پاکستان

اسٹیبلشمنٹ اور مخالفین میں حقیقی لڑائی ہے مگر لڑائی صرف سیاسی میدان تک محدود ہے

عمار جان

کل جماعتی کانفرنس کا اعلامیہ عوامی بیانئے کے طور پر ایک اہم پیش رفت ہے۔ لاپتہ افراد، بلوچستان اور سیاسی جبر کی بات کرنا ایک مثبت علامت ہے اور اسے خوش آمدید کہنا چاہئے۔

دوسری جانب، ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہئے ہم عصر دنیا میں استبدادیت کی جڑ وہ سماجی و معاشی گراوٹ ہے جو عالمی سطح پر نظر آ رہا ہے۔ مہنگائی، بیروزگاری اور”ترقی“ کے نتیجے میں ہونے لوگوں کی بے دخلیاں، جنگ اور ماحولیاتی تبدیلیاں ایک معمول بنتے جا رہے ہیں۔

ان بحرانوں کا عالمی سطح پر جواب یہ دیا جا رہا ہے کہ روز مرہ کی زندگی ملٹرائزیشن کا شکار ہو رہی ہے۔ ہمیں اچھی طرح یاد ہے کہ گذشتہ حکومتیں بھی اس وقت طاقت کا بے رحمانہ استعمال کرتی تھیں جب مزدور، طلبہ اور محکوم قومیتیں یا دیگر محروم طبقات اپنا حق مانگتے تھے۔

اسٹیبلشمنٹ اور اسٹیبلشمنٹ مخالف طاقتوں میں اس وقت حقیقی لڑائی ہو رہی ہے مگر یہ لڑائی صرف سیاسی میدان تک محدود ہے۔یہ معیشت کے میدان میں نہیں ہے۔ بالخصوص جب مزدور حقوق اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی بات آتی ہے تو دونوں میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔

اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایک متبادل سماجی و معاشی پروگرام دیں جو عالمی سرمایہ داری نظام کی مزدوروں پر مسلط مصیبتوں سے نجات دلائے۔

موجودہ سیاسی جماعتیں ان مسائل پر بات ہی نہیں کریں گی کیونکہ وہ اس معاشی نظام سے بہرہ مند ہو رہے ہیں۔ سیاسی، معاشی اور سماجی آزادی کی منزل ایک کٹھن منزل ہے اور اس منزل تک پہنچنے کے لئے ایک نئی سیاسی قوت کی ضرورت ہے جو لوگوں کی حقیقی امنگوں کی ترجمان ہو۔

Ammar Ali Jan

عمار علی جان حقوق خلق موومنٹ کے ساتھ کام کرتے ہیں اور ایف سی کالج یونیورسٹی لاہور میں پڑھاتے ہیں۔