پاکستان

تحریک لبیک کی حمایت میں ملک کے بڑے شہروں میں جزوی ہڑتال، مذاکرات جاری

حارث قدیر

پیر کے روز پاکستان میں حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی مذہبی جماعت تحریک لبیک کی حمایت میں ملک کے دو صوبوں کے بڑے شہروں میں جزوی شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ اس ہڑتال کی کال سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان نے درجن بھر علما کے ہمراہ اتوار کی شب دی تھی۔

مفتی منیب الرحمان کی کال پر ملک کی تاجر تنظیموں، ٹرانسپورٹ تنظیموں اور ٹریڈ یونینوں نے بھی ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی، دوسرے بڑے شہر لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے علاوہ پنجاب کے چند دیگر شہروں میں جزوی ہڑتال رہی اور کاروباری سرگرمیاں معطل رہیں۔ کراچی میں پیر کومرکزی بازار بند رہے جبکہ رہائشی علاقوں میں دکانیں کھلی رہیں۔ شہرمیں کہیں بھی احتجاج نہیں ہوا اور تمام اہم شاہراہوں پر ٹریفک معمول کے مطابق چلتی رہی، تاہم شاہراہ فیصل پر ڈرگ روڈ کو چند مظاہرین نے بند کرنے کی کوشش کی مگر رینجرز اور پولیس نے مظاہرین کو واپس بھیج دیا۔

سندھ بار ایسوسی ایشن نے بھی یوم سیاہ منانے اور عدالتی کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا تھا مگر پیر کی صبح جنرل باڈی کے اجلاس کے بعدبائیکاٹ کا فیصلہ واپس لے لیا گیا اور عدالتی کارروائی جاری رہی۔ اسی طرح سندھ ہائی کورٹ اور سیشن کورٹس میں عدالتی کارروائی معمول کے مطابق جاری رہی۔

دوسری جانب لاہور شہر کی چھوٹی بڑی مارکیٹوں میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔ شہر کی شاہ عالم مارکیٹ، اکبری منڈی، لبرٹی مارکیٹ، لوہاری میڈیسن مارکیٹ، اچھرہ بازار، بادامی باغ سٹیل مارکیٹ، بلال گنج آٹو پارٹس مارکیٹ، جیل روڈ، سمن آباد، مولانا شوکت علی روڈ، ڈیفنس کار مارکیٹ وغیرہ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال رہی۔

کراچی اور لاہور کے برعکس کوئٹہ میں کوئی ہڑتال نہیں ہوئی اور تمام مارکیٹیں اور بازار معمول کے مطابق کھلے رہے۔ اسی طرح پشاور میں زیادہ تر بازار اور کاروبار معمول کے مطابق کھلے رہے۔ تاہم تحریک لبیک کے ہمدردوں نے قصہ خوانی، خیبر بازار اور کئی جگہوں پر زبردستی دکانیں بند کروانے کی کوششیں کی جنہیں پولیس کی مداخلت کے بعد ناکام بنا دیا گیا۔

پشاور کے مصروف بازار صدر، یونیورسٹی روڈ، بورڈ بازار اور فردوس میں عام دنوں کی نسبت عوام کا زیادہ رش دیکھنے میں آیا جبکہ بی آر ٹی بسوں میں بھی مسافروں کا بھرپور رش رہا۔ گوجرانوالہ میں بھی جزوی شٹر ڈاؤن دیکھا گیا اور کچھ دوکانیں اور بازار کھلے رہے جبکہ وہاڑی میں انجمن تاجران کی جانب سے ہڑتال کے لیے مساجد میں اعلانات کیے گئے اور ملکی صورتحال کے پیش نظر تمام تر تجارتی سرگرمیاں معطل رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اسلام آباد اور راولپنڈی میں زیادہ تر شاہراہیں کھلی رہیں، جن میں مری روڈ، سرینگر ہائی وے، اسلام آباد ایکسپریس وے شامل ہیں۔ اسلام آباد کے تجارتی مرکز بلیو ایریا میں چند دوکانیں کھلی رہیں۔ آبپارہ مارکیٹ، کراچی کمپنی اور بارہ کہو (جو کہ اسلام آباد میں تحریک لبیک کا گڑھ سمجھا جاتا ہے) مکمل بند رہے۔

راولپنڈی کے بڑے تجارتی مراکز، جن میں صدر، راجہ بازار اور کمرشل مارکیٹ شامل ہیں، بند رہیں اور صدر سمیت مختلف مارکیٹوں کے تاجروں نے ریلیاں منعقد کیں۔ دوسری جانب فوج کے ہیڈ کوارٹر جی ایچ کیو کے نزدیک کچہری چوک پر بھی مختصر وقت کیلئے مظاہرین جمع ہوئے۔ تاجر تنظیموں کا مرکزی احتجاجی مظاہرہ کھنہ پل سے فیض آباد تک گیا۔ تاہم کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

دوسری جانب کالعدم قرار دی گئی تحریک لبیک پاکستان کی مرکزی شوریٰ کے ساتھ حکومتی اراکین کے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ مذاکرات کا یہ سلسلہ کوٹ لکھپت جیل میں تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کی موجودگی میں جاری رہا، پیر کی رات گئے مذاکرات کا تیسرا دور منعقد کیا گیا جس کے بعد حتمی اعلان کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم کے ساتھ خطاب میں حکومت اور تحریک لبیک کے مقاصد کو ایک قرار دیا، تاہم فرانس کے سفیر کی ملک بدری کو ملک کیلئے نقصان دہ قرار دیا۔ واضح رہے کہ تحریک لبیک کی جانب سے فرانس کے سفیر کی ملک بدری کے مطالبہ پر احتجاج کیا جا رہا تھا۔ 20 اپریل کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا گیا تھا۔ اس احتجاج کو روکنے کیلئے حکومت کی طرف سے تحریک کے سربراہ کو گرفتار کیا گیا اور احتجاج کا سلسلہ قبل از وقت ہی شروع ہو گیا تھا۔ پورے ملک میں 200 سے زائد مقامات پر جاری احتجاجی دھرنوں کو حکومت نے ختم کروا دیا تھا، تاہم لاہور میں مذہبی جماعت کے مرکز کے قریب دھرنا بدستور جاری ہے۔ اتوار کے روز پولیس اہلکاران کے اغوا کے بعد پولیس اور تحریک لبیک کے کارکنان کے مابین جھڑپیں ہوئیں جن میں 3 مظاہرین ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ لاہور میں ہونے والی پرتشدد جھڑپوں کے بعد پیر کے روز ملک گیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔