پاکستان

سابقہ فاٹا میں نا اہل انتظامیہ کیوجہ سے قبائلی جھگڑے جنم لے رہے ہیں

مونا نصیر

یہ ایک حقیقت ہے کہ دو دہائیوں پر محیط جنگجوئی نے سابقہ فاٹا کو تباہ و برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ گو شمالی وزیرستان میں جنگجوؤں کے خلاف ایک زبردست فوجی آپریشن کیا گیا تھا لیکن اگر یہاں گورننس بہتر نہ بنائی گئی تو خطرہ ہے کہ یہ علاقہ ایک مرتبہ پھر بے چینی اور تشدد کا شکار بن سکتا ہے۔ آپریشن کے بعد بھی یہاں پولیس اور فوج موجود بھی ہے اور متحرک بھی۔

25 ویں ترمیم جس کے تحت فاٹا میں اصلاحات متعارف کرائی گئیں، کو نافذ ہوئے دو سال ہو چلے ہیں مگر کوئی واضح نتائج دیکھنے میں نہیں آ رہے۔ سابقہ فاٹا کے اضلاع میں اصلاحات یا تو انتہائی نالائق لوگ کر رہے ہیں یا بالکل غیر پیشہ ور افراد کے ذمے یہ کام سونپا گیا ہے۔ جس طرح پولیٹیکل ایجنٹ لگائے جاتے تھے اسی طرز پر مقامی انتظامیہ میں لوگوں کو بھرتی کرتے وقت کسی قسم کی اہلیت اور معیار کو پیش نظر نہیں رکھا جاتا۔ جیسے اصلاحات سے قبل رشوت ستانی اور سفارش چلتی تھی، وہی وطیرہ اب بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ان اضلاع میں جن کو تعینات کیا جاتا ہے وہ خود کو پولیٹیکل ایجنٹ ہی سمجھتے ہیں: نہ تو کسی قسم کی سماجی ذمہ داری نبھاتے ہیں نہ ہی وہ کسی کے سامنے خود کو جوابدہ سمجھتے ہیں۔ عمومی طور پر نہ تو انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کی الاٹمنٹ کیسے کرنی ہے یا یہ کہ اس عمل کو کیسے پایہ تکمیل تک پہنچانا ہے۔ جونیئر عملے یعنی تحصیل دار، پٹواری اور گرداور پر ہی انحصار کیا جاتا ہے (جو پرانے نظام کا ہی تسلسل ہے)۔ غریب لوگ مجبور ہوتے ہیں کہ خاندانی جائیداد اور زمین کی تقسیم وغیرہ کے لئے اس عملے کو رشوت دے کر اپنا جائزکام کروائیں۔

لاڈلے افسر حضرات کو نہ تو شاملات بارے کچھ معلوم ہوتا ہے نہ یہ اندازہ ہوتا ہے کہ زمینوں کے جھگڑے کیسے نپٹانے ہیں۔ یہ افراد اپنی ذمہ داری نبھانے سے قاصر ہیں۔ اس نالائقی کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ لگ بھگ ہر ضلع میں متنازع زمین کی وجہ سے قبائل میں لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ ان قبائلی جھگڑوں میں اسلحے کا استعمال بھی دیکھا گیا ہے حالانکہ دعویٰ یہ کیا جاتا رہا ہے کہ اس علاقے کو اسلحے سے پاک کر دیا گیا ہے۔

صوبے میں ضم کئے گئے سابقہ فاٹا کے اضلاع میں ایسے قابل افسر اور انتظامی اہل کار تعینات کرنے کی ضرورت ہے جنہیں شاملات کے نظام کا اندازہ ہو اور جو زمین کی الاٹمنٹ کے مشکل مسئلے سے نپٹ سکیں ورنہ زمین پر تنازعے شدت پکڑ سکتے ہیں اور قبائلی لڑائیاں خانہ جنگی کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔ ان جھگڑوں کے اثرات اسلام آباد اور کراچی تک بھی پہنچ سکتے ہیں جہاں پشتون قبائل کی بڑی آبادیاں بن چکی ہیں۔

ریونیو اور لینڈ ریکارڈز کا محکمہ قائم کرنے کی فوری ضرورت ہے۔ یہ ہنوز قائم نہیں ہوا۔ اس کے لئے قابل اہل کار وں کی ضرورت ہے جو ریونیو اور زمین کے معاملات کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ جان بوجھ کر مسائل حل نہ کرنا بھی ایک طرح سے سٹرکچرل تشدد کی شکل ہے۔ مزید یہ کہ متحارب مفادات رکھنے والے گروہوں کے مابین مکالمہ نہ کروانا بھی ریاست کی ایک ناکامی ہی کہی جا سکتی ہے۔ اس ناکامی کا خمیازہ سابقہ فاٹا کے باسیوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

بہت سے لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جنگجوئی کا شکار علاقوں میں اس بات کو ترجیح دینی چاہئے کہ وہاں انصاف پر مبنی انتظامی ڈھانچہ تشکیل پائے، ایک متحرک عدالتی نظام ہو اور انصاف تک لوگوں کی رسائی ہو۔ اگر ایسا نہ ہوا تو امن کا حصول سرحدی علاقوں میں ہی نہیں، باقی پاکستان میں بھی ایک خواب بن کر رہ جائے گا۔ ترقیاتی منصوبے امن کی بنیاد بن سکتے ہیں مگر اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ اداروں میں صلاحیت ہے یا نہیں اور یہ کہ متعلقہ شعبے سابقہ فاٹا میں تعمیر کئے جاتے ہیں یا نہیں۔

شہریوں کے ساتھ ریاست کے عمرانی معاہدے میں نظام انصاف کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے مگر سابقہ فاٹا کے اضلاع میں ایسا دکھائی نہیں دیتا اور ضم کئے گئے اضلاع میں عدالتی نظام نام کی حد تک ہی قائم ہوا ہے۔ بہت سی جگہوں میں عدالتیں ان ملحقہ اضلاع میں ہیں جنہیں سیٹلڈ ایریاز کہا جاتا تھا اور یوں مقامی افراد کی پہنچ سے دور ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ جرگے کے پرانے نظام کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ جہاں عدالتیں اور بنچ موجود ہیں، وہاں سہولیات ناکافی ہیں۔

معاشی منصوبہ بندی اور ترقیاتی منصوبے بلاشبہ اہم ہوتے ہیں مگر ان سے دیرپا نتائج ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ ضروری ہے کہ فاٹا کے ضم ہو جانے والے اضلاع میں ایسے منصوبوں کے ساتھ ساتھ محکمہ پولیس اور دیگر ضروری شعبوں پر بھی توجہ دی جائے جن کا وجود امن قائم کرنے کے لئے کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔

لیوی اور خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کرنا ایک اچھا اقدام ہے مگر اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ محکمے میں اہلیت والے افراد بھی موجود ہوں جو کم از کم ایف آئی آر تو کاٹ سکیں۔ موجودہ اداروں کی صلاحیت میں فوری اضافہ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

جوخطہ جنگجوئی کا شکار رہ چکا ہو، وہاں اس بات کا شدید خطرہ ہو تا ہے کہ جنگجوئی کا عفریت پھر سر اٹھا لے۔ امن برقرار رکھنے کے لئے معیشت بنیادی حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں جس تین فیصد کا وعدہ کیا گیا تھا، ابھی تک جاری نہیں کیا گیا۔ اس کے برعکس سابقہ فاٹا کے اضلاع میں ٹیکس اکٹھا کرنے کا مطلب ہے کہ حکومت اس خطے میں ترقی کے وعدوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ سرحدی علاقوں سے دو ارب روپے کی تجارت ہوتی ہے لہٰذا اس علاقے اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ بہتر سلوک ہونا چاہئے۔

ریاست نے جو معاہدہ یہاں کے باسیوں، بالخصوص نوجوانوں سے کیا تھا جنہوں نے آئینی اصلاحات اور پاکستانی شہریت کو خوشی خوشی قبول کیا تھا…اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔ بیس سال سے اس خطے میں زبردست بے چینی پائی جاتی ہے۔ اگر کچھ نہ کیا گیا تو ریاست اور یہاں کے باسیوں میں ایک تنازعہ جنم لے سکتا ہے۔ پاکستان میں امن اور خوشحالی کا دارومدار اس بات پر بھی ہے کہ متعارف کی گئی اصلاحات پر عمل کیا جائے اور ریاست نے سابقہ فاٹا کے ساتھ جو عمرانی معاہدہ کیا ہے اسے یقینی بنایا جائے۔

عالمی سطح پر دفاعی خدشات کی جگہ معاشی منصوبہ بندی لیتی جا رہی ہے۔ پاکستانی ریاست کو بھی چاہئے کہ سرحدی علاقے میں ڈیوٹی فری زون قائم کر کے اس جگہ کو تجارت اور کاروباری سرگرمیوں کا گڑھ بنانے بارے سوچے۔

بشکریہ: دی نیوز

Mona Naseer

مونا نصیر کا تعلق سابقہ فاٹا سے ہے۔ انہوں نے لندن یونیورسٹی سے انسانی حقوق میں ڈگری حاص کی ہے۔