پاکستان

کسان گاؤں کا عروج

ڈاکٹرمظہرعباس

کس طرح ایک گاؤں مشکلات کو مات دیتا ہے اور ترقی کرتا ہے۔

زرعی اصلاحات کے عالمی ایجنڈے کی متعدد وجوہات ہیں جن کے مقاصد اور عمل درآمد کی اسکیمیں ممالک کے اندر اور ان کے مابین مختلف ہیں۔ اگرچہ کچھ ممالک نے معاشی وجوہات کی بناء پر ان اصلاحات کا نفاذ کیا،   مثال کے طور پر زرعی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے زمین کی تقسیم نو ۔ جبکہ  دیگر نے معاشرتی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر ان پر عمل کیا۔

زراعت کو جدید بنانا اور دیہی بدامنی سے نمٹنا پاکستان میں زرعی اصلاحات کے پیچھے کارفرما قوتیں رہی ہیں۔ وہ وقت جب پاکستان میں زرعی اصلاحات ہو رہی تھیں کسان مزاحمت زور پکڑ رہی تھی۔ نظریاتی محاذ پریہ اصلاحات جاگیرداروں کے خاتمے کی شروعات ہوسکتی تھیں۔ اس کے برعکس عملی سطح پر ناقص قانون سازی اور ناقص منصوبہ بندی  کے ساتھ ساتھ کمزور نفاذ نے ان اصلاحات کو ناکام بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔

زرعی اصلاحات کے حامیوں نے زرعی زمین کی ملکیت اور استعمال کے نظام میں بنیادی تبدیلیوں (مثال کے طور پر  ’’زمین کاشتکاروں کی پالیسی‘‘) کے برعکس ’’کرایہ داری میں اصلاحات‘‘ اور’’ملکیت زمین پر حد بندی‘‘ جیسے ہلکے اقدامات کو ترجیح دی۔ اس طرح ، زرعی اصلاحات نے بڑی حد تک جاگیرداروں اور کرایہ داروں کے مابین معمول کے تعلقات کو برقرار رکھا۔ تاہم، کچھ ایسی مثالیں موجود تھیں جہاں ان اصلاحات نے کسانوں کو جاگیرداروں کے ہاتھوں ان کے استحصال کا طوق توڑنے میں مدد فراہم کی۔

اس  طرح کی ایک مثال تحصیل پنڈی بھٹیاں اور ضلع حافظ آباد کے  گاؤں نالی موہل (یہ گاؤں لاہور کے شمال مغرب میں تقریبا سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔) کے کسان تھے جو1972 میں ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں  کی گئی زمین اصلاحات کے نتیجے میں زمینداراشرافیہ کے اثرورسوخ سے باہر نکل آئے تھے۔

بزرگوں کے مطابق، گاؤں کی بنیادبگُھو ماچھی(ماچھی کاریگر طبقے کا ایک گروہ ہے جسے عام طور پر پنجابی دیہات میں کمی کہا جاتا ہے)  نے 1940 کی دہائی میں اس وقت رکھی تھی  جب وہ اپنے کنبے کے ساتھ دوہٹہ عظمت گاؤں کے زمینداروں، بنگسینکے بھٹیوں ( ایک راجپوت قبیلہ)، کیزمینوں پہ آ کے آباد ہواتھا ۔ نئے بسائے گئے  گاؤں کو نالی بگھو ماچھی دی کا نام دیا گیا۔ روایات کے مطابق اس گاؤں  کو نالی اس لئے کہا گیا کیونکہ جس جگہ یہ آباد ہوا اس کے لگ بھگ آدھا کلو میٹر کے فاصلہ پہ سیم نالہ بہتا ہے۔ 1960 کی دہائی میں  کچھ دوسرے خاندان جیسے موہل ، چیمہ ، مٹمل اور  کمہار گاؤں میں آکر آباد ہوئے اور بھٹی جاگیرداروں کی زمینوں پر بٹائی کے نظام کے تحت کاشتکاری کرنے لگے۔ بگھو ماچھی کے اہل خانہ کے اس جگہ کو چھوڑنے کے بعد 1970  کی دہائی کے آخر میں نور محمد موہل کے بڑے بیٹے محمد یعقوب موہل نے اس گاؤں کا نام تبدیل کرکے نالی موہل رجسٹرڈ کروا لیا جو کہ بعد ازان اسی نام سے مشہور ہوا۔ ریونیو ریکارڈ کے مطابق دوہٹہ عظمت کے بھٹی تقریبا  4،800 ایکڑ اراضی کے مالک تھے ۔ نور محمد موہل، خان محمد چیمہ، چانن مٹمل اور رحمت کمہار، جو کہ اپنے خاندانوں سمیت 1960 کی دہائی میں ہجرت کر کے اس گاؤں میں آئے تھے، نے ان زمینوں پر بٹائی کے نظام کے تحت کاشتکاری شروع کر دی۔ ان کے علاوہ بعد ازیں کچھ دوسرے خاندان جیسا کہ چدھڑ (زمیندار) مسلی (کمی) بھی ہجرت کر کے اس  گاؤں میں آ بسے۔یہاں اس امر کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ ہجرت کر کے آئے ہوئے  ان تمام خاندانوں کےپاس نہ تو کاشت کے لئے اپنی زرعی اراضی تھی اور نہ ہی رہنے کے لئے اپنے مکانات۔ اسی لئے انہیں اپنے مالکان کے لئے نہ صرف بیگار کرنا پڑتا تھا بلکہ فصل میں سے بٹائی کے حصہ کےعلاوہ کچھ حصہ زائد ٹیکس کی مد میں ادا کرنا پڑتا۔ علاوہ ازیں انتخابات میں بھٹیوں کو یا پھر ان کے پسندیدہ امیدواروں کو ووٹ بھی دینا پڑتا تھا۔ زمینداروں کے خلاف مزاحمت کرنے کی جسارت کرنے والوں کوجرمانے، مارپیٹ اور زمینوں سے بیدخل کرنے کی سزائیں دی جاتی تھیں۔ علاوہ ازیں ضرورت پڑنے پر پولیس کو ا ن مزاحمت کاروں کو سزا دینے یا دبانے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں کی گئی زمینی اصلاحات اس گاؤں کے کسانوں کے لئے تبدیلی کا معجزہ ثابت ہوئیں۔ 1972 کی زرعی اراضی اصلاحات کے قانون کے تحت جاگیرداروں سے حاصل ہونے والی اراضی مٹمل، چیمہ، چدھڑ موہل اور کمہار خاندانوں کو آلاٹ کی گئی۔ اس کے علاوہ، ان مکانوں کی ملکیت کاحق بھی انہیں  دیا گیا جن میں وہ رہائش پزیر تھے۔ غرض یہ کہ ان اصلاحات نے زمینداروں پر ان کسانوں کا معاشی انحصار ختم کردیا۔اس کے ساتھ ساتھ ان کسان خاندانوں نے اپنے بچوں (بشمول لڑکوں اور لڑکیوں) کو حصول تعلیم کے لئے تعلیمی اداروں میں بھیجنا شروع کیا۔ جہاں پر زمینی اصلاحات نے انہیں معاشی انحصار سے آزاد کیا، وہیں پر تعلیم نے انہیں سماجی و سیاسی انحصار سے آزاد کیا۔ مثال کے طور پر، نور محمد موہل کے بڑے بیٹے محمد یعقوب موہل نے قانون کی ڈگری حاصل کی اور وکیل کی حیثیت سے عدالتوں میں کام کرنا شروع کر دیا۔ اس کے چھوٹے بھائی نواز محمد موہل نے ایک پروفیشنل کالج سے گریجویشن کی اور وفاقی حکومت میں اوورسیئر بھرتی ہو گیا۔ تعلیم کے میدان میں ان کی بہنیں بھی پیچھے نہ رہیں اور کالجوں اور نرسنگ اسکولوں سے فارغ التحصیل ہوئیں اور حکومتی محکموں میں بطور نرسیں اور اساتذہسرکاری ملازمتیں کرنے لگیں۔دیکھتے دیکھتے اس گاؤں کے دوسرے خاندانوں نے بھی تعلیم کے میدان میں موہل خاندان کی پیروی کی۔اس گاؤں میں اس وقت قریب 150 گھرانوں میں 600 کے قریب افراد رہ رہے ہیں۔ اس گاؤں کے تقریبا50 فیصد رہائشی جٹ ہیں جبکہ باقی کمی ہیں۔ گاؤں کی اکثریت، ایک اندازے کے مطابق تقریبا 70 فیصد، تعلیم یافتہ ہے۔ گاؤں کی معیشت زراعت، سرکاری اور نجی ملازمتوں اور چھوٹے اور بڑے پیمانے پر کاروبار پر مرکوز ہے۔ لہذا جٹوں کی اکثریت کے پاس اور کچھ کمیوں کے پاس نہ صرف زرعی اراضی ہے بلکہ وہ سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں ملازمتیں بھی کر رہے ہیں۔ ان ملازمین میں سویپر اور نائب قاصد سے لے کر ججز، بیوروکریٹس، پولیس افسران، اور یونیورسٹی پروفیسر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے خاندان اپنے نجی کاروبار چلا رہے ہیں۔ جبکہ کچھ خاندانوں کے افراد بیرون ملک مقیم ہیں اور اپنے اہل خانہ کو وہاں سے ترسیلات بھیج رہے ہیں۔ اس گاؤں کے تقریباتمام خاندان اپنے ذاتی ملکیت کے گھروں میں رہ رہے ہیں۔ نالی موہل گاؤں کے کسانوں کی معاشی اور سماجی و سیاسی طاقت دوہٹہ عظمت گاؤں کے جاگیرداروں کی قیمت پر بڑھ گئی ہے۔ زمینداروں نے نہ صرف اپنے محنتی کرایہ داروں کو کھویا بلکہ ان کی آمدنی کو بھی کھو دیا جو وہ اپنی پُرتعیش زندگی کو برقرار رکھنے کے لئے ان سے حاصل کرتے تھے۔ اسی لئے اپنی آسائشوں کے اخراجات پورے کرنے کے لئے زمینداروں نے اپنی زمینیں نالی موہل گاؤں کے کسانوں کو بیچنا شروع کردیں جن کے پاس اب آمدنی کے مختلف ذرائع ہیں۔ نیز، کسانوں کے برعکس، جاگیرداروں نے تعلیم کی اہمیت کو بھی نہیں سمجھا۔ لہذا اس میدان میں بھی وہ کسانوں سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بھٹو دور کی زرعی اصلاحات زمینداروں سے کسانوں تک اقتدار منتقل کرنےکا موجب ثابت ہوئیں۔ یہ رجحان کسان گاؤں نالی موہل کے عروج اور زمیندار گاؤں دوہٹہ عظمت کے زوال سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے۔ ملک میں مزید زرعی اصلاحات نہ صرف اس طرح کی بہت سی مثالوں کا موجب بن سکتی ہیں بلکہ  زمینداری کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔

Dr. Mazhar Abbas

مصنف نے شنگھائی یونیورسٹی سے تاریخ میں پی ایچ ڈی کی ہے اور جی سی یونیورسٹی فیصل آباد میں لیکچرار ہیں۔