دنیا

عرب بہار کے دس سال

جلبیر اشقر

دس سال پہلے، 17 دسمبر 2010ء کے دن تیونس کے وسط میں واقع سیدی بو عزیزی نامی قصبے میں ایک نوجوان خوانچہ فروش نے ایک ایسا سیاسی طوفان کھڑا کیا جس نے جلد ہی پورے ملک کو لپیٹ میں لے لیا۔ جلد ہی پورا خطہ اس طوفان کی لپیٹ میں تھا۔ 2011ء سے اس سیاسی طوفان کو عرب بہار کے نام سے جانا جاتا ہے۔

عرب بہار کے ابتدائی چند مہینے تو انتہائی پر جوش انداز میں گزرے۔ عوامی مظاہروں کی ایک لہر تھی جس نے کئی ملکوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ مجموعی طور پر چھ بڑی تحریکوں نے جنم لیا: مصر، یمن، بحرین، لیبیا، شام اور تیونس۔

ابتدائی ابھار کے بعد، انقلابی لہر دم توڑنے لگی اور رد انقلاب نے سر اٹھایا۔ بحرین میں انقلاب زیر حراست آیا اور اس کا قلع قمع کر دیا گیا۔ شامی رجیم عوامی ابھار کے مقابلے پر جما رہا تا آنکہ ملک میں ایک خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ 2013ء میں ایران اسد رجیم کی مدد کو آیا اوراسے بچایا۔

کچھ ہی عرصے کے بعد مصر میں فوج نے ایک رجعتی بغاوت کی جبکہ یمن اور لیبیا میں بھی خانہ جنگی کی صورت میں انقلاب کو مزید دھچکے لگے۔ اگر کوئی امیدیں باقی بچیں تھیں تو اس کے بعد دم توڑ گئیں۔ جوش و خروش کی جگہ نا امیدی نے لے لی۔ بہت سے حلقے یہ کہنے لگے کہ عرب بہارکا سپنا ٹوٹ گیا ہے۔

ابتدائی جوش و خروش اور فوری بعد جنم لینے والی نا امیدی،دونوں ہی اُن مصنوعی تاثرات کا نتیجہ تھیں جو پہلے انقلاب کی ابتدا اور بعد ازاں انقلاب کی پسپائی بارے قائم کئے گئے تھے۔ جوش و خروش تھا یا نا امیدی، دونوں صورتوں میں متعلقہ حلقوں نے اس دھماکہ خیز عملہ کے دو بنیادی خصوصیات کو نظر انداز کیا۔

پہلی خصوصیت: اس دھماکے کی وجہ وہ سٹرکچرل بحران تھا جس کی وجہ سے رائج الوقت سیاسی و سماجی نظام ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن چکا تھا۔ نتیجہ یہ کہ معاشی نمو نہ ہونے کے برابر تھی۔ بے روزگاری، بالخصوص نوجوانوں اور خواتین میں، انتہاوں کو چھو رہی تھی۔

انقلابی لہر کے دم توڑنے اور رد انقلابی حملے نے اس بنیادی بحران سے نپٹنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے یہ بحران پہلے سے بھی گہرا ہو گیا جو بحران کی ابتدا میں پیدا ہوا تھا۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ 2011ء میں جو عمل شروع ہوا تھا وہ ایک طویل المدت انقلابی عمل کی ابتدا تھی۔ یہ عمل اس وقت تک جاری رہے گا جب تک رائج الوقت سیاسی و سماجی ڈھانچے میں بنیادی نوع کی ضروری تبدیلی نہیں آ جاتی۔ اگر یہ تبدیلی نہ آئی تو خطرہ ہے کہ یہ خطہ خوفناک زوال کا شکار ہو سکتا ہے اور ایک تاریخی نوعیت کے سیاہ دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔

دوسری خصوصیت: عرب خطے میں سیاسی و سماجی نظام پر ریاستی طاقت کے اہم مہروں، بالخصوص فوج، پر بہت مضبوط کنٹرول۔ اس خصوصیت کو بھی نظر انداز کیا گیا۔

عرب بہار کے ابتدائی دنوں میں یہ توقع کہ خطے کے اندر اُسی طرح پر امن انداز میں جمہوری تبدیلی آنے والی ہے جس طرح دنیا کے بعض دیگر حصوں میں آئی، اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہوئے قائم کی گئی تھی کہ ریاست کے متشدد ادارے کتنے طاقتور ہیں یا یہ کہ حکمران طبقے اپنا اقتدار بچانے کے لئے ریاست کو ہی تباہ کرنے پر تیار ہو جائیں گے، اپنے ہی لوگوں کا قتل عام کرنے پر اتر آئیں گے یا ان کو بڑے پیمانے پر ہجرت پر مجبور کر دیں گے۔ شام اس کی ایک مثال ہے۔

مندرجہ بالا غلط توقع کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ تیونس اور مصر میں ’ڈیپ سٹیٹ‘ نے اپنے سر قربان کر دئے تا کہ دھڑ بچا لئے جائیں تا آنکہ ایک نیا سر نکل آئے۔ سر کی تبدیلی کو نظام کی تبدیلی، جو لوگوں کا اصل مطالبہ اور مقبول عام نعرہ تھا، سمجھ لیا گیا۔

ان دو خصوصیات کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مطلوبہ تبدیلی جوخطے کو درپیش بحران سے نکالنے کے لئے ضروری ہے، تب ہی آ سکتی ہے اگر قیادت، یا عوامی تحریک کے نمایاں حصے، میں زبردست انقلابی استقلال پایا جاتا ہو اور یہ قیادت لوگوں سے وفا دار رہے۔

انقلابی عمل کو منظم کرنے کے لئے ایسی قیادتیں لازمی ہیں تا کہ وہ ان امتحانات میں سرخرو ہو سکیں جو موجودہ حکمرانوں کو شکست دے سکیں اور ان حکمرانوں کی سماجی و فوجی حمایت کرنے والی پرتوں کو اپنے ساتھ ملا سکیں۔ ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو ریاست کو ایک ایسے ادارے میں تبدیل کر سکے جو اقلیت کے مفاد میں عوام سے خراج لینے کی بجائے محنت کش اکثریت کا تحفظ کرے۔ تا آنکہ ایسی قیادت یا تنظیم سامنے نہیں آتی اور عوامی حمایت حاصل نہیں کرتی، انقلابی عمل جاری رہے گا۔ کبھی پیش رفت نظر آئے گی۔ کبھی پسپائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انقلابی ابھار بھی دیکھنے کو ملیں گے اور رد انقلابی بدلے بھی دیکھنے کو ملیں گے۔

عرب بہار کی پہلی دہائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ یہ ایک طویل المدت عمل ہے۔ عرب بہار کی ناکا می (تین ملکوں میں خانہ جنگی جبکہ مصر میں پرانے حکمرانوں کی واپسی گو چہرہ بدل گیا ہے) سے خطے میں کوئی سماجی استحکام پیدا نہیں ہوا۔ سماجی ہنگامے اور سیاسی مظاہرے ایک کے بعد ایک ملک میں پھوٹتے رہے یا بعض اوقات ایک ہی ملک کے بعض حصوں میں ہنگامے اور مظاہرے دیکھنے میں آئے۔ جیسا کہ مراکش، تیونس، مصر، سوڈان، اردن، شام، عراق اور بعض دوسرے ممالک میں دیکھا گیا۔

عرب بہار کے آٹھ سال بعد دوسری لہر سامنے آئی۔ دو سال پہلے، 19 دسمبر 2018ء کو سوڈان میں ا بھار دیکھنے میں آیا۔ اس کے بعد الجزائر، پھر لبنان اور عراق میں عوامی تحریکوں نے جنم لیا۔ ان دس سالوں میں دس ممالک میں عوامی بغاوتیں سامنے آ چکی ہیں۔ گویا خطے کے نصف ممالک اور آدھی سے زیادہ آبادی انقلابی تجربات سے گزری ہے۔ علاوہ ازیں لگ بھگ ہر عرب ملک میں میں سماجی و سیاسی احتجاج کا سلسلہ بڑھتا ہو ادیکھ رہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ کرونا بحران کی وجہ سے نئے ابھار سامنے نہیں آئے اور پہلے سے جاری احتجاج جاری نہیں رہ پائے۔ کرونا زیادہ دیر اس عمل کو روک نہیں پائے گا۔ الٹا گہرا ہوتا ہوامعاشی بحران عوامی غصے کو اور بھی بڑھا دے گا۔

انقلابیوں کی موجودہ نسل، جو حالیہ بغاوتوں کے دوران سیاسی عمل کا حصہ بنے، ان کے لئے پہلی بنیادی شرط…تا کہ وہ بغاوت کو انقلاب میں بدل سکیں…وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی: یعنی قیادت۔ سیاسی و تنظیمی معنوں میں۔

عرب دنیا میں ہی نہیں بلکہ دنیا کے باقی حصوں میں بھی جہاں انقلابی ابھار دیکھنے میں آئے، وہاں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ باغیوں کی ایک نئی نسل پرانی طرز کی سیاسی و نظریاتی تنظیموں سے، درست طور پر، نالاں ہیں۔

انہیں معلوم ہے کہ ان تنظیموں پر نوکر شاہی کا قبضہ ہو گیا یا شخصیت پرستی غالب آ گئی۔ ان تنظیموں نے انہی اصولوں کی نفی کی جن کی وہ علامت بن کر سامنے آئیں تا کہ سماجی، سیاسی و ثقافتی جبر کا جواز مہیا کیا جا سکے۔

باغیوں کی نئی نسل افقی (Horizontal) طرز پر، گراس روٹس ڈھانچوں کو ترجیح دے رہی ہے۔ وہ درجہ بندی (Hierarchical) اور مرکزیت پر مبنی تنظیموں کی بجائے نیٹ ورک کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اس کا بہترین اظہار سوڈان میں دیکھنے میں آیا۔

سیاسی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر طویل المدت عمل کا نتیجہ علاقائی سطح پر دیکھنے میں آتا ہے۔ اس تاریخی اور طویل المدت عمل کے دوران ہر نسل اپنے تجربات اور ناکامیوں سے سیکھتی ہے، یہ اسباق ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتے ہیں، ایک ملک سے دوسرے ملک تک منتقل ہوتے ہیں۔

لہٰذا ہم دیکھ سکتے ہیں کہ دوسرے انقلابی ابھار…جسے بعض لوگ دوسری عرب بہار کا نام بھی دے رہے ہیں…سے اس طرح توقعات وابستہ نہیں کی گئیں جیسا کہ دس سال پہلے ہوا تھا۔ خطے کے تین ممالک کا موازنہ کافی ہو گا جہاں فوج کو بنیادی حیثیت حاصل ہے: مصر، سوڈان اور الجزائر۔

2011ء اور بعد ازاں 2013ء کے دوران مصر میں یہ غلط فہمی موجود تھی کہ فوج گویا کوئی ’نجات دہندہ‘ ہے۔ سوڈان اور الجزائر میں تحریک نے یہ غلطی نہیں دہرائی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ جمہوریت کی بحالی کے لئے ایک سویلین حکومت پیشگی شرط ہے۔

اسی طرح عراق اور لبنان میں تحریکیں فرقہ وارانہ تعصب کا شکار نہیں ہوئیں۔ دونوں ملکوں میں حکمران طبقہ فرقہ واریت کو استعمال کر کے اپنی حیثیت مستحکم کرتا رہا اور لوگوں کو تقسیم کرتا رہا۔

عوامی تحریک، بالخصوص نوجوانوں کی تحریک، جہاں آج کھڑی ہے وہاں سے ترقی پسندانہ اور انقلابی خواہشات کی تکمیل ابھی بہت دور کی منزل ہے۔ دریں اثنا رجعتی عرب نظام اس انقلابی ابھار سے نپٹنے کا بندوبست کر رہا ہے۔ جابر حکمران ایک دوسرے سے اتحاد کر رہے ہیں تا کہ اس انقلابی ابھار کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انقلابی نجات کا راستہ لمبا اور مشکل ہے مگر یہ شعور کہ اگر اس راستے پر نہ چلے تو انجام ذلت و بربادی کے سوا کچھ نہیں، لوگوں کو مجبور کر رہا ہے کہ یہ راستہ اختیار کریں۔

Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔