سماجی مسائل

کیا ارادہ پختہ ہو تو انسان کوئی بھی منزل پا سکتا ہے؟

فاروق سلہریا

نام نہاد موٹیویشنل اسپیکرز ہی نہیں، اکثر ہمارے خاندان کے بزرگ، سکول کالج میں ہمارے اساتذہ، میڈیا، اڑوس پڑوس، گاؤں محلے کے بزرگ بچپن سے ہی ہماری یہ ذہن سازی کر دیتے ہیں کہ اگر محنت کی جائے اور انسان مصمم ارادے کا مالک ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے حامی معروف بھارتی اداکار انوپم کھیر نے تو اپنے ٹیلی ویژن شو کا نام ہی ’کچھ بھی ہو سکتا ہے‘ رکھ چھوڑا ہے۔ انوپم کھیر کئی بار بتا چکے ہیں کہ اگر چائے والا وزیر اعظم بن سکتا ہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

پاکستان میں بھی مندرجہ بالا دعوے کو ثابت کرنے کے لئے کسی ڈاکٹر سلام یا ملک ریاض کی کہانی سنائی جاتی ہے۔ ایک اگر جھنگ کے اردو میڈیم اسکول سے پڑھنے کے بعد نوبل انعام لینے سٹاک ہولم پہنچا تو دوسرا غربت کی دلدل سے نکل کر آج ملک کا امیر ترین انسان بن گیا ہے۔

عموماً ایسی انفرادی کہانیوں کی اصل حقیقت کم ہی کسی کو معلوم ہوتی ہے۔

بہرحال اصل بحث یہ ہے کہ کیا انسان محنت اور مصمم ارادے سے سب کچھ حاصل کر سکتا ہے تو جواب ہے، نہیں۔ پہلی بات، اگر محنت سے دولت کا حصول ممکن ہوتا تو پاکستان کا کسان صدیوں سے بھوک کا شکار نہ ہوتا۔ کسان عمر بھر محنت کرتا ہے۔ مزدور عمر بھر اور دن بھر محنت کرتا ہے۔ دونوں دولت مند نہیں بن پاتے۔ جن ملکوں میں مزدور کی تنخواہ اچھی ہے، وہاں بھی مزدور جتنا مرضی اوور ٹائم لگا لے، ارب پتی تو کجا کروڑ پتی بھی نہیں بن پاتا۔ دولت محنت سے نہیں، دوسروں کے استحصال سے کمائی جاتی ہے۔

اب آ جائیے دوسرے پہلو کی طرف: مصمم ارادہ۔

یہ درست ہے کہ فرد کے پاس صلاحیت (ایجنسی) ہوتی ہے لیکن اس صلاحیت پر طبقہ اثر انداز ہوتا ہے۔ فرض کیجئے ایک صحت مند بچہ کسی ارب پتی کے ہاں پیدا ہوا، دوسرا ویسا ہی صحت مند بچہ عین اسی وقت کسی مزدور کے ہاں۔ ایک سکول نہیں جا سکا۔ دوسرا مہنگے ترین سکول میں تعلیم حاصل کرنے لگا۔ عملی زندگی شروع کرتے وقت ایک کی جیب میں بیس ہزار روپے تھے، دوسرے کے پاس خالی جیب۔

بغیر کسی ڈاکے، بڑی واردات یا لاٹری کے اس بات کا امکان کم ہے کہ ثانی الذکر بھی زندگی میں کچھ کر پائے کیونکہ صلاحیت کے باوجود ڈھانچے (اسٹرکچر) اس کے خلاف ہیں۔

انسان کتنا ہی با صلاحیت کیوں نہ ہو، وہ سٹرکچر سے ماورا نہیں ہوتا۔ صلاحیت اور ڈھانچے، ایجنسی اور اسٹرکچر کی بحث کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ اگر طالب علم نے 100 نمبر کا امتحان دیا ہے تو وہ زیادہ سے زیادہ 100 نمبر لے سکتا ہے، 101 نہیں۔

اب فرض کیجئے کہ جس طالب علم نے سو میں سے سو نمبر لئے، اس کے تمام ہم جماعت برابر کی صلاحیت رکھتے تھے مگر کچھ نے محنت نہیں کی (یا اپنی صلاحیت کا ستعمال نہیں کیا)، کچھ نے کی اور سو میں سے سو نمبر لینے والے نے بہت محنت کی۔ اس حد تک تو صلاحیت اہم ہے لیکن کتنی بھی محنت کر لی جاتی، سو سے زیادہ نمبر کوئی نہیں لے سکتا تھا۔

پختہ یقین، مصمم ارادہ، دل و جان سے محنت وغیرہ سرمایہ دارانہ سماج کی دی ہوئی وہ سوچ ہے جسے لوگ قبول کر لیتے ہیں۔ سرمایہ داری چاہتی ہے کہ ہم ڈھانچوں کو، سرمایہ دارانہ اداروں اور نظام کو چیلنج مت کریں۔ اس لئے درس دیا جاتا ہے کہ باہر کی طرف مت دیکھو، اندر (فرد) کی طرف دیکھو۔ عام انسان بھی کسی حد تک جانتا تو ہے، اتنا طبقاتی شعور تو رکھتا ہے کہ ایک ارب پتی اور ایک مزدور کے بیٹے کے پاس برابر مواقع نہیں۔ اس کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ اولاد انفرادی جدوجہد کر کے کچھ کرنے میں کامیاب ہو جائے۔ نظام بدلنا ناممکن لگتا ہے، لاٹری نکل آنا، کوئی تکا لگ جانا، قسمت اور دعا والا نسخہ ّسان لگتا ہے۔ اس لئے وہ بھی باہر کی بجائے اندر کی طرف دیکھتا ہے۔

سوشلزم نظام، ڈھانچہ اور ادارے بدلنے کی بات کرتا ہے۔ سوشلزم انفرادی ایجنسی کے ساتھ ساتھ اجتماعی ایجنسی کی بات کرتا ہے۔ سوشلزم انفرادی اور اجتماعی ایجنسی کو جدلیاتی انداز میں دیکھتا ہے۔ نظام انفرادی سطح پر نہیں بدلا جا سکتا۔ اس کے لئے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ اجتماعی جدوجہد کی تشکیل کے لئے ذاتی ایجنسی اہم ہے۔ دونوں ایک دوسرے کو تقویت پہنچاتے ہیں۔

سوشلزم چاہتا ہے کہ ایک ایسا نظام ہو جس میں انفرادی ایجنسی اور معاشرے میں تضاد نہ ہو۔

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔