دنیا

آخری مباحثے نے امریکہ میں صدارتی انتخابات کی لاج رکھ لی!

قیصر عباس

امریکی انتخابات سے دس دن پہلے صدارتی امیدواروں جوبائیڈن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آخری مباحثے میں بالآخر ذاتی معاملات کے بجائے ملک کو درپیش اصل مسائل پر اپنے خیالات کا اظہار کیااگرچہ دونوں کے درمیان کچھ ذاتی حملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ جوبائیڈن نے مستقبل کے لئے کرونا وائرس، امیگریشن، نسلی تعصبات، صحت عامہ اور اقتصادی و عدالتی اصلاحات کے منصوبوں پر بات کی۔ دوسری جانب ٹرمپ نے زیادہ تر اپنے چار سالہ صدارتی دور کا دفاع کیا اور آٹھ سالہ دورِ اقتدارکے دوران جوبائیڈن کی نائب صدر کی حیثیت سے کارکردگی پر سخت تنقید جاری رکھی۔

خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات پر روس، ایران، چین، یوکرین اور شمالی کوریا زیر بحث رہے۔ جو بائیڈن نے کہا کہ چین کو بین الاقوامی قوانین پر کار بند رہنا چاہئے اور اگر وہ صدر بنے تو چین کوعالمی سطح پرضابطوں کا پابند بنا یا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کے چین میں تجارتی مفادات ہیں جہاں بینکوں میں ان کے اکاؤنٹ بھی موجود ہیں۔

اپنے جوابی حملے میں صدر نے الزام لگایا کہ جوبائیڈن کے نائب صدر بنتے ہی ان کے بھائی نے ملک کے باہر مالی فوائد حاصل کئے ہیں اور ان کے بیٹے ہنٹر جو نے چین اور یوکرین میں منافع کمایا۔

صدر ٹرمپ کے اس بیان پر کہ انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ سے اچھے تعلقات رکھے جو بائیڈن نے کہا کہ اس لیڈر سے جو امریکہ کو دھمکیاں دے اور امریکہ کی سلامتی کے لئے خطرہ ہو صدر ٹرمپ کس لئے اچھے تعلقات رکھنا چاہتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ”صدر اوباما کے دور میں شمالی کوریا کے ارد گرد فوجی اور سفارتی گھیرا تنگ کیا گیا تھا تاکہ وہ مزید ہتھیار نہ بنائے لیکن حال ہی میں انہوں نے خطرناک بلاسٹک میزائل بنالئے ہیں اور صدر ٹرمپ بالکل بے بس نظر آتے ہیں۔“

نیو یارک ٹائمز کی ایک حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس اور ایران امریکی انتخابات میں کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے اثر انداز ہورہے ہیں۔ اس مسئلے پر جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ”یہ امریکی معاملات میں دخل اندازی ہے اور اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو ان ملکوں کو اس کا جواب دینا ہوگا اوروہ کبھی اس مسئلے پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔“

امیگریشن پالیسی کے بارے میں ایک سوال پر بائیڈن نے کہاکہ میکسکو کی سرحد پر پانچ سو بچوں کو اپنے والدین سے علیحدہ رکھا گیا اور اب ان کے خاندانوں کا کوئی اتا پتہ معلوم نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی حکومت انسانی حقوق کا پاس کرتے ہوئے ان تارکین کو شہریت دے گی جو اب ملک میں موجود ہیں۔

امریکی صدر نے سوال کیا کہ گزشتہ آٹھ برسوں کے دوران بائیڈن نائب صدر کی حیثیت سے صدرا وباما کی انتظامیہ کا حصہ رہے مگر امیگریشن کا مسئلہ کیوں حل نہیں کرسکے؟ انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی حکومت نے تارکین وطن کے لئے پنجرے بنوائے اور اصل سوال یہ ہے کہ وہ مستقبل میں اس مسئلے کو کس طرح حل کریں گے؟

امریکہ میں نسلی تعلقات اور اقلیتوں سے سلوک کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا جس میں دونوں امیدواروں سے مباحثے کی ناظم این بی سی ٹی وی نیوزکی کرسٹین ویلکر نے سوال کیا کہ وہ رنگ و نسل کی بنیاد پر تفریق اور تعصب کے خاتمے کے لئے کیا اقدامات کریں گے؟

جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ رنگ و نسل کا مسئلہ امریکہ میں اب اداروں کی سطح پر تعصب کا مسئلہ بن چکا ہے جس کے لئے عدالتی ا ور پولیس کے نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کی بدولت”ہم آج سماج میں تفریق کی طرف بڑھ رہے ہیں تعاون کی جانب نہیں جہاں اقلیتوں کو سماجی دھارے سے باہر رکھنے کی بات کی جارہی ہے۔“

دوسری جانب صدر کا کہنا تھا کہ ”مجھ سے بہتر سماجی اتحاد اور ہم آہنگی کا حامی اس کمرے میں کوئی اور نہیں ہوسکتا۔“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے لاطینی امریکہ کے تارکین اور سیاہ فام امریکیوں کی تعلیم، عدالتی انصاف اور اقتصادی بہتری کے لئے منصوبے تشکیل دئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ گزشتہ ڈیموکریٹک حکومتوں نے افریقی امریکیوں کو بڑی تعداد میں کرمنل قوانین کے تحت جیلوں میں قید کیا اور بڑی مدت کے لئے کوئی مالی مدد نہیں نہیں کی جب کہ انہوں نے ان مقا صد کے لئے ایک بڑی رقم مخصوص کی ہے۔

دونوں امیدواروں نے مباحثے میں کرونا وائریس کے مسئلے پر بھی ایک دوسرے پر الزامات لگائے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق یہ ایک بین الاقوامی وبا ہے جس کا آغاز چین سے ہوا اور ان کی حکومت نے امریکہ میں اس کے اثرات کو پچاسی فیصدکم کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق بیشتر ریاستوں میں وبا اپنے عروج کو پہنچ کر اب کم ہورہی ہے اور”ہم ماسک اور ونٹی لیٹرز کے ذریعے اس بیماری پر قابو پارہے ہیں اور اس سال کے آخر میں اس کی ویکسین بھی تیار ہوجائے گی۔“

سابق نائب صد رنے ان دعوؤں کو غلط ثابت کرتے ہوئے بتایاکہ موجودہ صدر کے پاس کرونا وائرس کی روک تھام کا کوئی منصوبہ نہیں ہے جس کے نتیجے میں 220,000 امریکی اپنی جان سے ہاتھ دھوچکے ہیں۔ ماہرین صحت آنے والے موسم کوایک ’تاریک موسم سرما‘ قرار دے رہے ہیں اور ابھی تک اس سے نبٹنے کا کو ئی منصوبہ سامنے نہیں آیا۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر موجودہ ہیلتھ انشورنس کو ختم کیا گیا تو دس ملین لوگ انشورنس سے محروم ہوجائیں گے، صدر نے کہا کہ وہ ایک بہتر ہیلتھ انشورنس کانظام متعارف کرائیں گے۔

دوسری طرف ان کے حریف جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ صحت کی سہولتیں حاصل کرنا لوگوں کا حق ہے اور ہم انہیں یہ سہولتیں کم قیمتوں پر فراہم کریں گے۔ لوگ منتظر ہیں کہ انہیں اپنی صحت کے لئے بہتر مگر سستا نظام فراہم کیا جائے اور ”جو لوگ پہلے سے بیمار ہیں انہیں بہتر سہولتیں دی جائیں نہ کی انہیں انشورنس فراہم کرنے سے انکار کیا جائے۔“

موسمیاتی تبدیلوں کے اثرات پر بھی دونوں صدارتی امیدواروں میں گرماگرم بحث ہوئی۔ بائیڈن نے مزدور وں کی جانب سے اپنی انرجی پالیسی پر کئے گئے اعتماد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ان کا منصوبہ بڑے پیمانے پر اس شعبے میں ملازمت کے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پٹرولیم انڈسٹری پر انحصار کم کرتے ہوئے شمسی توانائی اورہواسے چلنے والی ٹربائنز کے شعبے میں بہتر تنخواہوں پر ملازمین رکھے جائیں گے۔ ”ہم صاف ستھرے توانائی کے منصوبوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اپنی اقتصادی ترقی کو فروغ بھی دے سکتے ہیں“ انہوں نے اپنی توانائی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے مزید کہا۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ہم آج دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں موسمیاتی تبدیلو ں سے بہتر طور پر نبرد آزما ہورہے ہیں جب کہ ”روس اور انڈیا کا شماردنیا کے آلودہ ترین اورگندے ملکوں میں ہورہاہے۔“

دونوں امیدواروں نے ان اہم مسائل کے علاوہ بے روزگاری، صدر کے ٹیکس گوشواروں اور دوسرے مسائل پر بھی بات کی۔ مجموعی طورپر جہاں ڈیموکریٹک امیدوار جو بائیڈن نے سماجی اتحاد اور غربت کے مسائل حل کرنے پر زور دیا وہاں رپبلک امیدوار صدر ٹرمپ نے ملک کو دو پارٹیوں میں بانٹنے کی کوشش کی اور جزوقتی ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق اس طرح صنعتوں کو نقصان پہنچنے کی امیدہے۔

اب جب کہ امریکہ میں انتخابی مہم اپنے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور ووٹروں کی بڑی تعداد قبل از وقت اپنا حق رائے دہی استعمال کرچکی ہے سیاسی پنڈتوں کی رائے میں اس مباحثے سے انتخابات کے نتائج پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔ بہرحال اس کے ذریعے دونوں پارٹیوں کے مابین مسائل حل کرنے کے لئے حکمت عملی کی تشکیل اور عام لوگوں کے مسائل پردونوں امیدواروں کا موقف مزید واضح ضرور ہوا ہے۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔