نقطہ نظر

جوتے اور تھپڑ مارنے کی سیاست: محنت کشوں کا موقف کیا ہونا چاہئے؟

فاروق سلہریا

دو دن قبل ایک باغ میں ایک جلسے کے دوران جوتا مارا گیا۔ وہ جموں کشمیر میں ہونے والے انتخابات کے سلسلے میں پی ٹی آئی کی مہم چلانے کے لئے جموں کشمیر آئے تھے۔ اس جوتا چلانے پر بہت سے ترقی پسند نوجوان سیاسی کارکن سوشل میڈیا پر خوشی کا اظہار بھی کر رہے ہیں اور اس کا دفاع بھی۔

ناپسندیدہ یا مخالف سوچ رکھنے والے سیاسی قائدین پر جوتا پھینکنا یا انہیں تھپڑ مارنا پاکستان تک ہی محدود نہیں۔ چند ہفتے قبل، ایک نوجوان نے فرانسیسی صدر کو تھپڑ جڑ دیا۔

بغداد کے دورے پر آئے ہوئے اس وقت کے امریکی صدر، بش جونیئر، پر ایک عراقی صحافی نے جوتا پھینکا۔ وہ صحافی راتوں رات عرب بلکہ پوری مسلم دنیا اور لاطینی امریکہ کا ہیرو بن گیا۔

پاکستان میں بھی اس کی مثالیں، ملتی ہیں۔

زیادہ پرانی بات نہیں۔ لاہور کے ایک مدرسے میں نواز شریف پر اس وقت جوتا پھینکنا گیاجب طاقتور حلقے انہیں نا اہل قرار دلوانے کی مہم چلا رہے تھے۔ اس واقعہ کے رد عمل میں عمران خان کو فیصل آباد میں تھپڑ مارنے کا واقعہ سامنے آیا۔

ان دونوں واقعات کی ایک طرف سرمایہ دار سیاست دان اور ان کے نمائندہ میڈیا میں منافقانہ انداز میں مذمت کی گئی تو دوسری طرف کاروباری میڈیا میں کچھ لوگوں کی جانب سے ان واقعات کو ’انقلابی‘ عوامی رد عمل بنا کر پیش کیا گیا۔

کیا اس طرح کے ’عوامی‘ رد عمل کی حمایت کی جا سکتی ہے؟ سوشلسٹ اور ترقی پسند نقطہ نظر سے تو ہرگز بھی نہیں۔

کیوں؟ کیونکہ جوتا مارنے، گالی دینے یا تھپڑ مارنے کا مقصد ہوتا ہے مخالف کی ہتک کرنا۔ نہ صرف ہتک جاگیردارانہ کلچر میں روزمرہ کا ہتھیار ہے بلکہ ہم نے دیکھا کہ پاکستانی فوج نے اسے استعمال کیا۔

خوف کے ساتھ ساتھ ہتک کو طالبان نے بطور ہتھیار استعمال کیا۔ سوات میں چاند بی بی کو کوڑے مارنا اسکی بد ترین شکل تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی میں ایک عرصے سے یہ کرتی آ رہی ہے۔ ہتک کے اس ہنر کو مولوی خادم رضوی نے ایک نئی جہت دیدی۔ اگر محنت کش طبقے کی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ میں ہو گی تو عوامی ردعمل ہتک کو بطور ہتھیار استعمال کرے گا۔ بطور سوشلسٹ اور ترقی پسند ہم ہر عمل کی محض اس وجہ سے حمایت نہیں کر سکتے کہ اسے محنت کش طبقے کی اکثریت میں قبول عام حاصل ہے۔ ہم یہ سمجھنے کی کوششی کر سکتے ہیں، کرتے ہیں اور کرنی چاہئے کہ کوئی سوچ محنت کشوں میں کیوں مقبول ہے مگر ہم ہر مقبول عام سوچ کی حمایت نہیں کر سکتے۔

ہتک ہمارے طبقاتی مخالفوں کا ہتھیار ہے۔ ہم طبقاتی لڑائی انکی اخلاقیات کے مطابق نہیں لڑ سکتے۔ ہم معاشرے کو مہذب بنانا چاہتے ہیں۔ تہذیب کا تقاضا ہے کہ سیاسی، نظریاتی اور طبقاتی اختلاف کے باوجود مخالف کے انسانی حقوق اور عزت نفس کا اتنا ہی خیال رکھا جائے اور اسکے تحفظ کا اتنا ہی مطالبہ کیا جائے جتنا ہم محنت کشوں کے لئے کرتے ہیں۔ جوتوں اور تھپڑوں کی سیاست عوامی اور انقلابی نہیں، رجعتی سیاست اور سوچ کا اظہار ہے۔ ایسے سیاسی ہتھکنڈے سیاست کو محنت کشوں، عورتوں اور پسے ہوئے طبقات کے لئے اور بھی مشکل بناتے ہیں۔

ہمارا نعرہ ہے: گالی نہیں دلیل۔

سوشلزم تہذیب تعمیر کرنے کا نام ہے۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔