دنیا

افغانستان میں ایک نیا المیہ جنم لے رہا ہے: اشرف غنی

قیصر عباس

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ان کے ملک میں ایک نیا المیہ جنم لے رہاہے جہاں سول وار کے خطرے پھر سر اٹھارہے ہیں۔ طالبان نے ملک میں دہشت گردی کا ایک نیا دور شروع کردیا ہے اور یہی اس المیے کے ذمہ دار ہوں گے۔ ان کے مطابق طالبان ملک میں دہشت گردی کو ہوا دے کر ایک بڑی غلطی کر رہے ہیں۔

ان کے مطابق انہیں ملک کا وقار اور تحفظ اپنی ذات سے ذیادہ عزیز ہے اور وہ ملک چھوڑ کر نہیں جائیں گے کیونکہ یہ ان کی سرزمین ہے۔ افغانستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں یہ قوم ہمیشہ متحد رہی ہے اور موجودہ وقت بھی لوگوں کو تقسیم کرنے کا نہیں، انہیں متحد کرنے کا ہے۔

وہ واشنگٹن میں عرب سینٹر اور اور سینٹر فور کنفلکٹ اینڈ ہومینٹیرین سٹڈیز(Center for Conflict and Humanitarian Studies) کے زیر اہتمام نیٹو اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان کے مستقبل پر ایک تین روزہ کانفرنس میں پیر کے دن کلیدی خطاب کر رہے تھے۔ کانفرنس میں افغانستان کے دانشوروں اور امریکہ کے تعلیمی اداروں کے محققین ملک کے مسائل پر بات کر رہے ہیں۔

ان کا کہناتھا کہ ملک کے تمام باسیوں کے لئے یہ وقت اتحاد کا ہے، سخت گیر رویے کا نہیں: ”طالبان کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ غریب عوام، خواتین، تعلیم، ترقی، ملک کی تاریخ، اس کی روایات، حب الوطنی اور بہتر مستقبل کے ساتھ ہیں یا لشکر طییہ، جیش محمد اور القاعدہ جیسے گروہوں کے اتحادی ہیں؟

انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت حال میں ملک کے سامنے چار راستے ہیں: بہتر مواقع، خطرات، افراتفری یا آنے والے خطرات سے نبٹنے کے کا عزم۔ ان کے نزدیک گزشتہ بیالیس سال کے دوران افغانیوں کو امن اور اقتصادی ترقی سے محروم رکھا گیاہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم دنیا سے مل کر کام کریں۔ ہم اب عالمی آقاؤں کی نہیں دوستوں کی امید رکھتے ہیں اور ان کے ساتھ مل کر کام کرناہماری ترجیحات میں شامل ہے۔

ان کے مطابق پاکستان کے قومی شاعر علامہ اقبال نے کہاتھا کہ افغانستان اس خطے کی امیدوں کا محور ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کا قیام علاقائی طاقتوں کے امن سے منسلک ہے۔ ہمارے اردگرد کے ممالک جن میں پاکستان، ایران، انڈیا، چین، روس اور مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک شامل ہیں، ہماری امن کی کوششوں سے براہ راست جڑے ہیں اور ہم سب کو اس کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا۔

بی بی سی کی اطلاع کے مطابق افغانستان میں طالبان نے کئی اضلاع پر قبضہ کرلیاہے اور اس نئی صورت حال کے پیش نظر امریکہ نے کہا ہے کہ ملک میں اس کی افواج کے انخلا کی رفتار کم کی جاسکتی ہے۔

اطلاعات ہیں کہ گزشتہ ایک مہینے میں طالبان نے تیس اضلاع پر قبضہ کر لیا ہے اورافغان سکیورٹی فورس کو بھاری نقصان پہنچایاہے۔ طالبان کے دعوے کے مطابق انہوں نے شمالی صوبے قندوز کے ایک بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور اب صرف صوبے کے دارالحکومت پر ہی حکومت کی عملداری ہے۔ قندوز کا شہر بھی افغان جنگجوؤں کے سخت گھیرے میں ہے۔

افغان حکومت نے بھی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت کچھ علاقوں سے سکورٹی فورس کو واپس بلا لیا ہے لیکن صورت حال کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔