خبریں/تبصرے

احتجاج کرنیوالے طلبہ پر تشدد: اب مطالبات آن لائن امتحانات تک محدود نہیں رہیں گے

حارث قدیر

پاکستان کے مختلف شہروں میں یونیورسٹی طلبہ آن لائن امتحانات کے انعقاد کے مطالبہ کے گرد احتجاج کر رہے ہیں۔ کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں بھی ہوئی ہیں جن میں پتھراؤکے علاوہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا گیا۔ جھڑپوں میں متعدد طلبہ زخمی اور گرفتار ہوگئے ہیں۔

یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب (یو سی پی) لاہور اور این ایف سی یونیورسٹی فیصل آباد میں یونیورسٹی گارڈز نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے کئی طلبہ شدید زخمی ہوئے جبکہ جھڑپوں میں کچھ یونیورسٹی گارڈز کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ملک بھر میں یونیورسٹی طلبہ کا موقف ہے کہ کورونا وائرس کی وبا کے باعث تعلیمی ادارے بند رہے اور کلاسیں آن لائن ہی لی گئی ہیں اس لئے اب امتحانات بھی آن لائن ہی لئے جانے چاہئیں۔

وفاقی دارالحکومت میں طلبا نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے دفاتر کے باہر احتجاج کیا۔

لاہور اور فیصل آباد میں احتجاج کرنے والے یونیورسٹی طلبہ نے کیمپس کے باہر احتجاج کئے اور دونوں شہروں میں پولیس اور سکیورٹی گارڈز نے احتجاج کرنے والے طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

لاہور میں سنٹرل یونیورسٹی آف پنجاب کے طلبہ نے اپنے کیمپس کے باہر دھرنا دیا جہاں طلبہ صبح گیارہ بجے سے اکٹھا ہونا شروع ہو گئے تھے۔ انہوں نے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے اور انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔ یونیورسٹی گارڈز کی جانب سے تشدد کے باعث کم از کم 6 طلبہ زخمی ہوئے جن کے سر اور جسم کے دیگر اعضا میں شدید زخم آئے۔

فیصل آباد میں این ایف سی یونیورسٹی کے باہر ہونے والے احتجاج میں پانچ طلبہ زخمی ہوئے۔ تصادم میں ایک گارڈ کے بھی زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔

ضلع جڑانوالہ میں احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور 5 طلبہ کو گرفتار کئے جانے کی اطلاعات ہیں۔ نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی فیصل آباد کے طلبہ نے شیخوپورہ روڈ بند کر کے احتجاج کیا۔

نجی جامعات کے گارڈز کی جانب سے احتجاج کرنے والے طلبہ پر تشدد کے بعد طلبہ نے شدید رد عمل کا مظاہرہ کیا اور طلبہ تنظیموں نے نجی جامعات کے اس اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اب آن لائن امتحانات سے مطالبات آگے بڑھ چکے ہیں۔ اب تعلیم کے کاروبار کا خاتمہ اورتعلیم کے کاروبار میں ملوث مافیا کے خلاف احتجاج کا دائرہ کار وسیع کیا جائے گا اور جب تک تعلیم کی ہر سطح پر مفت اور سرکاری سطح پر فراہمی یقینی نہیں بنائی جاتی احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا۔

واضح رہے کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے امتحانات روایتی طریقے سے لئے جانے کا اعلان کیا تھا جس کے خلاف ملک بھر میں طلبہ گزشتہ تین روز سے احتجاج کر رہے ہیں۔

ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ آن لائن امتحانات کا انعقاد وسائل کی کمی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔ طلبہ کے احتجاج کے بعد امتحانات کے انعقاد سے متعلق ایچ ای سی کا اجلاس بھی بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو گیا ہے۔ میڈیا ذرائع کے مطابق جامعات کے وائس چانسلرز کی تجاویز میں اختلافات کی وجہ سے اجلاس بے نتیجہ ختم ہوا، آج بدھ کے روز دوبارہ اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا جس میں امتحانات کے آن لائن یا روایتی طریقہ سے لئے جانے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

انقلابی طلبہ محاذ (آر ایس ایف) کے مرکزی آرگنائزر اویس قرنی نے طلبہ پرتشدد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ذمہ داران کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب یہ احتجاج صرف آن لائن امتحانات تک محدود نہیں رہے گا، تعلیم کے کاروبار کے خاتمے سمیت تعلیم کا کاروبار کرنے والے مافیا کو جوابدہ بنانے تک یہ احتجاج جاری رکھا جائے گا۔

انکا کہنا تھاکہ تعلیم کے کاروبار کو تحفظ دینے کیلئے حکمرانوں نے ریاست کو جبر کے آلہ کے طو رپر استعمال کیا ہے۔ موجودہ احتجاج نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ریاست حقیقت میں سرمایہ داروں کے تحفظ کیلئے مسلح جتھوں کے علاوہ کچھ نہیں ہوتی۔ ہر سطح پر مفت اور جدید ترین تعلیم کی فراہمی طلبہ کا بنیادی انسانی حق ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اس حق کیلئے احتجاج کا راستہ اختیار کیا جائے۔

حقوق خلق موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر عمار علی جان نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب اور این ایف سی فیصل آباد میں طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیاجبکہ ایک روز قبل یو ایم ٹی میں طلبہ کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

جامعات کی طرف سے روایتی طریقے سے امتحانات لینے پر زور دینے کے پیچھے مالیاتی معاملات پوشیدہ ہیں۔ جامعات کے ذمہ داران یہ جانتے ہیں کہ آن لائن تعلیم کا معیار انتہائی خراب تھا، اس طریقہ سے وہ امتحانات نہیں لے سکتے۔ پرویز ہود بھائی جیسے سینئر ماہرین تعلیم نے بار بار آن لائن تعلیم کے بحران کی نشاندہی کی تھی لیکن اسے یکسر نظر انداز کیاگیا۔

انکا کہنا تھا کہ بیشتر طلبہ ناقص طریقہ تعلیم کی وجہ سے تعلیمی سیشن مکمل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے اور جامعات کے ذمہ داران یہ جانتے ہیں کہ طلبہ امتحانات میں ناکام ہو جائیں گے اور ایک سال کی اضافی فیس ادا کرنے پر مجبور ہونگے۔ روایتی طریقہ سے امتحانات پر اصرار کے ذریعے تعلیم کا کاروبار کرنے والا مافیا طلبہ کو مزید لوٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔

انکا کہنا تھا کہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیاں صورتحال کو بھانپ چکی ہیں اور اکثر طالبعلموں سے سمجھوتہ چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعلیم کی فراہمی کو نجی منافعوں کے حصول کیلئے استعمال کرنے کا طریقہ ترک کر دیا جانا چاہیے کیونکہ نوجوانوں کی زندگیوں، جذبات اور مستقبل کو لالچی افراد کی طرف سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت آن لائن تدریس کے معیار اور اب امتحانات کے فیصلہ کیلئے نجی جامعات کو جوابدہ بنانے کی بجائے تعلیم کا کاروبار کرنے والے مافیا کو بچانے کیلئے پنجاب پولیس کو غنڈہ گردی کیلئے استعمال کر رہی ہے جو شرمناک اقدام ہے۔

اس موقع پر جموں کشمیر نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن نے بھی مندرجہ ذیل مطالبات پیش کیے ہیں:

* تمام یونیورسٹیوں میں آن لائن لی گئی کلاسز کے لیے آن لائن امتحانات لیے جائیں۔
* آن لائن سمسٹرز کے دوران لی گئی فیسوں کا 50 فیصد فوراً واپس کیا جائے۔
* یونیورسٹی میں داخلے کے لیے بیان حلفی کی شرط ختم کی جائے۔
* طلبہ یونین کو فوراً بحال کر کے الیکشن شیڈیول جاری کیا جائے۔
* احتجاج میں شامل طلبہ پر بنائے گئے مقدمات ختم کیے جائیں۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔