Day: ستمبر 29، 2021

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔


افغانستان سے امریکی انخلا: کیا جموں کشمیر پھر سے اکھاڑا بننے جا رہا ہے؟

جموں کشمیر پر فوجی قبضے اور جبر کے سائے تلے پلنے والی غربت، لا علاجی، جہالت اور معاشی و سماجی عدم استحکام کے خلاف جدوجہد کے راستے میں اپنا سب کچھ کھو دینے والے کشمیریوں کی نئی نسل جوان ہو رہی ہے۔ ماضی کے تجربات سے سبق بھی سیکھ رہی ہے اور ترقی پسند نظریات سے روشناس بھی ہو رہی ہے۔ انقلابی نظریات کی ماضی کی تاریخ پھر سے دہرائے جانے کا وقت قریب تر ہے۔ تمام تر نفرت اور حقارت کو مرتکز کرتے ہوئے انقلابی نظریات کا دامن تھامنے والے نوجوانوں کی پکار پورے برصغیر کے نوجوانوں اور محنت کشوں کو جھنجھوڑنے کی صلاحیت اور اہلیت کی حامل ہو گی۔ محنت کش طبقے کی اجتماعی طاقت کی بنیاد پر اس خطے سے سرمایہ دارانہ نظام کا خاتمہ اور سوشلسٹ انقلاب کے ذریعے ایک رضاکارانہ فیڈریشن کا قیام ہی خطے کی محکوم قومیتوں اور محروم طبقات کی معاشی، سیاسی اور سماجی آزادیوں کا ضامن ہو گا۔

کابل پر طالبان قبضے کے بعد پاکستان میں 35 دہشت گرد حملے، 52 ہلاکتیں

افغانستان سے عسکریت پسندوں کی فائرنگ سے گزشتہ ماہ 2 پاکستانی فوجی مارے گئے تھے جبکہ کئی زخمی ہوئے تھے۔ آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق ستمبر میں جنوبی وزیرستان پر دہشت گردوں کے خلاف ایک کارروائی کے دوران مزید 7 فوجی اہلکار ہلاک ہوئے۔