی فروٹ منڈی سوپور منگل کے روز اپنا کاروبار معطل رکھے گی، کشمیر میں پھلوں کا موسم عروج پر ہے اور پھل کاشت کار وادی کے مختلف مقامات پر منڈیوں میں پھل فروخت کر رہے ہیں۔

پھلوں کی تجارت جموں و کشمیر کی سب سے بڑی معاشی سرگرمیوں میں سے ایک ہے اور ہر سال تقریباً بیس ہزار میٹرک ٹن تازہ پھل تیار ہو کر پورے ملک میں جاتا ہے۔ پھلوں کی تجارت سے پچیس لاکھ سے زائد افراد براہ راست یا بالواسطہ طورپر وابستہ ہیں۔ حالیہ دنوں میں یہ پہلا موقع ہے جب کشمیر سے پھلوں کے کاشت کاروں نے کسی بھی ملک گیر ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

پھل کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ کسان حقیقی مطالبات کیلئے احتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت کو اپنا سخت رویہ ترک کرنا چاہیے اور کسان دشمن قوانین کو فوری منسوخ کرنا چاہیے۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔