پاکستان

آج عدم اعتماد کے بعد نئے الیکشن کرائے جائیں

 فاروق سلہریا

سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے رکن سینیٹ منتخب ہونے کے بعد ملکی سیاست کا منظر نامہ بدل سا گیا ہے۔ اس انتخاب کا فوری نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عمران خان آج ایک بڑا جوا کھیلنے جا رہے ہیں: وہ آج قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے۔

ان کے خلاف آج عدم اعتماد ہو سکے گا؟

اس کا امکان کم ہے۔ سب کو معلوم ہے کہ یوسف رضا گیلانی کسی جمہوری طریقے سے سینیٹ تک نہیں پہنچے۔ یہ حکمران طبقوں کے آپسی جوڑ توڑ کا نتیجہ ہے۔ اس جوڑ توڑ کی سیاست سے یہی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مقتدرہ قوت کہلانے والے لوگوں نے پیپلز پارٹی کی پیٹھ تھپکی ہے۔

دوسری جانب اگر عمران خان نے عدم اعتماد کا جو جوا کھیلا ہے غالباً اس کی پیشگی تیاری کی گئی ہے۔ ممکن ہے وہ آج کے دن بچ جائیں۔ یہ بہرحال طے ہے کہ موجودہ سیٹ اپ اب زیادہ عرصہ چل نہیں پائے گا۔ محکمہ زراعت کے گملے میں لگایا گیا تحریک انصاف کا پودا مرجھا چکا ہے۔ یہ تجربہ بری طرح ناکام ہوا ہے۔

عمران خان کی رخصتی کے بعد کیا ہو گا؟

پیپلز پارٹی ان ہاؤس تبدیلی چاہے گی۔ اس طرح اسے اقتدار میں سندھ کے علاوہ مرکزی سطح پر بھی حصہ مل جائے گا۔ اس کے برعکس مسلم لیگ نواز فوری انتخابات کا مطالبہ کرے گی۔ مسلم لیگ نواز کی قیادت سمجھتی ہے کہ ان ہاؤس تبدیلی کے نتیجے میں انہیں زیادہ حصہ نہیں ملے گا جبکہ تازہ انتخابات کے بعد نہ صرف مرکز اور پنجاب بلکہ شائد خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں بھی وہ مخلوط حکومت بنا سکے۔

اس سوال پر پی ڈی ایم ٹوٹ بھی سکتی ہے۔

ترقی پسند قوتوں کا مطالبہ بھی اندریں حالات یہ ہونا چاہئے کہ یہ حکومت رخصت ہو۔ اس کے جانے کے بعد آزادانہ انتخابات کرائے جائیں۔ ان انتخابات کی نگرانی سول انتظامیہ کرے۔ فوج کا عمل دخل انتخابات اور سیاست میں ختم ہونا چاہئے۔

یہ درست ہے کہ حکومت پیپلز پارٹی کی بنے یا مسلم لیگ کی، عام شہریوں کو کوئی دیرپا فائدہ ملنے والا نہیں البتہ ہائبرڈ رجیم کے ٰ موجودہ تجربے کی ناکامی سے یہ بات واضح ہو جائے گی کہ نام نہاد اسٹیبلشمنٹ اپنی مرضی سے بہت لمبے عرصے تک لوگوں کے جمہوری مینڈیٹ کو بندوق کی نوک پر یرغمال نہیں بنا سکتی۔

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔