دنیا

سری لنکا: یہ کس کا لہو ہے کون مرا؟

 فاروق طارق

سری لنکا کے گرجا گھروں اور تین فائیو سٹار ہوٹلوں میں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں غیر ملکی سیاحوں سمیت تین سو سے زائد افراد کی ہلاکت اور چار سو سے زائد افراد کے زخمی ہونے کے اندوہناک واقعات نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ بہت کم ہی تاریخ میں کسی  غیرریاستی دہشت گردی کے ایک واقعے میں اتنے افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔

یہ ہلاکتیں ایسٹر کے موقع پر مسیحی کمیونٹی کو ٹارگٹ کرنے کے نتیجے میں ہوئی ہیں۔ آخری اطلاعات کے مطابق پچیس افراد کو شک کی بنیاد  پر گرفتار کیا گیا ہے اور ملک میں سوشل میڈیا کو بند کردیا گیا تھا۔

اب یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چار اپریل کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے حکومت کو ممکنہ دہشت گردی کے واقعے کی وارننگ دےدی تھی۔ لیکن پولیس کا محکمہ صدر کے پاس ہے اور اس نے وزیر اعظم کو اطلاع دینے کی بھی زحمت گوارا نہیں کی۔ کیونکہ دونوں کے درمیان تعلقات کافی کشیدہ ہیں۔

ان واقعات نے سری لنکا میں 1983ء سے 2009ء تک ہونے والی خانہ جنگی اور دہشت گردی کے واقعات کی یاد تازہ کر دی ہے۔وہاں اقلیتی  تاملوں کی اکثریتی سنہالی کمیونٹی کے خلاف قومی حقوق کی جدوجہد نے کئی بار دہشت گردی کی حکمت عملی اپنائی۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید طرز کے خودکش دھماکوں کا آغاز سری لنکا سے ہی ہوا تھا۔ مگر تامل بغاوت کو فوجی آپریشن میں کچلنے کے بعد پچھلے دس سال سے ایک خاموشی تھی اور دہشت گردی کے واقعات رونما نہیں ہوئے تھے۔

خانہ جنگی کے  پچیس سالوں کے دوران مختلف جائزوں کے مطابق چالیس ہزار سے  ایک لاکھ تک افراد  ہلاک ہوئے۔سری لنکن افواج نے تامل کمیونٹی کو جس بے دردی سے کچلا اس کی بھی مثال کم ہی ملتی ہے۔ سری لنکا کی فوج کی جانب سے تامل علاقوں کی فتوحات اور تامل ٹائیگرز کی مکمل شکست، جس دوران بربریت کے نئے ریکارڈ قائم کیے گئے تھے، کو دہشت گردی کے مکمل خاتمے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔

پاکستان میں بھی دہشت گردی کے’سری لنکن حل‘ کی باتیں دہرائی جاتی رہی ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ تامل آبادی کی سرکشی قومی حقوق کے لئے تھی، کسی مذہبی برتری کے لئے نہیں۔ اس لئے معاملہ یہاں سے بہت مختلف تھا۔

اگر مذاہب کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سری لنکا میں 2011ء کے ایک سروے کے مطابق 70.2 فیصد لوگ بدھ مت، 12.6 فیصد ہندو، 9.7 فیصد مسلمان اور 7.4 فیصد مسیحی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔

پچھلے عرصہ میں سری لنکن صدر کی جانب سے وزیر اعظم کو ہٹانے کی کوششیں بالآخر وہاں کی سپریم کورٹ کے حکم پر ناکام ہو گئی تھیں۔ صدر سری سینا کا تعلق سری لنکن فریڈم پارٹی (SLFP) سے ہے جبکہ وزیر اعظم متحارب سیاسی جماعت سری لنکن یونائیٹڈ نیشنل پارٹی (UNP) سے ہیں۔ دونوں دائیں بازو کی سیاسی جماعتیں ہیں اور ان کا تعلق اکثریتی سنہالی کمیونٹی سے ہے۔

سری لنکا کا بایاں بازو تقسیم ہے۔ کمیونسٹ پارٹی اور سری لنکا سما سماجا پارٹی (LSSP) صدر کی پارٹی کے ساتھ ہیں۔ جبکہ نیو سما سماجا پارٹی (NSSP) بھی دو حصوں میں تقسیم ہے۔  ایک دھڑا وزیر اعظم کی حمایت کرتا ہے جبکہ دوسرا دھڑا لیفٹ وائس (Left Voice) بائیں بازو کی آزادانہ جدوجہد پر یقین رکھتا ہے۔

موجودہ دہشت گردی کس گروپ نے کی؟ اس کی ذمہ داری تو تادمِ تحریر کسی گروپ نے قبول نہیں کی۔ لیکن سرکاری طور پر کچھ تاخیر کے بعد اس کا ذمہ دار  داعش سے وابستہ ایک مقامی انتہاا پسند گروہ کو ٹھہرایا گیا ہے جو کم از کم عالمی سطح پہ پہلے کوئی مقبولیت نہیں رکھتا تھا۔ یہ بات اب واضح ہے کہ خودکش دھماکے کرنے والے دو افراد مقامی مسلمان تھے جنہوں نے اس کی پوری تیاری کی ہوئی تھی۔ سوشل میڈیا پر ایک خود کش بمبار کا حملے سے پہلے کا ویڈیو پیغام بھی گردش کر رہا ہے۔ مارچ 2019ء میں ایک سفید فام مسیحی انتہا پسند نے نیوزی لینڈ کے کراسٹ چرچ میں جس طرح مساجد کو نشانہ بنایا تھا یہ اس کا ردِ عمل ہو سکتا ہے۔

حالیہ سالوں میں ایسٹر پر مسیحی کمیونٹی کو پہلے بھی کئی بار نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ 2017ء میں مصر میں پالم سنڈے حملے میں 45 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح 2016ء میں لاہور میں ایسٹر کے موقع پر مسیحیوں پر دہشت گردی کے حملے میں 75 افراد ہلاک ہوئے تھے۔لیکن سری لنکا کی مسیحی کمیونٹی پر یہ حملہ شاید ایسٹر پر ہونے والوں حملوں میں سب سے زیادہ خونی ہے۔

اب جبکہ یہ واضح ہو رہا ہے کہ مسلمان بنیاد پرست جنونیوں نے یہ حملہ کیا ہے تو اس کا ردعمل سری لنکا سمیت دنیا بھر میں ایسے واقعات کی صورت میں سامنے آسکتا ہے جس میں عام مسلمانوں کو نشانہ بنایا جائے۔سری لنکا میں پہلے ہی مساجد پر حملوں کی خبریں گردش کر رہی ہے۔

چاہے کرائسٹ چرچ میں جاں بحق ہونے والے مسلمان ہوں یا  اب سری لنکا میں ہلاک ہونے والے عیسائی، دہشت گردی کا خمیازہ بالعموم عام لوگوں کو ہی بھگتنا پڑتا ہے جن کا بنیاد پرستی یا مذہبی جنون سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور کامیاب سے کامیاب دہشت گردی بھی، چاہے وہ کوئی ریاست ہی کیوں نہ کرے،  اپنے پیش کردہ  مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہ کسی طبقے، کمیونٹی یا ریاست کو وقتی دھچکا تو پہنچا سکتی ہے اس کو مستقل ختم نہیں کر سکتی۔ یہ بنیاد پرستی اور مذہبی جنون، جسے جدید شکل میں امریکہ جیسی سامراجی ریاستوں نے دہائیوں کی پشت پناہی اور سرمایہ کاری سے پروان چڑھایا، آج بے گناہوں کا ہی خون بہا رہا ہے اور مظلوم طبقات کو آپس میں تقسیم کرنے کے کام آتا ہے۔

ابھی اس واقعے اور اس کے پس پردہ محرکات کی مزید تفصیلات آنا باقی ہیں۔ لیکن اس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔