دنیا

احمقوں والی سامراج مخالفت سے کیسے بچیں؟

جلبیر اشقر

پچھلی تین دہائیوں میں سامراج مخالفت کے مفہوم میں بڑھتی ہوئی سیاسی الجھن کا مشاہدہ تجربے میں آیا ہے، ایک ایسا مفہوم جو پہلے زیادہ بحث و مباحثے کا موضوع نہ تھا۔ اس الجھن کی دو اہم وجوہات ہیں: (۱) دوسری جنگ عظیم کے فاتحانہ اختتام پر استعمار مخالف جدوجہد اور (۲) سویت یونین کا خاتمہ۔

سرد جنگ کے دوران امریکہ اور اتحادی نو آبادیاتی مغربی طاقتوں نے قومی آزادی کی تحریکوں اور حکومتوں کے خلاف براہ راست فوجی اور پراکسی جنگیں کیں۔ اکثرمغربی طاقتوں کا مقابلہ ایک ایسے قومی رہنما سے ہوتا جسے اپنے عوام کی بھر پور حمایت حاصل ہوتی۔ سامراجی مداخلت کے خلاف اور ان لوگوں کی حمایت میں کھڑے ہونا جنہیں نشانہ بنایا گیا، ترقی پسندوں کا واضح انتخاب تھا۔ بحث صرف یہ تھی کہ حمایت صرف تنقیدی ہو یا غیر روایتی۔

سرد جنگ کے دوران سامراج مخالفوں کے مابین بنیادی تفریق سوویت یونین کے ساتھ روا رکھے جانے والے رویے کی وجہ سے تھی، جسے کمیونسٹ پارٹیوں اور ان کے قریبی اتحادیوں نے ”سوشلزم کا مادرِ وطن“ قرار دے رکھا تھا۔ انہوں نے ماسکو اور ”سوشلسٹ کیمپ“ کے ساتھ صف بندی کرتے ہوئے اپنے سیاسی رجحانات کا تعین کیا۔ اس رویے کو ”کیمپ ازم“ کا نام دیا گیا۔ اس کیمپ ازم کو واشنگٹن کے ساتھ عالمی دشمنی میں مغربی سامراج کے خلاف جدوجہد کے لئے ماسکو کی حمایت ملی۔ جہاں تک تعلق ہے ان بغاوتوں کاجو سوویت بلاک میں ہوئیں، کیمپ اسٹ ان کی مخالفت اور توہین یہ کہہ کر کرتے رہے کہ یہ واشنگٹن کی پھیلائی ہوئی بغاوتیں ہیں۔

وہ لوگ جو یہ سمجھتے تھے کہ جمہوری حقوق کا دفاع بائیں بازو کا بنیادی اصول ہے، انہوں نے مغربی سامراج اور سوویت بلاک میں مقامی استبداد اور ماسکو کے تسلط کے خلاف بغاوتوں کی حمایت کی۔ ماونوازوں نے ایک تیسرا حلقہ تشکیل دیا، جس نے 1960ءکی دہائی میں سوویت یونین کو ”سوشل فاشسٹ“ کا نام دے کر اسے امریکی سامراج سے بھی بدتر قرار دیا تھا اور بعض مواقع پر واشنگٹن کا بھرپور ساتھ دیا، جیسا کہ جنوبی افریقہ سے متعلق بیجنگ کا موقف۔

گلوبل ساﺅتھ کے ممالک میں عوامی سطح پر چلنے والی تحریکوں کے خلاف مغربی سامراجی جنگوں کے رجحان میں 1945ءکے بعد پہلی بار ایک تبدیلی آئی، وہ یہ کہ سوویت یونین نے افغانستان میں مداخلت کر دی (1979-89ء)۔

اسی طرح مندرجہ ذیل جنگیں ان ممالک کی جانب سے لڑی گئیں جو اس وقت ”سامراجی“ نہیں تھے: 1978ءمیں ویتنام کا کمبوڈیا پر حملہ اور 1979ءمیں ویتنام پر چینی حملے نے عالمی سامراجی بائیں بازو کی صفوں میں بڑے پیمانے پر تفریق پیدا کر دی تھی۔

اگلی سب سے بڑی پیچیدگی 1991ءمیں عراق کے خلاف امریکہ کی زیر قیادت جنگ تھی۔ صدام حسین کی آمرانہ حکومت کو مقبولیت حاصل نہ تھی بلکہ یہ مشرق وسطیٰ کی ایک انتہائی سفاک اور بے رحمانہ حکومت تھی، جس نے ہزاروں کردوں کا قتل عام کرنے کیلئے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ درپردہ مغربی حمایت کے ساتھ یہ قتل عام عراق ایران جنگ کے دوران ہوا تھا۔

1991ءمیں بائیں بازو کی بعض سامراج مخالف شخصیات اس موقع پر امریکہ کی زیرقیادت اس جنگ کی حمایت میں سامنے آئی تھیں، لیکن سامراج مخالفوں کی اکثریت نے اس جنگ کی مخالفت کی، حالانکہ یہ جنگ اقوام متحدہ کے مینڈیٹ کے ساتھ لڑی گئی جس میں روس بھی شامل تھا۔

ان سامراج مخالفوں کو برطانیہ کے بنائے ہوئے امیر کویت کے دفاع میں کوئی دلچسپی نہ تھی، پھر یہ کہ کویت میں تارکین وطن مزدوروں کو کسی قسم کے حقوق حاصل نہ تھے۔ جنگ مخالفین میں بیشتر صدام حسین کے چاہنے والے بھی نہ تھے، وہ اسے ایک سفاک آمر قرار دیتے تھے، تاہم انہوں نے امریکہ کی زیر قیادت سامراجی جنگ کی مخالفت بھی کھل کر کی۔

جلد ہی ایک اور پیچیدگی سامنے آ گئی۔ فروری 1991ءمیں امریکہ کی زیر قیادت جنگی کارروائیاں ختم ہونے کے بعد، بش سینئر انتظامیہ نے صدام حسین کی ایلیٹ فورس کو جان بوجھ کر بچایا۔ اس کے خاتمے سے ایران کو فائدہ ہو سکتا تھا۔ عراقی آمر کو جنوبی عراق میں پنپنے والی بھرپور بغاوت اور کرد شورش کو کچلنے کی اجازت دی، کردوں کے خلاف اسے ہیلی کاپٹر بھی استعمال کرنے دیئے گئے۔ اس کے نتیجے میں کرد پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد سرحد پار کر کے ترکی چلی گئی۔ اس انخلا کو روکنے اور مہاجرین کی واپسی کے لئے، واشنگٹن نے شمالی عراق کو نو فلائی زون بنا دیا۔ اس کے خلاف کوئی سامراج مخالف مہم نہیں چلائی گئی کیوں کہ کردوں کی جان بچانے کیلئے یہ واحد متباد ل تھا۔

1990ءکی دہائی میں بلقان میں نیٹو کی جنگوں میں بھی اسی طرح کا مخمصہ پایا گیا۔ سلووڈن میلاسوچ کی حکومت کی وفادار سربین فوجیں بوسنیا اور کوسوو مسلمانوں کے خلاف قاتلانہ کارروائیوں میں مصروف تھیں۔ سابقہ یوگوسلاویہ میں قتل عام روکنے اور مذاکراتی تصفیے کے امکان کو واشنگٹن نے جان بوجھ کر نظر انداز کیا تھا، وجہ یہ تھی کہ امریکہ اس جنگ کے بہانے نیٹو کو دفاعی اتحاد سے ایک ”سکیورٹی تنظیم“ میں بدلنے کا خواہشمند تھا، تا کہ اسے حملوں کیلئے استعمال کیا جا سکے۔ اس تغیر کے اگلے مرحلے میں نائن الیون (2001ء) حملوں کے نتیجے میں افغانستان میں نیٹو کو استعمال کیا گیا۔ اس طرح اس اتحاد کی اصل حد بندی یعنی اٹلانٹک زون کو ختم کیا گیا۔ پھر 2003ءمیں عراق پر حملہ ہوا۔ یہ امریکہ کی زیر قیادت آخری مداخلت تھی جس نے تمام سامراج مخالفوں کو اس کے خلاف متحد کیا۔

دریں اثنا سرد جنگ ”کیمپ ازم“ ایک نئے روپ میں دوبارہ جنم لے رہی تھی۔ اب سوویت یونین کے ساتھ صف بندی کے ذریعہ نہیں بلکہ امریکہ دشمن کسی بھی حکومت یا طاقت کی بلا واسطہ یا بالواسطہ حمایت کے ذریعے۔ دوسرے لفظوں میں ”میرے دوست کا دشمن (یو ایس ایس آر) میرا دشمن ہے“ کی منطق ایک تبدیلی کے ساتھ یوں ہو گئی ”میرے دشمن (یو ایس اے) کا دشمن میرا دوست ہے“۔

پہلی منطق نے کچھ عجیب و غریب عارضی ساتھی پیدا کئے، البتہ دوسری منطق کا نتیجہ سنکی پن کے سوا کچھ نہیں نکلا۔ نئی طرز کی کیمپ ازم کا مطلب ہے کہ امریکی حکومت جو کچھ بھی کرے، اس کی مخالفت کرنی ہے۔ یہ نیا کیمپ ازم سراسر رجعت پسندانہ اور غیر جمہوری حکومتوں کی غیرتنقیدی حمایت کی طرف بھی مائل رہتا ہے: مثلاً روس کی بدمعاش سرمایہ دارانہ اور سامراجی حکومت (ہر اعتبار سے سامراجی)، ایران کی بنیاد پرست حکومت، سربیا میں میلاسوچ اور عراق میں صدام حسین کی حمایت۔

سامراج مخالفت کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لئے جس کا ترقی پسند سامراج مخالفین کو سامنا ہے (یاد رہے یہ ایک ایسی پیچیدگی ہے جو نئے کیمپ ازم کے بس کی بات نہیں) آئیے 2011ءکی عرب بہار کے نتیجے میں ہونے والی دو جنگوں کا جائزہ لیں۔

جب 2011ءکے اوائل میں عوامی بغاوتوں نے تیونس اور مصر کے صدور سے چھٹکارا پانے میں کامیابی حاصل کی تو خود ساختہ سامراج مخالفوں نے عرب بہار کی حمایت کی کیونکہ دونوں ممالک میں مغرب دوست حکومتیں تھیں لیکن جب انقلابی جھٹکوں کی لہر لیبیا پہنچی، جیسا کہ اس ملک کے لئے ناگزیر تھا جس کی مصر اور تیونس دونوں کے ساتھ مشترکہ سرحدیں تھیں، نیو کیمپ ازم والوں میں زیادہ جوش و خروش نہ تھا۔ انہیں یاد آیا کہ معمر قذافی کی بالادست خود مختار حکومت کو مغربی ریاستوں نے کئی دہائیوں سے غیر قانونی قرار دے رکھا تھا، بظاہر وہ اس سے بے خبر تھے کہ قذافی نے 2003ءسے امریکہ اور متعدد یورپی ریاستوں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔

حسب توقع قذافی نے خونخرابے کے ذریعے مظاہروں کو دبانا چاہا۔ جب باغیوں نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر، بن غازی پر قبضہ کیا تو قذافی نے انہیں چوہے اور منشیات کا عادی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ لیبیا کے ایک ایک انچ، ایک ایک گھر، ہر گلی اور ہر سڑک کو ان چوہوں اور نشیوں سے پاک کر دیا جائے گا۔ اس نے اپنی مسلح افواج کو بن غازی پر حملہ کرنے کا حکم دیا۔ بہت زیادہ امکان تھا کہ اس حکم پر عمل درآمد کے نتیجے میں اجتماعی قتل عام ہوتا۔ اس بغاوت کے دس دن بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک متفقہ قرارداد کے ذریعے لیبیا کا مقدمہ عالمی عدالت انصاف میںچلانے کی منظوری دی۔

بن غازی کے عوام نے دنیا سے تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی اور پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پر کوئی غیر ملکی فوج نہیں چاہتے۔ عرب لیگ نے اس درخواست کی حمایت کی۔ اسی طرح سلامتی کونسل نے لیبیا پر ”نو فلائی زون کے نفاذ“ کے ساتھ ساتھ ”شہریوں کی حفاظت کے لئے تمام ضروری اقدامات“ کرنے کی ایک قرارداد منظور کی، جس میں لیبیا کے کسی بھی حصے پر کسی بھی شکل میں غیر ملکی فوج کی تعیناتی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اس قرارداد کو ماسکو اور نہ ہی بیجنگ نے ویٹو کیا۔ دونوں ملک اجتماعی قتل عام کی ذمہ داری قبول کرنے کیلئے تیار نہ تھے جس کی پیش گوئی کی گئی تھی۔

بیشتر مغربی سامراج مخالفین نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد کی مذمت کی، یہ قرارداد 1991ءمیں عراق پر حملے کی اجازت دینے کے مترادف قرار دی گئی۔ یہ موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ لیبیا کا معاملہ شمالی عراق پر مسلط کردہ نو فلائی زون جیسا تھا، یہ اس حملے جیسا نہ تھا جو کویت کو آزاد کرانے کے بہانے عراق پر کیا گیا۔

سلامتی کونسل کی قرارداد واضح طور پر ناقص تھی جو بڑی سہولت کے ساتھ نیٹو افواج کو لیبیا کی خانہ جنگی میں مداخلت کی اجازت دیتی تھی۔ پھر بھی ممکنہ قتل عام کی روک تھام کے متبادل ذرائع کی عدم موجودگی کے باعث ابتدائی مرحلے میں نو فلائی زون کی مخالفت نہیں کی جا سکتی تھی، یہی وجہ تھی کہ ماسکو اور بیجنگ نے ویٹو کرنے سے اجتناب کیا۔

نیٹو کو قذافی کی فضائیہ اور ٹینکوں سے نمٹنے میں بہت ہی تھوڑے دن لگے۔ براہ راست غیر ملکی مداخلت کے بغیر باغی یہ کارروائی کر سکتے تھے بشرطیکہ انہیں قذافی کے باقی اسلحہ خانہ کا مقابلہ کرنے کے لئے درکار ہتھیار فراہم کر دیئے جاتے۔ نیٹو نے ان باغیوں پر انحصار کرنے کے بجائے براہ راست مداخلت کو ترجیح دی۔ نیٹو کو امید تھی کہ وہ ان باغیوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کر لے گی۔ تاہم آخر میں انہوں نے قذافی کی ریاست کو مکمل طور پر ختم کر کے نیٹو کے منصوبوں کو ملیامیٹ کر دیا، اس طرح لیبیا میں موجودہ انتشار کی صورتحال پیدا ہوئی۔

دوسرا اس سے بھی زیادہ پیچیدہ معاملہ شام کا ہے۔ وہاں اوباما انتظامیہ کا کبھی بھی نو فلائی زون نافذ کرنے کا ارادہ نہ تھا۔ سلامتی کونسل میں روسی اور چینی ویٹو کے ناگزیر ہونے کی وجہ سے اس ممکنہ نو فلائی زون کو بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل نہ ہوتی۔ اس کی وہی قانونی حیثیت ہوتی جو 2003ءمیں جارج ڈبلیو بش کے عراق پر حملہ کی تھی (عراق پر اس حملے کی اوباما نے مخالفت کی تھی)۔ واشنگٹن نے شام کی جنگ میں اپنا کردار کم رکھا، تاوقتیکہ نام نہاد دولت اسلامیہ نے عراقی سرحد عبور کر کے اپنی کارروائیاں تیز کر دیں تب امریکہ نے وہاں اپنا کردار بڑھایا تاہم پھر بھی داعش کے خلاف جنگ میں براہ راست مداخلت کو محدود رکھا۔

اس کے باوجود شام کی جنگ پر واشنگٹن کا سب سے زیادہ فیصلہ کن اثر و رسوخ اس کی براہ راست مداخلت نہیں۔ جو محض مغربی سامراج پر توجہ مرکوز رکھنے والے نیو کیمپ ازم والوں کی نظر میں بہت اہم ہے، بلکہ اس سے بھی اہم اسرائیل کی مخالفت کی وجہ سے اتحادیوں کا شامی باغیوں کو طیارہ شکن ہتھیاروں کی عدم فراہمی ہے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بشار الاسد کی حکومت نے لڑائی کے دوران فضا پر اجارہ داری قائم رکھی اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے تباہ کن بیرل بموں کا وسیع پیمانے پر استعمال بھی کیا۔ اس صورتحال نے ماسکو کو 2015ءمیں شروع ہونے والے شام کے تنازع میں براہ راست اپنی فضائیہ کو شامل کرنے کی بھی ترغیب دی۔

شام کے مسئلے پر سامراج مخالف بری طرح تقسیم ہو گئے تھے۔ نیو کیمپ اسٹوں (جیسا کہ امریکہ میں ’جنگ مخالف اتحاد‘ اور’ یو ایس امن کونسل‘) نے ایک عجیب یکطرفہ ”سامراج مخالفت“ کے نام پر مغربی طاقتوں پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی، جبکہ روسی مداخلت کی حمایت کی یا اسے نظرانداز کئے رکھا (یا تو روس کا تذکرہ ہی نہیں کیا یا اس کے خلاف مہم چلانے سے انکار کیا۔ برطانیہ کے ’سٹاپ دی وار‘ اتحاد نے بھی یہی کیا)۔ ایران کی بنیاد پرست حکومت کی شام میں مداخلت پر بھی بات نہیں کی گئی۔

ترقی پسند سامراج مخالفین، جن میں یہ مصنف بھی شامل ہے، نے بشارالاسد کی قاتل حکومت، اس کے غیر ملکی حمایتی سامراجی قوتوں اور رجعت پسند حامیوں کی مذمت کی۔ ہم نے مغربی سامراج طاقتوں کی شامی عوام کے مستقبل سے عدم توجہی اور اس تنازع میں ان کی براہ راست مداخلت کی مخالفت کی، اسی طرح ہم نے شام کی حزب اختلاف میں رجعت پسند قوتوں کو فروغ دینے کیلئے خلیجی ممالک اور ترکی کے مذموم کردار کی مذمت کی۔

تاہم صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی، جب پیش قدمی کرتے ہوئے داعش نے شام کی بائیں بازو کی قوم پرست کرد تحریک کو دھمکی دی، جو شام کی سرزمین پر سرگرم اس وقت کی ایک واحد ترقی پسند مسلح قوت ہے۔ واشنگٹن نے بمباری اور مقامی فورسز جن میں عراق کی ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا اور بائیں بازو کے شامی کرد شامل تھے، کی بے لاگ حمایت کے ذریعے داعش کا مقابلہ کیا۔ جب داعش نے کرد فورسز کے زیر قبضہ کوبانی شہر پر قبضہ کرنے کی دھمکی دی تھی تو امریکہ نے بمباری اور فضا سے ہتھیار پھینک کر کردوں کی مدد کی تھی۔ واشنگٹن کی طرف سے اس صریح مداخلت کی مذمت کے لئے سامراج مخالفین کا کوئی طبقہ نمایاں طور پر کھڑا نہ ہوا۔ اس کی وجہ واضح تھی، کیوں کہ یہ طبقہ ترکی میں بائیں بازو کی قوم پرست تحریک کو کچلنا نہیں چاہتا تھا جس کی تمام بایاں بازو روایتی طور پر حمایت کرتا رہا ہے۔

بعدازاں واشنگٹن نے شام کے شمال مشرق میں کردوں کی زیر قیادت شامی ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) کی مدد اور تربیت کے لئے اپنی فوج تعینات کی۔ اس امریکی اقدام کی واحد مخالفت نیٹو کے رکن ترکی کی طرف سے کی گئی، جو کرد عوام کے بڑے حصے پر سب سے زیادہ جبر کرنے والا ملک ہے۔ بیشتر سامراج مخالف لیبیا کے بارے میں 2011ءکے اپنے موقف کے برخلاف اس پر خاموش رہے (بلکہ مکمل اجتناب کیا) گویا واشنگٹن کی جانب سے عوامی شورشوں کی حمایت تب ہی برداشت کی جا سکتی ہے جب ان کی قیادت بائیں بازو کی قوتیں کریں۔ جب ترک صدر کے دباو پر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی فوجیوں کو شام سے نکالنے کا اعلان کیا تو امریکی بائیں بازو کی متعدد نمایاں شخصیات جن میں جوڈتھ بٹلر، نوم چومسکی، آنجہانی ڈیوڈ گریبیر اور ڈیوڈ ہاروی نے ایک مشترکہ بیان میں مطالبہ کیا کہ امریکہ ایس ڈی ایف کے لئے فوجی مدد جاری رکھے (یہ نشاندہی کئے بغیر کہ براہ راست زمینی مداخلت جاری رہنی چاہیے یا نہیں)۔ نیو کیمپ اسٹوں میں سے کم ہی کسی نے سر عام اس بیان کی مذمت کی۔ سامراج مخالفت کی حالیہ پیچیدگیوں کے اس مختصر جائزے سے تین رہنما اصول سامنے آتے ہیں۔

اﺅل اور سب سے اہم: حقیقی ترقی پسند موقف (اس سے مراد وہ موقف نہیں جو آمروں کی عذر خواہی پر سرخ رنگ مل کر پیش کیا جائے) یہ ہے کہ عوام کے حق خود ارادیت کو اولیت حاصل ہے۔ ترقی پسند موقف یہ نہیں ہوتا کہ سامراج جو کر رہا ہے اس کی مخالف پوزیشن لے لی جائے۔ سامراج مخالفوں کو سوچنے کی نیک عادت ڈالنی چاہئے۔

دوم، ترقی پسند سامراج مخالفین کو تمام سامراجی ریاستوں کی مخالفت کرنی چاہیے، نہ کہ کچھ کی حمایت اور کچھ کی مخالفت۔

سوم، ایسے غیر معمولی حالات میں بھی کہ جب ایک سامراجی طاقت کی مداخلت سے کسی آزاد ی بخش عوامی تحریک کو فائدہ ہو رہا ہو اور جب اس طرح کی تحریک کو خون خرابے سے بچانے کے لئے صرف ایک یہی آپشن موجود ہو کہ سامراج مداخلت کرے، تب بھی ترقی پسند سامراج مخالفوں کو سامراجی طاقت پر مکمل عدم اعتماد کرنا چاہیے اور اس کی مداخلت کو محدود رکھنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تاکہ جان بچانے کی آڑ میں سامراج کو اس تحریک پر تسلط قائم کرنے کا موقع نہ ملے۔

مذکورہ بالا اصولوں ست اتفاق رکھنے والے ترقی پسند سامراج مخالفین کے درمیان اگر کوئی بحث طلب امور باقی رہ جاتے ہیں تو وہ سٹریٹیجک نوعیت کے ہیں۔ نیو کیمپ اسٹوں کے ساتھ تو شاید کسی بحث کا امکان نہیں۔ گذشتہ صدی کے اپنے پیشرووں کی روایت کے مطابق دشنام طرازی اور بہتان بازی ان کا عام طرز عمل ہے۔

Gilbert Achcar

جلبیر اشقر اسکول آف اورینٹل اینڈ افریقن اسٹڈیز لندن کے پروفیسر ہیں۔ وہ مذہب کے سیاسی کردار اور بنیاد پرستی پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔