خبریں/تبصرے

دنیا ٹی وی: 300 میڈیا کارکنوں کی برطرفیاں

فاروق سلہریا

مالی بحران کے نام پر صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کا معاشی قتل عام جاری ہے۔ اس کا تازہ شکار دنیا ٹی وی کے عامل صحافی اور میڈیا کارکن بنے ہیں۔ دنیا چینل سے ستر صحافیوں سمیت اس میڈیا گروپ کے مختلف شعبوں سے 300 کارکنوں کو بغیر کسی نوٹس کے نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے ان چھانٹیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ پی ایف یو جے کا کہنا ہے کہ اس میڈیا گروپ کے مالی معاملات کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔

پچھلے تقریباً ایک سال کے اندر ملک بھر میں چار ہزار کے لگ بھگ صحافی بے روزگار ہو چکے ہیں۔ بہت سے میڈیا اداروں میں تنخواہوں میں کٹوتی کی گئی ہے: ملازمین سے کہا گیا کہ بے روزگاری کاٹیں یا تنخواہوں میں کمی برداشت کریں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کسی چیختے چنگھاڑتے اینکر پرسن کی ہمت نہیں ہوئی کہ ان چھانٹیوں پر کوئی ٹاک شو کرے۔

میڈیا کارکنوں کا یہ معاشی قتل میڈیا مالکان اس بہانے سے کر رہے ہیں کہ ان کے ادارے معاشی بحران کا شکار ہیں۔ میڈیا صنعت کے معاشی بحران کا خوب شور مچایا جا رہا ہے۔ اس بات میں کتنی حقیقت ہے، اس کا اندازہ بڑے میڈیا ہاوسز کے مالی معاملات کی تحقیق سے ہی لگایا جا سکتا ہے۔ میڈیا کارکنوں کا خیال ہے کہ میڈیا کی صنعت میں بحران ضرور آیا ہے مگریہ بحران اتنا بڑانہیں ہے کہ بڑے پیمانے پر چھانٹیاں کی جائیں۔

ادہر یہ بات بھی اہم ہے کہ پی ایف یو جے اور اسکی ملحقہ تنظیمیں اس وقت تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں۔ اس تقسیم اور یونین کے زوال کی وجہ سے میڈیا کارکن مزاحمت منظم نہیں کر پا رہے۔ میڈیا کی صنعت میں یونین سازی کے زوال کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے ملک میں صرف نصف درجن اداروں میں ٹریڈ یونینز موجود ہیں۔ اس کے برعکس، 1970 ء کی دہائی میں جب میڈیا انڈسٹری آج کے مقابلے میں کہیں چھوٹی تھی، تیس سے زیادہ اداروں میں ٹریڈ یونینز موجود تھیں۔

دریں اثنا، 28 اگست کو لاہور پریس کلب میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کی مختلف تنظیموں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ان چھانٹیوں کی مذمت کی گئی اور میڈیا صنعت میں جاری چھانٹیوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

Farooq Sulehria
+ posts

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔