پاکستان

ڈاکٹر لال خان روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رُکن تھے۔ وہ پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کے انٹرنیشنل سیکرٹری اور تقریباً چار دہائیوں تک بائیں بازو کی تحریک اور انقلابی سیاست سے وابستہ رہے۔


چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اُٹھا کے چلے: علی وزیر

آج تک ملک میں محکوم قومیں، طلبہ، مزدور اور کِسان، خواتین، اور زیر عتاب مذاہب کے لوگ اپنے حقوق اور امن کے لئے سڑکوں پر سراپا احتجاج ہیں۔ نہ تعلیم وعلاج،نہ روزگار اورنہ رہائش کا حق،اورنہ صنعت سازی۔جنگ اور شورش زدہ زدوہ علاقوں کے غربت زدہ محنت کش کے جوان گلف میں غلامی پر مجبور ہیں۔

بحریہ ٹاؤن ہی ’منی اسرائیل‘ نہیں، ہر رئیل اسٹیٹ ڈویلپر ملک ریاض ہے

وجودہ حکومت نے تعمیراتی شعبہ کو جو ٹیکس ایمنسٹی دی ہے لیکن یہ کوئی نہیں جانتا کہ پرائیویٹ رئیل اسٹیٹ ڈویلپرز بالخصوص بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض ریاست کے اندر ریاست قائم کرکے پہلے ہی بحریہ ٹاون کے صارفین سے اربوں کھربوں روپے ماہانہ کی بنیادپر لوٹ رہے ہیں۔

’خفیہ طور پر اسرائیل نہیں گیا‘

گزشتہ سال زلفی بخاری کے خفیہ دورہ اسرائیل کی افواہیں اس وقت شروع ہوئی تھیں جب ایک خبر میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم کے مشیر نے نومبر 2020ء میں اسرائیلی عہدیداروں سے تل ابیب ایئر پورٹ پر ملاقات کی تھی۔

کیا پاکستان کو ایسی شرم و حیا کی ضرورت ہے؟

سعودی عرب اور خلیجی ممالک دنیا کے سب سے زیادہ قدامت پسند ممالک ہوتے تھے جبکہ پاکستان زیادہ آزاد اور نرم مزاج ممالک میں شمار کیا جاتا تھا۔ یہ صورتحال اب بدل گئی ہے۔ اس وقت پاکستان نہ صرف ریورس گیئر میں ہے بلکہ زیادہ تیزی سے قدامت پسندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ مستقبل میں پی ٹی آئی کے نصاب تعلیم کے متاثریں جتنے مجہول اور جاہل ہوں گے، اس کی ہمیں بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی۔

بحریہ اور ڈی ایچ ایز لیون ٹراٹسکی کے عدسے سے

اکثریت کی خوشحالی سے بیگانہ ترقی کا خاتمہ صرف سوشلسٹ سماج میں ہی ممکن ہے جہاں ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ بہترین رہائش ہر انسان کو میسر ہو گی، شہر اور دیہات کی تفریق ختم ہوجائے گی، جہاں وسائل ایک مٹھی بھر طبقے کی بجائے پورے معاشرے کے کنٹرول میں ہوں گے اور جہاں کوئی آہنی گیٹوں والی ہائوسنگ سوسائٹی نہیں ہو گی بلکہ پورا سماج گل و گلزار ہو گا۔

جموں کشمیر: 25 جولائی کو الیکشن کے نام پر سلیکشن ہو گی

اس نظام کے اندر رہتے ہوئے انتخابات محض سرمائے کی آمریت کے سوا کچھ نہیں ہیں، کروڑوں روپے اخراجات کرنے کی اہلیت کے بغیر انتخابات میں حصہ لینا ہی ممکن نہیں ہے۔ نہ ہی انتخابات کے ذریعے سے منتخب ہونے والے کسی بھی طور کی فیصلہ سازی کرتے ہوئے محنت کش طبقے کے دکھوں کا مداوا کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے مسائل کا شکار اس خطے کے محنت کشوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کیلئے اس نظام میں اب گنجائش ہی موجود نہیں رہی۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کی اکثریت ان انتخابات اور حکمرانوں سے بیگانہ اور مایوس نظر آتی ہے۔

’باپ کا پیسہ‘: پروفیسروں کو تنخواہ نہیں مل رہی، بشری بی بی روحانی یونیورسٹیاں بنوا رہی ہیں

29 مئی کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی ایک خبرکے مطابق اسلامیہ کالج پشاور کی 110 سالہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ نہ صرف سٹاف کو پوری تنخو اہ نہیں مل رہی بلکہ سابق ملازمین کی نصف پنشن بھی ادا نہیں کی جائے گی۔