دنیا

اسرائیل میں انتخابات کے غیر یقینی نتائج: منصور عباس ممکنہ بادشاہ گر ثابت ہو سکتے ہیں!

قیصر عباس

اسرائیل میں گزشتہ ہفتے 23 مارچ کو ہونے والے انتخابات میں وزیراعظم نیتن یاہو کو اکثریت حاصل نہیں ہوسکی اور مختلف جماعتوں کے درمیان اتحادی حکومت بنانے کے لئے مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔یہ گزشتہ 2 سالوں میں ہونے والے چوتھے انتخابات تھے جن میں وہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

ان تنائج کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ عرب جماعتوں کے اتحاد کے ایک رہنما منصور عباس ایک بادشاہ گرکے طورپر ابھر سکتے ہیں جن کی جماعت نے پارلیمان میں 4 نشستیں حاصل کی ہیں۔ ان کی جماعت ’Ra’am‘ ایک رجعت پسند مسلم پارٹی ہے جس نے غیر یقینی تنائج کی بنیادپرا ہمیت حاصل کرلی ہے۔

منصور عباس نے انتخابات کے بعدایک تقریرمیں کہا ہے کہ ان کی جماعت نے ابھی تک کسی کی حمایت نہیں کی لیکن وہ حکومت بنانے کے لئے سیاسی اتحاد میں شامل ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے ایک مثبت انداز میں کسی بھی سیاسی پارٹی کا نام لئے بغیر کہاکہ ”میں کسی سیاسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کرسکتا ہوں اور میری توجہ اس پر ہے کہ کیا کیا جاسکتا ہے، یہ نہیں کہ کیا نہیں کیاجاسکتا۔“

ان کے علاوہ یمینہ(Yemina) پارٹی کے رہنما نفتالی بینٹ (Naftali Bennett) کا نام بھی ابھرتے ہوئے بادشاہ گر کے طور پر لیا جارہا ہے جو نئی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔نظریاتی طورپر یہ ایک رجعت پسند مذہبی جماعت ہے۔

اسرائیل کے سیاسی نظام کے مطابق پارلیمان کی120 نشستوں میں حکومت بنانے کے لئے 61 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور نتائج کے مطابق برسر اقتدار لیکوڈ پارٹی صرف 30نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے۔ نیتن یاہوکی لیکوڈ پارٹی کے بعد دو سرے نمبر پرآنے والی جماعت ’Yash Atid‘ کے پارلیمان میں 17 نمائندے ہیں.اور اس کے رہنما یائر لیپڈ ’Yair Lapid‘ بھی حکومت بنانے کے لئے سیاسی پارٹیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ میں مصروف نظر آ رہے ہیں۔

پارلیمان میں نشستیں حاصل کرنے والی 13 پارٹیوں میں سے کسی نے بھی اکژیت حاصل نہیں کی۔ ان میں ذیادہ تر رجعت پسند مذہبی یا لبر ل پارٹیاں شامل ہیں۔

ایوان میں نظریاتی طورپرترقی پسند نظریات کی حامل تین پارٹیوں میں لیبرپارٹی کو 7، میرٹز (Meretz) کو 6 اور عرب مسلمانوں کی یونائٹڈ عرب لسٹ کو 6 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ اس پارٹی میں چار جماعتیں شامل ہیں اور منصور عباس اس اتحاد سے جنوری میں نکل گئے تھے۔

اگرچہ ابھی تک یہ نہیں کہا جاسکتا کہ نیتن یاہو دوبارہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوں گے یا نہیں لیکن مبصرین کی رائے میں اس نئی سیاسی کشمکش میں ترقی پسند اور عرب جماعتوں کاحکومت کی تشکیل میں ایک اہم کردار ہوگا۔

Qaisar Abbas

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔