پاکستان

[molongui_author_box]

پاکستانی جنگوں کی متبادل تاریخ

تبصرے کے آخر میں دو معروضات کرنا چاہوں گا۔ اؤل، طارق رحمن نے ایک گروہ یا اوپری ٹولے کے حوالے سے بحث کو بہت آگے نہیں بڑھایا۔ کیا جنگ کے فیصلے بہرحال اوپر بیٹھے ٹولے ہی نہیں کرتے؟ جہاں عوام کی حمایت درکار ہو، حکمران کامیابی سے جنگی جنون پیدا کر لیتے ہیں۔ امریکہ نے جس طرح عراق پر انتہائی بلاجواز حملے کے لئے امریکی عوام کی حمایت حاصل کی، اس سے سبق ملتا ہے کہ فیصلہ ٹولے ہی کرتے ہیں، چاہے یہ فیصلے خفیہ ہوں یا عوام کو بے وقوف بنا کر۔ اس بابت کتاب میں تھوڑی تشنگی رہ جاتی ہے۔ دوم، اس میں شک نہیں کہ 1971ء کے دوران بھٹو نے جرنیلوں کے ساتھ مل کر جمہوریت کی پیٹھ میں خنجر گھونپا البتہ 1965ء کی جنگ میں ان پر، اس کتاب میں، ضرورت سے زیادہ ذمہ داری ڈالی گئی ہے جس کا دستاویزی ثبوت بہت متاثر کن نہیں۔

جموں کشمیر: ہتک عزت بل اسمبلی میں پیش، صحافت تنقید سے پاک ہوگی

بل کو پیچیدہ بنانے کیلئے براہ راست اخبار، ٹی وی، ریڈیو اور ڈیجیٹل و سوشل میڈیا کا تذکرہ کرنے کی بجائے الیکٹرانک آلات، ریڈیو ٹیلی گراف، ریڈیو ٹیلی فون، کیبلز، کمپیوٹر، وائرز، فائبر آپٹک، لنکیج یا لیزر بیم وغیرہ کے ذریعے تحریری علاماتی، سگنلز، تصاویر، آوازیں وغیرہ عوام تک پہنچانے کے ذرائع کو براڈ کاسٹنگ قرار دیا گیا ہے۔ براڈ کاسٹنگ کے ذرائع استعمال کر کے کسی بھی طرح کے زبانی، تحریری یا بصری شکل میں غلط اقدام، اشاعت یا غلط بیان کی سرکولیشن، جو کسی شخص کی شہرت کو نقصان پہنچائے، اسے دوسرے کے سامنے نیچا دکھانے کا باعث ہو، اسکا تمسخر اڑانے کا باعث ہو، اس پر تنقید کا باعث ہو، ناپسندیدگی، توہین یا نفرت کا باعث بن رہی ہو تو وہ ہتک عزت قرار پائے گی۔

’طالبان ہماری ریڑھ کی ہڈی ہیں‘

کارگل میں جھگڑے سے جان چھڑانے کے لئے نواز شریف نے 4 جولائی 1999 کو بل کلنٹن سے ملاقات کی۔ صرف بل کلنٹن ہی بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے طالبان سے متعلق انہیں ڈکٹیٹ کیا یا نہیں۔ 6 جولائی کو واشنگٹن نے طالبان پر پابندیاں عائد کر دیں۔ امریکی پابندیاں اس وقت مزید موثر ہوئیں،جب اگست کے وسط میں نواز شریف حکومت نے ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر پابندیوں کا اعلان کیا۔ اکتوبر کے اوائل میں نواز شریف نے دبئی کا سفر کیا تاکہ خلیجی ریاستوں کو طالبان کی حمایت ختم کرنے اور اسامہ بن لادن کی حوالگی پر زور دینے کے اپنے منصوبے سے آگاہ کریں۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق،”شریف نے کہا کہ انہوں نے اصرار کیا کہ طالبان پاکستان میں تمام سرگرمیاں بند کر دیں، اسامہ بن لادن کو حوالے کریں، یا انہیں افغانستان چھوڑنے کے لیے کہیں، اور تمام تربیتی کیمپ بند کر دیں۔“

گلگت بلتستان کے لوگ کس قانون کے تحت گندم پر سبسڈی کا حق مانگتے ہیں؟

درحقیت جب گلگت بلتستان میں ایف سی آر کے کالے قانون کے خلاف گلگت بلتستان کے وکلاء کی قیادت میں تحریک چلائی گئی تو اس کے نتیجے میں 1972 کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے گلگت بلتستان کو سبسڈی دینے کا حکم دیا تھا،جس کی بنیادی وجہ علاقے کی پسماندگی تھی۔اسی کی وجہ 1947 سے 1973 تک یہاں ایف سی آر کے کالے قانون کا نفاذ تھا۔ گلگت بلتستان کے عوام کے تمام تر بنیادی انسانی جمہوری سیاسی معاشی حقوق غصب ہوئے تھے، کوئی سکول، کالج، یونیورسٹی، ہسپتال قائم نہیں کئے گئے،نہ عدالتی نظام تھا،نہ ہی اس خطے میں الیکشن ہوتے تھے۔یہاں تک کہ خطے کی شناخت بھی ختم کرکے نادرن ایریاز کا نام دیا گیا۔

جموں کشمیر: ایڈہاک ملازمین کا روزگار ایک مرتبہ پھر سیاست کا شکار

پاکستانی زیر انتظام جموں کشمیر کے حکمران آج تک محنت کشوں اور نوجوانوں کا کوئی ایک بھی بنیادی تو مسئلہ حل نہیں کر سکا،لیکن مسائل کو پیدا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔مفت تعلیم،علاج، انفراسٹرکچر کی تعمیر سمیت روزگار کی فراہمی میں ناکام حکمران تمام مسائل کا ذمہ دار سرکاری ملازمین کو قرار دیتے ہیں۔حکومت کی طرف سے سپیشل پاور ایکٹ کے ذریعے سرکاری ملازمین کو تمام بنیادی انسانی حقوق سے محروم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔نیا روزگار پیدا کرنے کی بجائے پہلے سے برسر روزگار نوجوانوں کو روزگار سے برطرف کر کے بیروزگار نوجوانوں کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

بلوچستان میں نظریات کی جنگ

اسی طرح بلوچستان کے وسطی اور مشرقی علاقوں میں اردو میں مذہبی لٹریچر بڑے پیمانے پر پڑھا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بلوچی مصنفین اور قارئین زیادہ تر مکران میں مقیم ہیں لیکن ان کے سامعین بھی زیادہ تر مکران میں مقیم ہیں۔ مکران کے اضلاع میں سے ایک پنجگور بھی نسبتاً مذہبی نوعیت کا ہے۔ مخلوط تعلیم اور پرائیویٹ سکولوں کو حالیہ برسوں میں مذہبی انتہا پسندوں نے بند کر دیا تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ بلوچی زبان میں چند رسائل ہیں،جو صرف مذہبی امور پر گفتگو کرتے ہیں۔
ان اختلافات اور مختلف سیاسی اسٹیک ہولڈرز کی ان کو حل کرنے میں ناکامی نے بلوچستان میں علم کی پیداوار کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اس جمود کا حتمی نقصان بلوچ شہریوں اور خاص طور پر نئی نسلوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔ حقیقت اور پروپیگنڈے میں فرق کرنا ایسا نہیں ہے جس کا انہیں بوجھ برداشت کرنا چاہیے، لیکن یہ ایک بوجھ ہے جسے وہ اٹھانے پر مجبور ہیں۔

افغان مہاجرین: جائیں تو جائیں کہاں؟

ان مظلوموں کے ساتھ جو انسانیت سوز رویہ روا رکھا جا رہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھانا ہر ذی شعور اور باضمیر انسان کا فریضہ بنتا ہے۔ اس نظام میں سرمائے کی نقل و حرکت تو آزاد ہے لیکن انسانوں کو سرحدوں میں قید کر کے ویزوں کا اسیر بنا دیا گیا ہے۔

غزہ پر اسرائیلی حملے صحافیوں کے لیے بھی جان لیوا ہیں!

صحافیوں کے تحفظ کی عالمی تنظیم سی پی جے کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق اب تک اس جنگ میں مجموعی طورپر 8,000 عام شہری ہلاک ہوئے جن میں 27 صحافی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 8صحافی زخمی اور9 زیرِحراست یا گم شدہ ہیں۔ان میں 22 فلسطینی، 4 اسرائیلی اورایک لبنانی صحافی شامل ہیں۔

موت حکمران بانٹ رہے ہیں، زندگی ہم چھین کر لیں گے

معمول کے ادوار میں جب محنت کش طبقہ خاموشی سے حکمران طبقے کا ظلم و جبر برداشت کر رہا ہوتا ہے حکمران طبقہ خود کو دیوتا تصور کرنے لگتا ہے۔وہ محنت کشوں کا استحصال کرنا اپنا حق تصور کرتا ہے اور یہ سمجھتا ہے اس کی طاقت کو لگام دینے والا کوئی نہیں ہے۔ غلاموں میں یہ جرأت کہاں ہے کہ وہ ہمارے سامنے سر اٹھا سکیں۔عام حالات میں محکوم طبقے پر بھی حکمران طبقے کے نظریات غالب ہوتے ہیں۔محنت کش طبقہ خود کو حکمران طبقے کی دولت اور ریاست کے مقابلے میں حقیر، کمزور اور بے بس محسوس کرتا ہے۔جبر و استحصال اور محرومیوں کو مقدر سمجھ کر برداشت کرتا ہے،لیکن برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے،ظلم حد سے جب بڑھتا ہے تو بغاوت ہوتی ہے۔وہ بغاوت حکمران طبقے کی ریاست،ان کی سیاست، ان کے نظریات، اخلاقیات اور نفسیات کے خلاف ہوتی ہے، جو غربت اور محرومی کو محنت کشوں کا مقدر قرار دیتی ہے۔غلام مزید غلامی سے انکار کر دیتے ہیں۔ان میں اپنے ہونے کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

نواز شریف کی واپسی

جن تضادات نے حالات کو اس نہج تک پہنچایا ہے ان میں سے ایک بھی حل نہیں ہوا۔ اسٹیبلشمنٹ یا ڈیپ سٹیٹ کے ساتھ نواز شریف کا رشتہ جتنا ناپائیدار پہلے تھا اتنا ہی آج ہے۔ لیکن پاکستان کے حکمران طبقات اور پالیسی سازوں کے پاس اتنی گہرائی میں سوچنے کی نہ سکت ہے نہ وقت۔ لہٰذا وہ گھوم پھر کے پھر اسی تجربے کو دہرانے جا رہے ہیں جو ماضی میں کئی بار فیل ہو چکا ہے۔ شاید وہ اس کے علاوہ کچھ کر بھی نہیں سکتے۔ تاریخی طور پر ناکام نظاموں کے نمائندے دوررس دیکھنے اور سوچنے کی صلاحیتوں سے محروم ہو جاتے ہیں۔ چہرے جتنے بھی تبدیل ہوتے رہیں‘ حکومتیں آتی جاتی رہیں‘ محنت کش عوام کے لئے ایسے نظاموں میں ذلت اور بربادی کے سوا کچھ مضمر نہیں ہوتا۔ جب تک انہیں اکھاڑا نہ جائے‘ معاشرے ترقی اور آسودگی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتے۔