پاکستان

[molongui_author_box]

مولانا فضل الرحمن کا ذریعہ معاش…غیبی امداد

جرنیل مشرقی پاکستان میں لاکھوں شہریوں کا قتل عام کر کے آ گئے، ملک توڑ دیا۔۔۔مگر یحیٰی خان کو مرنے پر اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔ کسی بلوچ کو مار کر کسی ویرانے میں پھینک دو۔ کوئی پوچھنے والا نہیں۔ الٹا آواز اٹھاو تو خود غائب ہو جاو۔ عین اسی طرح، ہزاروں لوگ طالبان، سپاہ صحابہ، لشکر طیبہ اور ٹی ایل پی کے ہاتھوں مارے جا چکے ہیں۔ کبھی کسی مولوی کو سزا ہوئی نہ کبھی کسی جتھے کے خلاف کاروائی ہوئی۔بی ایل اے کے خلاف کاروائی کے لئے ایران سے جنگ لڑنی پڑ جائے، لڑ لیں گے لیکن تحریک طالبان پاکستان کے لئے عام معافی ہے۔

شدید سردی میں حکمران جی بی کی عوام کو بھوکا مارنا چاہتے ہیں لیکن ہم لڑیں گے: شبیر مایار

”گلگت بلتستان انتہائی دشوار گزار پہاڑی علاقہ ہے۔حکمران گندم جیسی بنیادی سہولت تک رسائی بھی چھیننا چاہتے ہیں۔ 17روز سے احتجاجی تحریک چل رہی ہے اور سکردو میں منفی 12سے 15درجہ حرارت کی شدیدسردی میں لوگ روزانہ کی بنیاد پر دھرنا دے رہے ہیں لیکن مطالبات کی منظوری کی بجائے شیڈول فورمیں نام کے اندراج کی صورت تحفہ دیا جا رہا ہے۔ حقوق کے حصول کیلئے ہم ہر سطح تک جائیں گے۔“
شبیر مایار کا تعلق بلتستان کے ضلع کھرمنگ سے ہے۔ وہ متحرک ترقی پسند قوم پرست رہنما ہیں اور گلگت بلتستان یونائیٹڈ موومنٹ کے پلیٹ فارم سے سرگرم ہیں۔ گلگت بلتستان میں جاری حالیہ تحریک کی قیادت کرنے والی عوامی ایکشن کمیٹی کا حصہ ہیں اور ضلع کھرمنگ کی قیادت کر رہے ہیں۔

یہ بیانئے کی جنگ نہیں ہے: ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ

مظاہرین جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور نجی ملیشیاؤں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر رہے ہیں۔ ابتدائی طورپر بالاچ کی لاش کے ساتھ تربت احتجاج جاری رہا، لیکن حکومت نے مطالبات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ ریلی کی شکل میں کوئٹہ کی طرف بڑھتے ہوئے مظاہرین کی بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور حکومت نے احتجاجی مارچ میں حصہ لینے والوں کی گرفتاریوں، من گھڑت مقدمات کے اندراج اور 44سرکاری ملازمین کو روزگار سے برطرف کر کے سخت رد عمل ظاہر کیا۔

امریکہ، اسرائیل اور غریدہ فاروقی کا سانجھا دکھ

بے گناہ، بے چارے انکل سام اورمعصوم صیہونی نازیوں کی طرح بھولی بھالی غریدہ فاروقی کو بھی سمجھ نہیں آ رہا کہ ماہ رنگ بلوچ بی ایل اے کے ہاتھوں شہید ہونے والے معصوم پنجابی مزدورں کی یاد میں اسلام آباد پریس کلب میں کیمپ لگانے کی بجائے را سے ساز باز کرنے والے نام نہاد لاپتہ افراد کا ماتم کیوں کر رہی ہے۔
وہ تو شکر ہے بلوچ دھرنے کی کوریج کے لئے بھیجنے والوں نے غریدہ فاروقی کو کبھی ڈھاکہ نہیں بھیجا ورنہ وہ حسینہ واجد سے ضرور پوچھتیں کہ آپ نے ریپ ہونے والی بے شرم بنگالی عورتوں کے فحش مجسمے تو چوکوں میں لگا رکھے ہیں مگر کیا آپ مکتی باہنی کی مذمت کرتی ہیں جنہوں نے پاکستانی سپاہیوں کو شہید کیا؟

اسلام آباد بلوچ دھرنا: اتحاد، یکجہتی اور نظم و ضبط کا آنکھوں دیکھا حال

احتجاجی دھرنا کو منظم کرنے کیلئے جس رضاکارانہ نظم و ضبط، اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے وہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ پولیس کی لگائی گئی خاردار تاروں کے اندر موجود احاطہ کو رسیوں کی مدد سے بلوچ رضاکاروں نے تقسیم کر رکھا ہے۔ خواتین کیلئے ایک خیمہ لگایا گیا ہے، جہاں کمبل اور خود کو گرم رکھنے کیلئے دریاں اور چٹائیاں بچھائی گئی ہیں۔ خواتین کے خیمہ کو ہی دھرنے کے مرکزی پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور قیادت بھی اسی خیمہ میں موجود رہتی ہے۔سامنے کی جگہ چھوڑ کر خیمہ کے تین اطراف رسیاں لگا کر راستے بند کئے گئے ہیں اور ہر طرف بلوچ رضاکار سکیورٹی کے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ خیمہ کی جانب داخل ہونے کیلئے ایک جگہ رسیوں کا ہی گیٹ نما بنایا گیا ہے، جہاں ہر وقت دو بلوچ رضاکار نوجوان موجود رہتے ہیں۔ ہر کچھ گھنٹے بعد وہ نوجوان تبدیل ہوتے ہیں، لیکن خیمہ کی طرف جانے والے ہر شخص کا مکمل تعارف اور تفصیل ان رضاکار نوجوانوں کے پاس نوٹ بک پر درج ہوتی ہے۔ میڈیا کے علاوہ اہم شخصیات، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور خواتین کو اس راستے سے خیمہ کی طرف جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔

بات مارشل لا کی طرف جا سکتی ہے

عسکری ریاست کا بحران اتنا بڑا ہے کہ فوج مارشل لاء لگانے کے قابل نہیں رہ چکی۔ فوج کی کوشش ہے کہ ہائبرڈ حکومت قائم کی جائے۔مصیبت یہ ہے کہ پہلے ناکام ہائبرڈ تجربے کے بعد حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ اگلا ہائبرڈ تجربہ ابھی تو لانچ ہی ہوا نہیں اور ناکام قرار دیا جا رہا ہے۔

بلوچستان: ریاستی جبر کو للکارتی عوامی مزاحمت

حکمران طبقہ ریاست کے وجود کو اس لیے ضروری قرار دیتا ہے کہ ریاست شہریوں کے جان و مال کا تحفظ کرتی ہے۔کہنے کوتویہ اس لئے ضروری ہے کہ تمام شہری آئین و قانون کا احترام کریں، مگر درحقیقت ریاست انسان کے جان و مال کو تحفظ دینے کے لیے نہیں بلکہ اس وقت وجود میں آئی جب سماج کی طبقات میں تقسیم ہوئی۔

عام انتخابات: محنت کشوں کیلئے کوئی پروگرام نہیں

پاکستان میں فروری کے عام انتخابات کیلئے محنت کش طبقے میں بہت کم جوش و خروش پایا جاتا ہے۔ یہ جزوی طور پر اس بڑی غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے ہے، جو انتخابات کے انعقاد کے امکانات کو گھیرے ہوئے ہے۔ بہت سے محنت کش اب بھی سمجھتے ہیں کہ انتخابات ملتوی ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایسے لوگ بھی ہیں، جنہیں یقین ہے کہ انتخابات کا انعقاد ہوگا اور وہ مزدوروں کی بہبود کیلئے اپنے مطالبات پر آواز اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خواتین کی قیادت میں اسلام آباد کے ایوانوں پر دستک دیتی بلوچ مزاحمت

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل عام کی تاریخ بھی نئی نہیں ہے۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا پاکستان میں دو ایسے صوبے ہیں، جہاں سب سے زیادہ افراد دکو جبری طورپر لاپتہ کیا گیا ہے اور ماورائے عدالت قتل کیا گیا ہے۔ خیبر پختونخوا دہشت گردی کی لپیٹ میں رہا اور دہشت گردی کیخلاف جنگ کے نام پر پشتونوں کو ریاستی جبر، اغواء اور ماورائے عدالت قتل عام کا سامنا کرنا پڑا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ تاہم بلوچستان میں یہ سلسلہ زیادہ تر قومی محرومی کے خلاف مزاحمت کے نتیجے میں نظر آرہا ہے۔

اونگھتے کان اور جرس کی پکار

ماضی کے کنٹرولڈ ‘جمہوری عمل’ اور 10 انتخابات کے بعد پاکستان میں جمہوری، انسانی حقوق اور آزادیاں بڑھنے کی بجائے سلب ہوتے ہوتے سکڑتی جا رہی ہیں۔ اب تو ماضی جیسا کنٹرولڈ "آزادانہ” انتخابی عمل بھی ممکن نہی رہا ہے بلکہ 2023 میں تو علم نجوم کے بغیر ہی ہر کسی کو پتا چل گیا ہے کہ اگلی حکومت’ کس کی، کس قسم کی اور کتنے اختیارت کی حامل ہو گی۔ پاکستانی جمہوریت کی مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ پانچ سال کے لئے منتخب ہوتی ہے اور وزیر اعظم کو درمیانے سالوں میں ہی چلتا کر دیا جاتا ہے۔