خبریں/تبصرے

آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری ہو سکتے ہیں تو علی وزیر کے کیوں نہیں؟

فاروق طارق

علی وزیر اور محسن داوڑ کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ کر کے حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس بات میں بھی جانب دارانہ رویہ رکھتی ہے کہ کس کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے ہیں اور کس کے نہیں۔ آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کو تو پارلیمنٹ میں بلالیا گیا مگر علی وزیر اور محسن داوڑ کو نہیں۔

جیل سے آصف زرداری کے پارلیمنٹ میں آنے کے بعد انکے پہلو میں بیٹھے بلاول بھٹو سے جب بی بی سی کی نمائندہ نے پوچھا کہ دیگر دو اراکینِ پارلیمنٹ کے پراڈکشن آڈر جاری کیوں نہ کیے گئے اور کیا آپ انکے اسمبلی آنے کا مطالبہ کرتے ہیں‘ تو بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم نے تو دوبار لکھ کر علیحدہ علیحدہ محسن داوڑ اور علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور اس پر مسلم لیگ ن کی جانب سے خواجہ آصف کے بھی دستخط ہیں مگر یہ اب حکومت کی مرضی ہے جبکہ ہم یہ مطالبہ کرنا جاری رکھیں گے۔

گزشتہ روز جیو ٹی وی کے پروگرام ’رپورٹ کارڈ‘ میں صحافی مظہر عباس نے بھی یہ سوال اٹھایا کہ ان دو اراکینِ پارلیمنٹ کے پراڈکشن آرڈر کیوں جاری نہ کیے گئے؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک متعصبانہ رویہ ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ تحریک انصاف ان دونوں کو اسمبلی بلا کر سکیورٹی اداروں کو ناراض نہیں کرنا چاہتی۔ سپیکر اسمبلی سے جب ایک رپورٹر نے پوچھا کہ آپ ان دونوں پروڈکشن آرڈر کیوں نہیں جاری کرتے تو انہوں نے واضح کہہ دیا تھا کہ یہ ان کے بس کی بات نہیں حالانکہ آئینی طور پر یہ سپیکر کا اختیار ہے کہ پروڈکشن آرڈر جاری کرے۔

حکومت علی وزیر اور محسن داوڑ کو قومی اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں نہ بلا کر اپوزیشن کو تقسیم کرنے اور ان کے بارے یہ تاثر قائم کرنے کی بھی کوشش کر رہی ہے کہ انہوں نے شاید حکومت سے کوئی معاہدہ کر لیا ہے۔

سترہ جون کو علی وزیر کو بنوں میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

شہباز شریف نے اس سے قبل آصف زرداری اور خواجہ سعد رفیق کے نام لے کر ان کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ کر کے اس تاثر کو مضبوط کیا تھا کہ مسلم لیگ سکیورٹی اداروں کو خوش کرنا چاہتی ہے مگر اپنی طویل بجٹ تقریر میں شہباز شریف نے واضح طور پر چاروں ارکان اسمبلی کو بجٹ اجلاس میں بلانے کا ذکر کر کے اپنے بارے فرینڈلی اپوزیشن کے تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کی۔

اب شاید کمرشل میڈیا کو بہت واضح ہدایات ہیں کہ علی وزیر اور محسن داوڑ کے نام کسی صورت بھی نشر نہ کیے جائیں مگر نام نہ لے کر بھی صحافی مظہر عباس نے واضح کر دیا تھا کہ وہ کن کا ذکر کر رہے ہیں۔

سچ تو یہ ہے کہ ان دو مقید عوامی نمائندوں سے جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ بالکل غیر انسانی ہے۔ 18 جون کو جب سینئر ایڈوکیٹ شہاب خٹک نے علی وزیر کے چھ کمسن بچوں کی ان سے ملاقات تمام تر قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد کرانے کی کوشش کی تو بھی ان بچوں کو جیل میں اپنے والد سے ملنے نہیں دیا گیا۔

اس سے ایک روز قبل علی وزیر کو بنوں کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا تو عدالتی پیش رفت میں خلل ڈالنے کے لئے جج صاحب ہی چھٹی پر چلے گئے۔
ادھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان دو ارکان اسمبلی کی رہائی کے لئے ملک کے اندر اور باہر مظاہروں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے۔

ان کی رہائی کا مطالبہ کرنے کے لئے بیرون ملک اب تک سب سے بڑا مظاہرہ پشتون تحفظ موومنٹ یا پاکستانی تارکین وطن نے نہیں بلکہ ارجنٹینا کی ایک سوشلسٹ تنظیم ’ایم ایس ٹی‘ نے کیا ہے۔

پاکستانی سفارت خانے کے باہر اس مظاہرے میں سینکڑوں کارکن شامل ہوئے جنہوں نے علی وزیر کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں۔ تیونس کی پارلیمنٹ کے 22 ارکان نے اس عالمی پٹیشن پر دستخط کر کے علی وزیر اور محسن داوڑ کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو ای ایس ایس ایف نے جاری کی ہے۔

علی وزیر اور محسن داوڑ کو قومی اسمبلی میں لایا جاتا ہے یا ان کے ساتھ متعصبانہ سلوک جاری رکھا جاتا ہے اس سے ان دونوں کی عوامی ساکھ پر کوئی اثر نہیں پڑ سکتا۔ افراد کو تو جیل میں بند کیا جا سکتا ہے لیکن ان کے نظریات کو نہیں۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔