دنیا

دشمنی سے دوستی کا سفر

راجہ مظفر

پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل باجوہ کی پاکستان کے ٹی وی اینکروں سے گفتگو ٹکڑوں میں پر اسرار طور پر منظر عام پر آنا شروع ہو گئی ہے۔ جنرل باجوہ کی کشمیر اور انڈیا پاکستان تعلقات کی بابت گفتگو میری دلچسپی کا باعث ہے اور میں اسی پر اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہوں گا۔ جنرل صاحب سے منسوب گفتگو میں کہا گیا ہے کہ کچھ مدت سے انٹیلی جنس لیڈرشپ کی اعلیٰ سطح پر پس پردہ رابطے قائم ہوئے۔ بھارت نے بات چیت کی خواہش کا اظہار کیا اور بات چیت کے عمل کی گاڑی جو ڈی ٹریک ہو گئی تھی واپس ٹریک پر ڈالی جا رہی ہے اور اس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات کی بحالی میں یو اے ای ایک نیا مصالحت کار اور سہولت کار بن کر سامنے آیا ہے۔

کیا عداوت کا دور ختم ہو رہا ہے؟

بھارت اور پاکستان دونوں کے درمیان اپنے جنم دن سے جموں کشمیر پر حق ملکیت کے مفروضوں پر مبنی دعوؤں سمیت بہت سے معاملات پر باہمی عداوت چلی آ رہی تھی۔ اب دونوں ملک ایک دوسرے کے قریب آ رہے ہیں۔

پاکستان میں ہمسایوں اور عالمی طاقتوں اور بالخصوص انڈیا پاکستان کے تعلقات کی سمت تعین کرنا فوجی اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے۔ یہ کسی سویلین لیڈر کے کلی اختیار میں نہ تھا نہ ہے۔ اب جنرل باجوہ کے حوالے سے جو خبریں نکلی ہیں اور سوشل میڈیا پر جو بحث چل نکلی ہے ان میں کشمیر سے متعلق جو گفتگو سامنے آئی ہے اس پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔

ابھی گذشتہ ماہ ہی جنرل باجوہ کے اس بیان کے بعد کہ“اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی کو دفن کیا جائے اور آگے بڑھا جائے۔ ”جس پر بی بی سی نے 18 مارچ کو اپنی نشریات میں میں جنرل باجوہ کے اس بیان کو اس شہ سرخی کے ساتھ شائع کیا کہ: ”انڈیا اور پاکستان کے مستحکم تعلقات وہ چابی ہے جس سے مشرقی اور مغربی ایشیا کے مابین رابطے کو یقینی بناتے ہوئے جنوبی اور وسطی ایشیا کی صلاحیتوں کو ان لاک کیا جا سکتا ہے“۔

جنرل باجوہ کے اسی بیان پر پاکستان نیوی کی سابق آفیسر اور پاکستان کی دفاعی تجزیہ نگار ڈاکٹر عائشہ صدیقہ کا کہنا ہے کہ ”آرمی چیف کی پیشکش کے پس منظر میں معاشی فیکٹر ہے، اگر امن کی بحالی کا سلسلہ شروع نہیں ہوتا اور استحکام نہیں آتا تو ہم (پاکستان) سڑک پر آ جائیں گے“۔

اس ساری پیشرفت پر میں نے امریکہ میں اپنے چند غیر ملکی دوستوں سے بھی تبادلہ خیال کیا جو کشمیر پر نظر رکھتے ہیں۔ دو حریف ملکوں انڈیا، پاکستان میں اس خلافِ توقع تبدیلی کے بارے میں ایک سابق سفارتکار دوست نے اپنا تبصرہ کرتے ہوے کہا کہ دہلی اور اسلام آباد کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے، اس نے دونوں (انڈیا و پاکستان) کو ایک دوسرے سے قریب کر دیا ہے اور کہا کہ دونوں اس مشترک سوچ کے بہت قریب آ چکے ہیں کہ کس طرح دونوں ملکوں میں پرانی دشمنی ختم کر کے ماضی کی تلخیاں فراموش کر کے نئے تعلقات قائم کئے جائیں۔

ایک اور دوست کا کہنا تھا کہ: ”دونوں نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں۔ انڈیا اور پاکستان نے جب دیکھا کہ ان کی باہمی دشمنی ایک دوسرے کو نقصان پہنچا رہی ہے تو دونوں نے طے کیا کہ وہ بے فائدہ دشمنی کو ختم کر کے آپس میں دوستانہ تعلقات قائم کر لیں۔“

اگر اس بات کو درست مان لیا جاے تو خفیہ، پس پردہ یا مصالحت کاروں کے رابطوں میں اس نئے فیصلے تک پہنچنے کیلئے انہیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا اعتراف کرنا پڑا ہے۔ لگتا ہے کہ دونوں ہی ایک دوسرے کیخلاف اپنے مطالبات چھوڑ دینے پر راضی ہوئے ہیں۔

لا محالہ دونوں نے ایک ناقابل برداشت چیز کو برداشت کیا ہے تاکہ اپنے لئے زیادہ بہتر مستقبل کی تعمیر کر سکیں۔ اسی کا نام حقیقت پسندی ہے۔ اس حقیقت پسندی کے بغیر موجودہ دنیا میں کامیابی تک پہنچنا ممکن نہیں۔ تو کشمیر پر وہ ممکنہ حقیقت پسندی کیا ہو سکتی ہے؟

میرا ماننا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کو جموں کشمیر سے اپنی اپنی فوجیں نکال لینے کا مشکل فیصلہ کر لینا چاہیے۔ معاشی اعتبار سے انڈیا اور پاکستان جیسی کمزور قوموں کے لیے حقیقت پسندی اور مفاہمت کا طریقہ زیادہ ضروری ہے۔ روس، چین، جاپان، امریکہ اور یورپ اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لئے ٹکراؤ کو ترک کر کے مفاہمت کی پالیسی اپنانے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اگر اپنی اکانومی کے مستقبل کے تحفظ کے لئے جنگ بھی لڑیں تو اس کی قیمت ادا کر سکنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ بھارت و پاکستان کشمیر پر جنگ کی قیمت برداشت نہ کر پائیں گے۔

کشمیری اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان پلوامہ واقعہ کے بعد تعلقات کی خرابی کا سلسلہ کہیں نہیں رک سکا اور 5 اگست 2019ء کو انڈیا کی کشمیر میں ننگی جارحیت کے بعد ہر جگہ یہ سمجھا جانے لگا کہ اب پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ناگزیر ہو چکی ہے۔ صدر ٹرمپ کی مصالحت کی آفر کو رد کیا جانا کوئی معمولی بات نہ تھی۔ ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ جنگ ناگزیر دکھائی دینے لگی۔

اس کے بعد سے دونوں ملکوں کے مابین سفارتی تعلقات ڈی گریڈ ہو گئے اور کرتار پور راہدری کھولنے کی مشق کے باوجود دونوں حکومتوں کا کوئی ذمہ دار شخص ایک ملک سے دوسرے ملک میں نہیں گیا۔ شدید دشمنی کے لمبے وقفہ کے بعد ان خبروں نے سب کو حیران کر دیا کہ بھارت اور پاکستان کے سلامتی امور کے مشیران اجیت ڈول اور معید یوسف کے درمیان بیک چینل پر بات چیت ہو رہی ہے۔

پھر ہاٹ لائن پر دونوں ملکوں کی افواج کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان گفتگو اور سیز فائر کے اچانک اعلان نے امریکہ میں کشمیر پر نظر رکھنے والے سفارتی حلقوں کی توجہ اس جانب مبذول کی۔

Raja Muzaffar

مصنف ساؤتھ ایشیا ڈیموکریسی واچ ڈیلاس، ٹیکساس اور کشمیر گلوبل کونسل نیو یارک ٹورنٹو کے بورڈ آ ف ڈائریکٹرز میں شامل ہیں۔