سماجی مسائل

وزیر اعظم صاحب تو پھر سزا بے پردگی کو دینی ہے یا ریپسٹ کو؟

فاروق سلہریا

خان صاحب!

آپ کے تجزئے اور تبصرے اس قدر جہالت پر مبنی ہوتے ہیں کہ انہیں سنجیدگی سے لینا وقت کے ضیاع کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ مصیبت یہ ہے کہ جب آپ ریپ اور بچوں سے زیادتی ایسے حساس موضوع پر بطور وزیر اعظم اپنی جاہلانہ رائے جاری کرتے ہیں تو یہ مسئلہ وقت کے ضیاع کا نہیں رہتا۔ یہ جہالت انتہائی خطر ناک بن جاتی ہے۔

آپ کی جہالت کی انتہا یہ ہے کہ آپ ایک ہی سانس میں بچوں سے زیادتی اور عورتوں کے ریپ پر بات کرتے ہوئے معاملے کو پردے تک محدود کر دیتے ہیں۔ اگر آپ کی منطق درست بھی ہوتی تو بچوں سے بدکاری (جس کے عمومی کیس مدرسوں سے رپورٹ ہوتے ہیں) کا پردے اور نام نہاد فحاشی سے کیا تعلق؟

پاکستان کی حالیہ تاریخ میں ریپ کے جو افسوسناک واقعات عوامی بیانئے کا حصہ بنے ان میں ایک تو حال ہی میں ہونے والا موٹر وے ریپ کیس تھا۔ مختاراں مائی اور ڈاکٹر شازیہ کے ساتھ ہونے والے واقعات ہیں۔ ان واقعات کاپردے سے کوئی نظر آتا ہو تو ضرور واضح کیجئے گا۔

پاکستان کی تاریخ میں عوامی پیمانے پر خواتین کا ریپ یا ماس ریپ کی دو شرمناک مثالیں ہیں۔ ایک بار 1947ء میں وحشت نے ننگا ناچ ناچا تھا۔ دوسری بار 1971ء میں حوا کی بیٹیاں ڈھاکہ سے چٹا گانگ تک جنرل اے کے نیازی کے مشہور و معروف فلسفے کا شکار بنی تھیں۔ دونوں دفعہ ساڑھیاں اور شلوار یں اتاری گئی تھیں۔

ساڑھی اور شلوار کے ذکر سے میرا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ سکرٹ یا جینز پہننا بے ہودگی، بے حیائی اور بے شرمی ہے۔ عورت کا جو جی چاہے پہنے۔ عورت کہیں برہنہ حالت میں بھی ہو تو بھی کسی پلے بوائے یا جہلم سے سے ڈھاکہ گئے ہوئے غازی کو حق نہیں پہنچتا کہ اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی دیکھے۔ ریپ ہر حالت میں ریپ ہے اور اس کا ذمہ دار ریپسٹ ہے۔ موٹر وے اور مدرسوں سے لے کر مشرقی پاکستان اور بوسنیا تک، ذمہ داری ریپسٹوں پر عائد ہوتی ہے۔

اسی لئے تو چلی کی خواتین نے یہ مشہور ترانہ گایا ہے:

’اور ریپسٹ ہو تم‘

لنک بھجوا رہا ہوں۔

سنئے گا۔ غور کیجئے گا۔ ہو سکا تو تھوڑی سی شرم بھی کر لیجئے گا۔

مخلص۔

ایک عام شہری

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔