خبریں/تبصرے

پیرو: سوشلسٹ سکول ٹیچر ارب پتی مخالف کو ہرا کر صدر بن گیا

حارث قدیر

بائیں بازو کے رہنما پیڈرو کاسٹیلو پیرو کے صدرمنتخب ہو گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بدعنوانی کے مقدمات میں گرفتار سابق آمر کی بیٹی اور دائیں بازو کی رہنما کیکوفوجیموری کی جانب سے بے ضابطگیوں کے الزامات کے بعد الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔

اتوار کو ہونے والے انتخابات میں 24 ملین سے زائد ووٹرز کو حق رائے دہی کے استعمال کا حق حاصل تھا جبکہ مجموعی طور پر 17 ملین سے زائد ووٹ کاسٹ ہوئے۔ بدھ کے روز تک 98 فیصد ووٹوں کی سرکاری گنتی کے نتیجے میں بائیں بازو کے پیڈروکاسٹیلو نے 50.3 فیصدجبکہ دائیں بازو کی کیکوفوجیموری نے 49.7 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ پیڈرو کاسٹیلو کو 88000 ووٹوں کی سبقت حاصل ہے جسے ختم کیا جانا اب ممکن نہیں لگتا۔ تاہم 3 لاکھ ووٹوں کی جانچ پڑتال ہونا ابھی باقی ہے۔ جس کے بعد حتمی سرکاری نتیجے کا اعلان کر دیا جائے گا۔

’رائٹرز‘ کے مطابق شہری علاقوں میں کیکو فوجیموری کا برتری حاصل تھی جس کی وجہ سے وہ اپنی جیت سے متعلق مطمئن نظر آ رہی تھیں لیکن دیہی علاقوں کے نتائج آنے کے ساتھ ساتھ کاسٹیلو نے نہ صرف برتری کم کی بلکہ خود برتری حاصل کرتے ہوئے اس برتری کو وسیع کرتے گئے۔

تیسری مرتبہ عہدہ صدارت کیلئے انتخابات کا حصہ بننے والی فوجیموری نے کاسٹیلو پر انتخابات چوری کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بائیکاٹ کا اشارہ دیا ہے لیکن بے ضابطگیوں سے متعلق کوئی ثبوت پیش نہیں کئے جبکہ کاسٹیلو نے ووٹرز کو پرسکون رہنے کی اپیل کی ہے۔

’بی بی سی‘ کے مطابق حالیہ تاریخ میں یہ پیرو کے سب سے پولرائزڈ انتخابات ہیں۔ نئے منتخب ہونے والے صدر کو ایک بحران زدہ ملک سنبھالنا پڑے گا۔ پیرو کے شہری اس وقت ایک کساد بازاری اور کورونا وائرس کی وجہ سے دنیا میں سب سے زیادہ شرح اموات کا سامنا کر رہے ہیں۔

32 ملین آباد کے حامل اس ملک میں شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والوں کے مابین عدم مساوات بہت زیادہ ہے، وبائی مرض کی وجہ سے ایک تہائی لوگ غربت کا شکار ہوئے ہیں۔ حالیہ برسوں میں پیرو کئی طرح کے سیاسی بحرانوں سے گزر رہے ہے اور گزشتہ سال نومبر میں ایک ہفتے کے اندر پیرو کے تین صدور تبدیل ہوئے۔ ملک کے آخری 10 صدور میں سے 7 کو یا تو مجرم قرار دیا گیا ہے یا بدعنوانی کے الزامات میں ان کی تحقیقات کی گئیں۔

46 سالہ صدارتی امدیوار کیکوفوجیموری دائیں بازو کی مقبول پارٹی کی رہنما ہیں اور کانگریس کی سابقہ ممبر کی حیثیت سے وہ 2011ء اور 2016ء کے انتخابات میں دوسری پوزیشن پر رہی تھیں۔ وہ سابق آمر البرٹو فوجیموری کی صاحبزادی ہیں، جو بدعنوانی اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے جرائم کے تحت 25 سال قید کی سزا بھگت رہے ہیں۔ فوجیموری نے اعلان کر رکھا ہے کہ اگروہ منتخب ہوئیں تو اپنے والد کو معاف کر دیں گی۔

انتخابات میں برتری حاصل کرنے والے بائیں بازو کے رہنما 51 سالہ پیڈروکاسٹیلو پیرو کی پارلیمانی سیاست میں نسبتاً ایک نیا چہرہ ہیں اور اپریل میں انہوں نے صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں غیر متوقع فتح حاصل کی تھی۔

کاسٹیلو پرائمری سکول ٹیچراور ٹریڈ یونین رہنما تھے، فری پیرو پارٹی کے انتخابی نشان پنسل اٹھائے اور کاؤ بوائے ہیٹ پہنے انتخابی مہم چلاتے ہوئے اپنے بائیں بازو کے نظریات، سرمایہ دارانہ لوٹ مار اور کارپوریٹ سیکٹر کے منافعوں پر تنقید کرنے کے علاوہ دیہی اور شہری زندگی میں عدم مساوات پرتنقید کرنے کی وجہ سے انہوں نے شہرت حاصل کی ہے۔

کاسٹیلو کو اپنے نظریات اور پروگرام کی وجہ سے کسانوں اور ٹریڈ یونین تحریک سے بڑے پیمانے پر حمایت حاصل ہوئی ہے۔ بطور صدر انتخاب کے بعدملک کو بحرانوں سے نکالنے اور سرمایہ دارانہ لوٹ مار کے خلاف انکی پالیسی ہی ان کے سیاسی مستقبل کا تعین کرے گی۔

Haris Qadeer

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔