خبریں/تبصرے

کریمہ بلوچ کی موت کی تحقیقات کیلئے پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاج

لاہور (جدوجہد رپورٹ) کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں چند روز قبل پراسرار طور پر ہلاک ہونے والی بلوچ سیاسی کارکن کریمہ مہراب بلوچ کی موت کی تحقیقات کیلئے لاہور اور کراچی سمیت پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں اور پروگرامات منعقد کئے گئے۔

ان احتجاجی ریلیوں میں سینکڑوں کی تعداد میں خواتین، نوجوانوں اور ترقی پسند رہنماؤں نے شرکت کی۔ احتجاجی مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈ ز اٹھا رکھے تھے جن پر کریمہ بلوچ کی موت کی تحقیقات سمیت بلوچ کارکنوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک کے خاتمے سے متعلق تحریریں درج تھیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کریمہ بلوچ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف ایک توانا آواز تھیں، انکی موت کی غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں اور جو بھی ذمہ دار ہیں انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ کریمہ بلوچ نے ساری زندگی جدوجہد میں گزاری اور وہ ایک مضبوط اعصاب کی مالک تھیں اس لئے ان سے متعلق یہ کہنا درست نہیں ہو گا کہ انہوں نے خود اپنی جان لی۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ کریمہ بلوچ کواندرون ملک رہتے ہوئے اور کینیڈا میں بھی دھمکیاں مل رہی تھیں۔ انکو سیاسی سرگرمیوں اور انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے سے روکنے کی کوششیں ہو رہی تھیں اس لئے شفاف تحقیقات میں انکی موت کی وجہ سامنے آنا بہت ضروری ہے۔

مظاہرین نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جبری گمشدگیوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا اور جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کی فی الفور رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

واضح رہے کہ کریمہ مہراب بلوچ بی ایس او آزاد کی سابق چیئرمین تھیں اور وہ لمبے عرصے سے کینیڈا میں مقیم تھیں اور انسانی حقوق کیلئے آواز اٹھانے میں سرگرم عمل تھیں۔ بیس دسمبر کو وہ اچانک لاپتہ ہو گئی تھیں، ٹورنٹو پولیس کو انکی لاش 21 دسمبر کو انکی نعش ایک جزیرے کے قریب پانی سے ملی تھی۔