مارکسی تعلیم

مارکسی تنقید کا طریقہ کار

فاروق سلہریا

تنقید سے عمومی طور پر مراد لی جاتی ہے مخالفت یا اختلاف رائے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ اتفاق رائے کی شکل میں بھی تنقیدیت کا اظہار کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی مدلل بات کر رہا ہے تو آپ دلیل سے اتفاق کر کے تنقیدی روئیے کا اظہار کریں گے۔

تنقید سے مراد کیا ہے؟

تنقید سے مراد ہے کسی مظہر کا ایک ایسا جائزہ لینا کہ ظاہر اور باطن کا فرق آشکار ہو جائے۔ ہیت اور جوہر میں اگر کوئی تضاد ہے تو سامنے آ جائے۔

ہر انسان اپنے فلسفے اور تربیت کے مطابق تنقید کرتا ہے۔ مارکس وادی، دھرم وادی، لبرل، پوسٹ ماڈرن، رجعت پسند…الغرض ایک ہی مسئلے پر طرح طرح کی تنقید اور تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔

اس مضمون کا مقصد یہ بات اجاگر کرنا ہے کہ تنقید کا مارکسی طریقہ کار سب سے بہتر ہے۔ اس کی وجہ خود بخود سمجھ میں آ جاتی ہے اگر ہم مارکسی طریقہ کار سے آگاہی حاصل کر لیں۔ ذیل میں مختصراََ اس طریقہ کارکی وضاحت کی جا رہی ہے۔

(۱) دلیل

بنیادی بات یہ ہے کہ مارکسی تنقید و تجزیہ دلیل کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ دلیل سے مراد وہ دعویٰ ہے جسے یا منطق کی مدد سے درست ثابت کیا جا سکتا ہے یا تجرباتی وتحقیقی ثبوت کی مدد سے۔

منطق کی وضاحت ایک آسان مثال سے کی جا سکتی ہے۔ فرض کیجئے رات کا وقت ہے۔ آپ سونے کے لئے بستر میں لیٹ چکے ہیں۔ آپ کو بارش کے قطروں کی آواز سنائی دیتی ہے۔ آپ کو باہر دیکھنے کی ضرورت نہیں۔ آپ منطقی انداز میں سوچتے ہوئے یہ دعویٰ کر سکتے ہیں کہ اگر بارش جاری رہی تو صبح جب آپ گھر سے نکلیں گے تو سڑکیں گیلی ہوں گی، یا اگر آپ کسی پس ماندہ علاقے میں رہتے ہیں تو سڑکیں پانی میں ڈوبی ملیں گی۔

بعض اوقات دلیل کا سہارا میسر نہیں ہوتا۔ ایسے میں ہم ثبوت جمع کرتے ہیں۔ اگر سائنسی عمل ہے تو لیبارٹری میں تجربے کی مدد سے ثبوت حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر کوئی سماجی یا معاشی عمل ہے تو اس کیلئے بھی تحقیق کے مختلف طریقہ ہائے کار وضع ہو چکے ہیں (یونیورسٹی یہی کام تو کرتی ہے)۔ تحقیق کے ہر طریقہ کار میں تھوڑی بہت خامی تو ہوتی ہے مگر ہم کم از کم اندازوں اور خواہشوں کی دنیا سے باہر نکل آتے ہیں۔ گویا دلیل سائنسی انداز سے کام کرنے کا نام ہے۔

مثال کے طور پر آج اگر مسلم لیگ یہ دعویٰ کرے کہ وہ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے تو اس کا اندازہ ووٹ کے ذریعے لگایا جا سکتا ہے (بشرطیکہ ووٹوں کی گنتی فرشتے نہ کریں)۔ یوں ووٹ ایک ایسا سائنسی عمل ہو گا جو دودھ کا دودھ ور پانی کا پانی کر دے گا (ہاں یہ الگ بحث ہو گی کہ کوئی سیاسی جماعت کیوں مقبول ہے)۔

گویا دلیل وہ طریقہ کار ہے جس کی بنیادپر ہم کسی بات یا دعویٰ کی صداقت کو پرکھ سکتے ہیں…لیکن دلیل محض مارکسزم کی میراث نہیں۔ لبرل یا رجعت پسند بھی دلیل کی بات کرتے ہیں۔ پھر مارکسی طریقہ کار بہتر کیسے ہوا؟

مختصر جواب یہ ہے کہ بعض اوقات مارکسزم کے مخالف فلسفے اور طریقہ کار دلیل کا سہارا ہی نہیں لیتے۔ دوم، دلیل کمزور بھی ہو سکتی ہے اور مضبوط بھی۔ مارکسزم ہمیں ایک مضبوط دلیل تعمیر کرنے کا طریقہ کار بتاتی ہے۔ اس طریقہ کار کی ابتدا ہوتی ہے معیشت کو تنقید کی بنیاد بنانے سے۔ گویا مارکسی طریقہ تنقید میں اگلااہم نقطہ ہے معیشت۔

(۲) معیشت مارکسی تنقید کی بنیاد ہے

مارکسزم کا دعویٰ ہے کہ بات سیاست کی ہو یا ثقافت اور عمرانیات و سماجیات کی، کسی بھی شعبے یا اس سے متعلقہ مسئلے کا گہرائی سے جائزہ لینا ہے تو موضوع کی معاشی بنیادوں کا مشاہدہ کرنا ہو گا۔

عام سی روز مرہ کی کوئی بھی مثال لے لیجئے۔ پاکستان کے ایک بورژوا خاندان میں ٹیبل مینرز (کھانے کے آداب)، گفتگو کا طریقہ، انداز گفتگو، لباس کی تراش خراش ایک محنت کش خاندان سے مختلف ہو گی۔ مارکسزم اس فرق کو طبقاتی فرق کے طور پر پیش کرے گی۔ لبرل حضرات عمومی طور پر تہذیب اور بد تہذیبی کے خانوں میں بانٹ کر جان چھڑا لیں گے۔

آج کل سینیٹ کے انتخابات اور ہارس ٹریڈنگ کا شور ہے۔ اتفاق سے ملک پر ایک ایسی جماعت کی حکومت ہے جو بدعنوانی ختم کرنے کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی۔ عمران خان ہمیں بتایا کرتے تھے کہ اگر ٹیم کا کپتان ٹھیک ہو تو بدعنوانی ختم ہو جاتی ہے۔ تازہ ویڈیو سے پتہ چلا کہ تحریک انصاف کے ارکان پارلیمنٹ ہی بیچے اور خریدے جا رہے تھے۔

دوسری جانب، مارکس وادی ایک عرصے سے کہتے چلے آ رہے ہیں کہ کرپشن کی وجہ افراد نہیں، نظام ہے، فرد نہیں نظام کو بدل کر ہی کرپشن کو کم یا ختم کیا جا سکتا ہے۔ کرپشن کی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگوں کے پاس بہت طاقت ہے اور سرمایہ دارانہ نظام میں طاقت سرمایہ دار کے پاس ہے۔ اگر وہ بدعنوانی نہیں کرے گا تو سیاست اور کاروبار دونوں سے باہر ہو جائے گا۔ موجودہ ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ نواز شریف نے چھانگا مانگا سے شروع کیا تھا جس کے جواب میں پیپلز پارٹی نے بھی ہارس ٹریڈنگ کا سلسلہ یہی کہہ کر شروع کیا تھا کہ اگر ہم نے ہارس ٹریڈنگ نہ کی تو بے نظیر بھٹو کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہو جائے گی۔ گویا بات افراد کی نہیں۔

یہی اقتصادی معاملات ہیں جن کی وجہ سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا جھگڑا کیا ہے اور پاکستان میں جمہوریت کیوں کمزور ہے۔ یا بات یہ مفروضہ قائم کیا گیا کہ مسلم لیگ ایک مقبول جماعت ہے۔ مسلم لیگ کی مقبولیت اس کے سرمائے کی طاقت کو بنیادی اہمیت دئیے بغیر نہیں سمجھی جا سکتی۔

یہ بات میڈیا بارے بھی کہی جا سکتی ہے۔ اگر ’روزنامہ جدوجہد‘ کے پاس جیو جتنا سرمایہ ہو تا تو اس کے قارئین کی تعداد کروڑوں میں ہوتی۔

گویا جہاں دیگر فلسوں اور تنقیدی طریقہ کار فرد یا اس قسم کے ڈھکوسلوں کا سہارا لیتے ہیں، مارکسزم مسئلے کی جڑ یعنی معاشیات سے بات شروع کرتی ہے۔

(۳) کلیت پر مبنی جائزہ

مارکسی طریقہ کار یہ ہے کہ کسی مسئلے کا جائزہ اس کے سیاق و سباق، حالات و واقعات کو مقامی و عالمی تناطر میں رکھ کر لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر آج کل نجی یونیورسٹیوں کے طلبہ سراپا احتجاج ہیں۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کا رونا رو رہے ہیں۔ نوجوان بے روزگاری سے تنگ ہیں۔

اگر ہم مین اسٹریم میڈیا یا سیاسی جماعتوں کی بیان بازی سنیں تو کوئی بھی آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک کا نام نہیں لیتا جس نے اَسی کی دہائی میں دیگر ملکوں کی طرح نئیو لبرل ایجنڈا ملک پر مسلط کیا۔ عموماً صرف حکومت کو مورد الزام ٹھرایا جاتا ہے۔ حکومت بلا شبہ مجرم ہے مگر مارکسزم تیسری دنیا کی ریاستوں اور اس کے حکمرانوں کو گماشتہ حکمران اسی لئے تو کہتی ہے کہ یہ حکمران نوکری سامراج کی کرتے ہیں اور سامراجی لوٹ مار میں معاونت فراہم کر کے اپنی دیہاڑی بھی لگاتے ہیں۔ اس لئے اگر نظام کو بدلنا ہے تو نہ صرف مقامی حکمران اشرافیہ سے جان چھڑانی ہے بلکہ سامراج کو بھی شکست دینی ہے۔

اسی طرح اگر پاکستان کے گونا گوں مسائل کو سمجھنا ہے یا ان کے حل تلاش کرنے ہیں تو دیکھنا پڑے گا پاکستانی ریاست کا کردار کیا ہے۔ دیگر پوسٹ کلونیل ممالک کی طرح پاکستانی ریاست بھی کلونیل ازم نے مسلط کی تھی۔ یہ ریاست اس طرح وجود میں نہیں آئی تھی جس طرح یورپ میں قومی ریاست (نیشن سٹیٹ) وجود میں آئی تھی۔ نتیجہ یہ کہ پاکستانی معیشت ایک ’Dependent Economy‘ ہے جو عالمی سامراجی معیشت کا حصہ ہے۔ یہاں اس طرح کی ترقی ممکن نہیں جو مغربی یورپ یا شمالی امریکہ اندر دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ تجزیہ ہمیں یہ وضاحت بھی پیش کرتا ہے کہ یہاں سرمایہ دار طبقہ وہ کردار ادا نہیں کر سکتا جو یورپ میں اس نے کیا۔ یہاں پی ڈی ایم آخر میں خفیہ ملاقاتیں کرتی ہی پائی جائے گی۔

ملکی سطح پر بھی یہ بات سمجھی جا سکتی ہے۔ بلوچستان کے مسائل کا حل صوبے کے اندر کم اور پنجاب میں زیادہ ہے۔ بلوچستان کے قدرتی ذخائر کی وجہ سے عالمی طاقتیں بھی یہا ں دلچسپی رکھتی ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی کی بلو بیک (Blow Back) بھی ایک وجہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہندوستان کشمیر کا جواب بلوچستان میں دیتا ہے۔ یا ’افغان جہاد‘ کے نتیجے میں کوئٹہ اندر بم دھماکے ہوتے تھے۔ میرے گاؤں میں اگر بجلی نہیں تو اس کا ذمہ دار محض گاوں کا کونسلر نہیں ہے۔

قصہ مختصر، مارکسزم ہمہ جہت انداز میں بلکہ، بہ زبان انگریزی، ’Totallity‘ میں چیزوں کو دیکھتا ہے۔ اس نقطے سے جڑا مارکسی طریقہ تنقید کا اگلا اہم ستون ہے تاریخ۔

(۴) تاریخی عمل کو سمجھنا

کسی بھی مسئلے کو حل کرنا ہو تو ضروری ہے کہ پہلے اسے سمجھا جائے۔ آدھا مسئلہ اسی وقت حل ہو جاتا ہے کہ جب اس کی جڑ کا پتہ چل جائے۔ اس ضمن میں انتہائی ضروری ہوتا ہے کہ مسئلے کی تاریخ کو دیکھا جائے۔ اس کا تاریخی جائزہ لیا جائے۔ اس تاریخی عمل کو سمجھا جائے جس نے مسئلے کو جنم دیا۔

مسئلہ ہی کیوں۔ کسی اچھے اقدام اور اس کی کامیابیوں کا جائزہ لینا ہو تو بھی تاریخی عمل کو سمجھنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر آ ج کل فلاحی ریاست کا بہت ذکر ہوتا ہے۔ مروجہ ’فلاحی ریاست‘ کا نقطہ آغاز سویڈن کو مانا جاتا ہے۔ 1930ء کی دہائی میں جس فلاحی ریاست کا آغاز ہوا اسے سمجھنے کے لئے 1880ء میں جنم لینے والی مزدور تحریک کا جائزہ لینا ہو گا۔ اس مزدور تحریک کی شد بد تب ہی ملے گی اگر یورپ میں سرمایہ داری کے آغاز اور نشاۃ ثانیہ سے جانکاری پیدا کرنی پڑے گی۔

طالبانائزیشن کی جڑیں تلاش کرنی ہے تو صرف اسی کی دہائی تک نہیں جانا پڑے گا۔ صرف جنرل ضیا کی سیاست کا تجزیہ کافی نہ ہو گا۔ امریکہ، سعودی عرب اور ان کے حواریوں کے علاوہ سویت روس اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی سیاست کو بھی سمجھنا ہو گا۔

اردو کا یہ مشہور شعر کسی حد تک مارکسی طریقہ کار میں تاریخی عمل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے:

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا

(۵) تنقید برائے تعمیر

مارکسزم میں تنقید کا مقصد ہوتا ہے محنت کش طبقے کے شعور کی تعمیر۔ اس شعور کے نتیجے میں محنت کش تنظیموں کی تعمیر اور ان تنظیموں کی مدد سے سوشلسٹ انقلاب و سماج کی تیاری کی جاتی ہے۔ یہ تنقید برائے تفریح یا تنقید برائے تنقید نہیں ہوتی۔ اس سارے عمل کا محور محنت کش ہوتا ہے۔ اس لئے جو نقطہ نظر اپنایا جاتا ہے اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ محنت کش طبقے کا شعور اور مفاد ترقی کرے۔

دیکھنے میں آیا کہ کہ بعض حلقے کوئی نقطہ نظر محض فریق مخالف کی ضد میں لیتے ہیں مثلاً مولوی یہ کہہ رہے ہیں یا امریکہ یہ کر رہا ہے تو عین ان کی ضد درست نقطہ نظر ہو گا۔ مارکسی تنقید ایسے ’Knee Jerk‘ طریقہ کار کی شدید نفی کرتی ہے۔

مارکسزم دلیل، معاشی و اقتصادی تجزئے، کلیت اور ہمہ جہتی، تاریخی تناظر اور محنت کش طبقے کے مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تنقید کرتی ہے۔ سچ یہ ہے کہ حقیقی معنوں میں ’تنقید‘ ممکن ہی تب ہوتی ہے جب مارکسی طریقہ کار اپنایا جائے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔