نقطہ نظر

’طالبان خان کی جگہ طالبان کے سہولت کار کو ووٹ ملنا بھی تشویشناک ہے‘

حارث قدیر

بشریٰ گوہر کہتی ہیں کہ بلدیاتی انتخابات میں خواتین نے بھرپور شمولیت کی ہے، وہ سیاست میں سامنے آ رہی ہیں اور کئی جگہوں پر خواتین نے انتخابی مہم کی قیادت بھی کی ہے، تاہم سیاسی جماعتوں کو خواتین کی سپورٹ کرنا ہو گی۔ ”مخصوص نشستوں کے علاوہ بھی خواتین کو انتخابات میں سامنے لانے کیلئے اقدامات کرنا ہونگے۔ بنیاد پرست قوتوں کے خلاف ترقی پسند قوتوں کو مشترکہ حکمت عملی کے تحت اگلے مرحلے میں سامنے آنا ہو گا، یہی ایک طریقہ ہے کہ کٹھ پتلی بنیاد پرستی کا راستہ روکا جا سکے“۔

بشریٰ گوہر خیبر پختونخوا میں ترقی پسند تحریک کا اہم نام ہیں۔ وہ سابق ممبر پارلیمنٹ ہیں اور حال ہی میں قائم کی جانیوالی ترقی پسند جماعت نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی (این ڈی پی) کی فاؤنڈنگ ممبر بھی ہیں۔ گزشتہ روز خبیر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ’جدوجہد‘ نے انکا ایک خصوصی انٹرویو کیا ہے، جو ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بلدیاتی انتخابات میں حکمران تحریک انصاف کی شکست کی وجوہات کیا ہیں؟

بشریٰ گوہر: پاکستان تحریک انصاف کو 2013ء اور پھر 2018ء میں دو مرتبہ خیبر پختونخوا پر مسلط کیا گیا ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کا ایک پراجیکٹ ہے، انہیں لا کر ایک کٹھ پتلی سیٹ اپ بنایا گیا ہے اور طالبان کی راہیں ہموار کی گئی ہیں۔ عمران خان بہت پہلے سے ہی طالبان کے سپورٹر بھی رہے ہیں۔ اس پراجیکٹ کی وجہ سے پختونخوا میں اتنی تباہی ہوئی کہ عوام تنگ آ چکے ہیں۔ کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا، مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ یہ حکومت بلدیاتی الیکشن بھی نہیں کروانا چاہتی تھی، لیکن سپریم کورٹ کے احکامات پر یہ انتخابات ہوئے ہیں۔ انتخابات میں بہت واضح طور پر ہمیں پی ٹی آئی مخالف ووٹ پڑتے نظر آیا ہے۔ لوگ ان کٹھ پتلیوں سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے یہ پی ٹی آئی مخالف ووٹ ایک رائٹ ونگ سے دوسرے رائٹ ونگ کے ملاؤں کو پڑا ہے۔ یہ بہت فکر مندی کی بات ہے، وہ جمعیت علما اسلام جو ایم ایم اے کی قیادت کرتی تھی، جتنی انتہا پسندی کے پی میں بڑھی ہے، اس کے ذمہ دار یہی فضل الرحمان اور انکا ملا ملٹری الائنس ہے۔ اس لئے جو ووٹ فضل الرحمان کے حق میں گیا یہ بھی تشویشناک ہے۔ یہ بھی لگ رہا ہے کہ جو طالبان حکومت کی پشت پناہی ہو رہی ہے، یہ نتائج اس سلسلے میں ایک قدم ہے۔

جمعیت علما اسلام کو ملنے والا مینڈیٹ حقیقی ہے یا دھاندلی وغیرہ کا کوئی عمل دخل بھی نظر آتا ہے؟

بشریٰ گوہر: انتخابات میں پری پول دھاندلی تو کھل کر ہوئی ہے۔ حکومت کے زور پر پی ٹی آئی نے بھی دھاندلی کی، پیسے کا بھرپور استعمال کیا گیا، تقرریوں کے ایڈوانس لیٹر بھی جاری کئے گئے، دیگر الیکشن لڑنے والی جماعتوں نے بھی اپنی بساط کے مطابق ہر ممکن دھاندلی کی کوشش کی۔ الیکشن کمیشن نے کچھ معاملات کا نوٹس بھی لیا لیکن ہمیشہ ہی الیکشن کمیشن انتخابات کے قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کروانے میں ناکام رہا ہے۔ ان انتخابات سے مجھے لگتا ہے کہ ایک کٹھ پتلی پراجیکٹ کے ناکام ہونے کے بعد اب مولوی کے ساتھ کچھ لے دے ہو رہی ہے اور کے پی کو ایک مرتبہ پھر ملا ملٹری الائنس کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ اسٹیبلشمنٹ نے کوئی جوڑ توڑ اور چال بازی نہ کی ہو۔

ایسے میں جب افغانستان میں طالبان برسر اقتدار ہیں پشاور جیسے اہم شہر میں جے یو آئی کو ملنے والے اقتدار کے کیا اثرات ہونگے؟

بشریٰ گوہر: جیسے میں نے پہلے کہا کہ ایک کٹھ پتلی پراجیکٹ سے دوسرے کی طرف کے پی کو دھکیلا جا رہا ہے، جو تشویشناک ہے۔ ایک طرف طالبان خان ہے اور دوسری طرف جسے سامنے لایا جا رہا ہے وہ (جے یو آئی ف) طالبان کو بنانے والے اور انکے سہولت کار ہیں۔ کے پی کو ایک نئی جنگ کی طرف لے جایا جا رہا ہے۔ کابل میں بھی ایک کٹھ پتلی حکومت ہے، وہاں پر کئی دہشت گرد بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ اب مجھے لگتا ہے کہ کابل میں بیٹھے طالبان کیلئے سپورٹ نیٹ ورک بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب اس خطے کیلئے تشویشناک بھی ہے، بلکہ یوں کہہ لیں کہ جس طرف ہم جا رہے ہیں، یہ خودکشی کرنے کے مترادف ہے۔

پشتون تحفظ موومنٹ نے بلدیاتی انتخابات میں بھی حصہ نہیں لیا، اگر پی ٹی ایم اس انتخاب میں موجود ہوتی تو نتائج کچھ مختلف ہونے کی توقع کی جا سکتی تھی؟

بشریٰ گوہر: پی ٹی ایم پختونوں کے حقوق کیلئے ابھرنے والی ایک تحریک ہے۔ جس طرح سے گزشتہ 20 سالوں کے دوران جنگ کی وجہ سے پختون دربدر ہوئے، انہیں ٹارگٹ کیا گیا، جس طرح اس ریجنل گیم میں پختونوں کو استعمال کیا گیا ہے، اس سب کیخلاف ایک تحریک ہے، جو اپنے حقوق کی بات کرتی ہے اور احتساب مانگ رہی ہے۔ اس تحریک کا مطالبہ ہے کہ پختون علاقوں میں جو تباہی ہوئی ہے، اس کیلئے ایک ٹروتھ کمیشن بنایا جائے، 6 نکات پر یہ تحریک چل رہی ہے۔ اب پی ٹی ایم کا ایک آئین بھی بن چکا ہے، جو واضح طور پریہ کہتا ہے کہ وہ ایک سیاسی پارٹی نہیں بلکہ ایک تحریک ہے، جس میں سارے پختون اور وہ سیاسی جماعتیں، جو حق کیلئے ہمیشہ میدان میں رہی ہیں، انکے ممبران کی حمایت سے یہ تحریک چل رہی ہے۔ پی ٹی ایم کے آئین کے مطابق وہ سیاست یا سیاسی پارٹی کے طور پر سامنے نہیں آ سکتے، نہ ہی وہ الیکشن میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ان کی جدوجہد آئین پاکستان کے مطابق اور آئینی حقوق کیلئے ہے، لیکن وہ الیکشن یا پارلیمان کے ذریعے سے حقوق نہیں لینا چاہتے، یہ فیصلہ پی ٹی ایم کی کور لیڈرشپ کا ہے۔ انکی حمایت بھی قوم پرست حلقوں میں زیادہ ہے چاہے وہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ منسلک لوگ ہوں یا سیاسی جماعتوں سے منسلک نہ ہوں۔ اس تحریک کو چلنا چاہیے اور ساری سیاسی جماعتوں کو، چاہے وہ پارلیمنٹ کے اندر ہیں یا باہر، انسانی حقوق پر مشتمل ان مطالبات پر اس تحریک کو سپورٹ کرنا چاہیے۔

نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی انتخابات میں حصہ لیا اور اس نئی جماعت کی کارکردگی کو آپ کیسے دیکھتے ہیں؟

بشریٰ گوہر: این ڈی ایم ایک نئی پارٹی ہے، جس کو رواں سال ستمبر میں ہی لانچ کیا گیا اور وہ ابھی تنظیم سازی کے مرحلے سے گزر رہی ہے۔ الیکشن کمیشن کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل بھی ابھی ہی شروع ہوا ہے۔ ان بلدیاتی انتخابات میں این ڈی ایم کے امیدوار کچھ ضلعوں میں آزاد حیثیت سے کھڑے ہوئے ہیں، عوام کی طرف سے بھرپور سپورٹ بھی ملی ہے۔ ہمارے 8 سے 9 کونسلر بھی کامیاب ہوئے ہیں۔ جب ہم الیکشن کمیشن میں رجسٹر ہو جائیں گے تو اپنے نشان کے ساتھ بھرپور حصہ لیں گے۔

کچھ علاقوں میں مزدور کسان پارٹی کے لوگ جیتے ہیں، کچھ جگہوں پر عوامی ورکرز پارٹی کے لوگ بھی جیتے ہیں، بائیں بازو کی مجموعی کارکردگی ان انتخابات میں کیسی رہی؟

بشریٰ گوہر: میری نظر میں تو یہ خوش آئند بات ہے کہ عوامی ورکرز پارٹی، نیشنل پارٹی اور مزدور کسان پارٹی نے اہم ضلعوں میں اپنے لئے جگہ بنائی ہے۔ امید ہے کے اگلے مرحلے میں یہ اور بھی بھرپور طریقے سے حصہ لیں گے۔ کے پی میں بہت ضروری ہے کہ ترقی پسند سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کو منظم اور متحرک کریں تاکہ وہ انتخابات میں حصہ لیں اور نوجوانوں کو آگے لے کر آئیں، کیونکہ جو نئے پراجیکٹ کی طرف منصوبہ بندی ہو رہی ہے، وہ اس ریجن اور پاکستان کیلئے خود کش ثابت ہو گا۔ اس لئے بہت ضروری ہے کہ بائیں بازو کی پارٹیاں اپنا کردار ادا کریں۔ بائیں بازو کی قیادت ایک پلیٹ فارم پر آئے اور الائنس بنا کر انتخابات میں جائیں، بیشک الیکشن اپنا اپنا ہی لڑیں پھر بھی کچھ مشترکہ نکات پر اتحادہونا چاہیے جس کو آنیوالے عام انتخابات میں بھی لے کر جائیں۔

کہا جا رہا ہے کہ دوسرے مرحلے میں جن علاقوں میں الیکشن ہونگے وہاں مسلم لیگ ن کی مضبوط پوزیشن ہے، کیاپہلے مرحلے کے نتائج کا اثر دوسرے مرحلے پر بھی پڑے گا؟

بشریٰ گوہر: اگلے مرحلے میں ترقی پسند پارٹیوں کو بہت تیاری کرنا ہو گی، تاکہ انتہا پسندوں کو سپورٹ کرنے والوں کو جگہ نہ دی جائے۔ مثال کے طور پر جماعت اسلامی دیر میں مضبوط ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی بھی ان علاقوں میں کافی حمایت ہے، مسلم لیگ ن کو ہزارہ اور ان علاقوں میں کافی حمایت حاصل ہے۔ کوشش کرنا ہو گی کہ دوسرے مرحلے میں طالبان کی حمایت کرنے والوں اور ملا ملٹری الائنس کو زیادہ جگہ نہ دی جائے۔ پی ٹی آئی کا تو صفایا ہو گیا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی ایک واضح پیغام مل چکا ہے کہ عوام اب اس انجینئرنگ، بد انتظامی اور غیر سنجیدہ پن سے تنگ آ چکے ہیں۔ کوشش کرنا ہو گی کہ اگلے مرحلے میں ترقی پسندسیاسی جماعتیں ایک ایجنڈے پر اکٹھی ہوں اور ایک حکمت عملی کے تحت انتخابات میں جائیں تاکہ انتہا پسند گروہوں اور جماعتوں کا راستہ روکا جا سکے۔

بلدیاتی انتخابات میں خواتین کی شرکت کس حد تک رہی اور کتنی خواتین نے انتخابات میں حصہ لیا؟

بشریٰ گوہر: میرے خیال میں خواتین نے انتخابات میں بطور ووٹر اور امیدوار بھرپور حصہ لیا ہے۔ گو کہ مخصوص نشستوں پر ہی خواتین کو ٹکٹ دیئے گئے تھے، جنرل نشستوں پر، تحصیل اور میئر کی نشستوں پر انتخابات میں خواتین کو ٹکٹ ملتے نہیں دیکھا۔ اس حوالے سے ان کی سپورٹ بھی نہیں کی گئی، یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ سیاسی جماعتوں نے خواتین امیدواروں کو نامزد کرنے میں دلچسپی بھی ظاہر نہیں کی، مہم کے دوران پوسٹروں اور اسٹیکروں پر خواتین کے نام اور تصویریں بھی شائع نہیں کی گئیں۔ اصل میں خواتین کو سیاسی جماعتوں نے سپورٹ نہیں کیا، خواتین نشستوں پر جوڑ توڑ بھی بہت ہوا۔ تاہم اس سب کے باوجود کئی جگہوں پر خواتین نے اپنی مہم کی قیادت بھی کی اور خواتین ووٹروں کو اپنے حق میں موبلائز بھی کیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ خواتین سیاست میں آ رہی ہیں، انتخابی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ اب ضروری یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں بھی انکو سہولیات اور مواقع فراہم کریں۔ انہیں چاہیے کہ وہ خواتین کو بھی اسی طرح سپورٹ کریں جیسے مردوں کی کرتی ہیں۔ بلدیاتی انتخابات میں مخصوص نشستوں پر بھی براہ راست انتخابات ہوئے ہیں، اسی طرح صوبائی اور قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں پر بھی براہ راست انتخاب ہونا چاہیے۔

کے پی میں وہ کیا بنیادی مسائل ہیں جن کے گرد الیکشن لڑا گیا اور ووٹروں کے فیصلہ کی کیا وجوہات ہو سکتی ہیں؟

بشریٰ گوہر: واضح طور پر یہ پی ٹی آئی مخالف ووٹ تھا۔ مہنگائی، بیروزگاری اور بدانتظامی سے عوام تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے خلاف اپنا فیصلہ دیا ہے۔ یہ نتائج اسٹیبلشمنٹ اور سلیکٹروں کیلئے بھی ایک واضح پیغام ہیں کہ بس اب بہت ہو چکا ہے۔

حارث قدیر کا تعلق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقے راولا کوٹ سے ہے۔  وہ لمبے عرصے سے صحافت سے وابستہ ہیں اور مسئلہ کشمیر سے جڑے حالات و واقعات پر گہری نظر رکھتے ہیں۔