سوچ بچار

باچہ خان یونیورسٹی: ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر سنگسار کرنے کا اعلان کیا جائے

فاروق سلہریا

وائس چانسلر ڈاکٹر بشیر صاحب!

تین چار دن قبل اس ایمان افروز خبر نے ہم جیسے گناہ گاروں کا خون بھی جوش ایمان سے گرما دیا کہ آپ نے اپنی یونیورسٹی میں نہ صرف طلبا و طالبات بلکہ اساتذہ پر بھی ڈریس کوڈ لاگو کر دیا۔

آپ کی یونیورسٹی میں آنے والی طالبات کے لئے ڈریس کوڈ بہت ضروری تھا۔ کچھ عرصہ قبل میں آپ کی یونیورسٹی آیا تھا۔ اکثر طالبات نے سر پر سفید چادر اوڑھ رکھی تھی اور اسی چادر کے پلو سے منہ ڈھانپ رکھا تھا جو انتہائی شہوت انگیز عمل ہے۔ اگر باچہ خان یونیورسٹی میں طالبات اس طرح کے نقاب پہن کر آئیں گی تو فیکلٹی کے مرد ارکان کی توجہ درس و تدریس پر مرکوز نہیں رہے گی۔

آپ کا یہ فیصلہ کہ طالبات سیاہ رنگ کی عبایا اور سر پر سفید سکارف پہنیں انتہائی مستحسن عمل ہے لیکن ہماری روایات کے عین مطابق نہیں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ یونیورسٹی میں برقع لازمی قرار دیا جائے۔ طالبات نیلے برقعے اور خواتین اساتذہ سفید برقعے میں یونیورسٹی آئیں۔

اسی طرح مرد طالب علموں اور مرد اساتذہ کے لئے جو ڈریس کوڈ لاگو کیا گیا ہے وہ ہماری روایات سے مکمل ہم آہنگی نہیں رکھتا۔ پینٹ کوٹ پہننے کی اجازت دے کر آپ نے مغربی کلچر کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ نہ صرف پینٹ کوٹ پر پابندی لگائی جائے بلکہ مرد اساتذہ اور طالب علموں سے داڑھی رکھنے کی شرعی پابندی کو لباس کا حصہ بنایا جائے۔ امید ہے آپ خود بھی داڑھی رکھنے کی سعادت حاصل کریں گے۔

معزز وائس چانسلر صاحب! جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہمارے ہاں اچھے اقدامات اٹھا تو لئے جاتے ہیں مگر کچھ دیر بعد ان پر عمل درآمد جاری نہیں رہتا۔

میری تجویز ہے کہ ڈریس کوڈ پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے شرعی سزاوں کا اعلان بھی کیا جائے۔ ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو سنگسار کیا جائے۔ داڑھی نہ رکھنے والے حضرات کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اور جو فیکلٹی ممبر سائنسی تحقیق کرنے کی کوشش کرے اسے پھانسی پر لٹکا دیا جائے۔ میری یہ تجویز بھی ہے کہ یونیورسٹی کا نام بدل کر ملا عمر یونیورسٹی رکھا جائے۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

فقط۔

عمران خان

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔