پاکستان

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف‘ کیا ہوتا رہا اور کیا ہو رہا ہے؟

فاروق طارق

پیپلز پارٹی نے اپنے دور اقتدار کے دوران تحریک انصاف کو اس غلط فہمی میں پنپنے دیا کہ یہ مسلم لیگ ن کے ووٹ توڑے گی۔ ایسا نہ ہوا اور تحریک انصاف پیپلز پارٹی کے پنجاب میں ووٹ توڑ گئی۔

2018ء میں تو صورتحال ہی مختلف تھی۔ پورا انتخاب ہی پلان اس طرح کیا گیا تھا تحریک انصاف کو جیتنے کا ہر صورت موقع ملے۔

پیپلز پارٹی نے پھر مسلم لیگ ن کے دور اقتدار میں تحریک انصاف کے ساتھ مل کر بلوچستان کی حکومت ختم کرائی۔ وہاں خوب رقم صرف ہوئی۔ ان کے ساتھ مل کر سینیٹ کا چیئرمین ایک ایسے شخص کو منتخب کرایا جو اسٹیبلشمنٹ کا امیدوار تھا۔ میاں رضا ربانی کو مسلم لیگ کی واضح حمایت کے باوجود اسے چیئرمین کے لئے نامزد نہ کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ناراض نہ ہو جائے۔ اب پیپلز پارٹی اسی چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی ہے۔ اور مسلم لیگ ن کے ساتھ مل کر اسے اتارنے اور اپنے نامزد کردہ امیدوار حاصل بزنجو کو چیئرمین بنانے کی جستجو میں ہے۔

2018ء کے عام انتخاب کے بعد دھاندلی کے خلاف پیپلز پارٹی نے متحدہ اپوزیشن کی تحریک کو حمایت نہ دی۔ مسلم لیگ کے امیدوار برائے وزارت عظمیٰ کو ووٹ نہ دیا۔ وہ اس غلط فہمی میں تھے کہ اسٹیبلشمنٹ صرف ن لیگ کے خلاف ہے۔ اس کو ناراض نہیں کرنا چاہئے۔

اب تحریک انصاف نے پیپلز پارٹی کے خلاف بڑا حملہ کیا ہے۔ آصف زرداری کی کرپشن کو بنیاد بنایا گیا ہے اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جعلی اکاؤنٹس کی ایک ہوشربا رپورٹ پیش کی گئی ہے۔ جے آئی ٹی کا سہارا لیا گیا ہے۔ یہ تو ابھی ثابت ہونا ہے کہ الزام کس حد تک درست ہیں مگر ایک بات واضح ہے کہ تحریک انصاف اپنے دور اقتدار میں ہر مخالف کو ہر طریقے سے دبانا چاہتی ہے۔ پیپلز پارٹی کو بھی سبق سکھانا چاہتی ہے۔

اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے اقتدار میں آنے والی یہ پارٹی اب اپنے نیو لبرل معاشی ایجنڈے کو پورا کرنے کے لئے پہلے اپوزیشن کو دبانا چاہتی ہے۔ پھر یہ ریاستی اداروں کو بیچیں گے۔ مزید ٹیکس لگائے جا رہے ہیں اور لگائے جائیں گے۔ عوام مخالف نیا بجٹ آ چکا ہے۔ سرمایہ داروں کی یہ حکومت دوسری مخالف سرمایہ داروں کی جماعتوں کو ہر حربے سے ختم کرنا چاہتی ہے۔

نقصان عام لوگوں کا ہی ہو رہا ہے۔ تجاوزات کے خاتمے کے نام پر لاکھوں افراد کو بے روزگار کیا گیا ہے۔ بجلی‘ گیس اور پٹرول بار بار مہنگے کیے جا رہے ہیں۔ روپے کا ستیاناس کر دیا گیا ہے۔

لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اس عوام دشمن حکومت کا مقابلہ سرمایہ داروں کی دوسری جماعتیں، بشمول پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ، عوامی طاقت سے نہیں کرنا چاہتیں۔ بلکہ عوام کی کسی تحریک سے خود ہی خوفزدہ دکھائی دے رہی ہیں کہ کہیں حالات سب کے قابو سے باہر نہ ہو جائیں۔ بس ٹی وی اور سوشل میڈیا کے ذریعے احتجاج اور جن عدالتوں سے انہیں شکایات ہیں انہی کے پاس جانے میں عافیت سمجھ رہی ہیں۔

سرمایہ داری نظام کے اِس بحرانی دور میں سرمایہ داروں کی آپس کی لڑائیاں تیز ہو گئی ہیں۔ بحران ان لڑائیوں سے دور ہونے والا نہیں بلکہ مزید تیز ہو گا۔ اس نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے۔

ضرورت ہے کہ مزدور تنظیموں کو مضبوط کیا جائے۔ جہاں ممکن ہو نئی ٹریڈ یونینیں تعمیر کی جائیں۔ کسانوں کی تحریکوں کو اور فعال کیا جائے۔ عوامی اور سماجی تحریکوں کو منظم کیا جائے اور جو موجود ہیں ان کی حمایت کی جائے۔ بائیں بازو کو متحد ہو کر محنت کشوں کی جدوجہد کو یکجا اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔