پاکستان

سپریم کورٹ نے اسٹیبلشمنٹ کے آزاد عدلیہ پر حملے کو ناکام بنا دیا

رابیعہ باجوہ

پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کوئی بہت قابل فخر تو نہیں لیکن اسکے باوجود ایسے مواقع آئے جب عدلیہ کی جانب سے غیر طاغوتی قوتوں کو جاندار مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ حالیہ عدالتی تاریخ میں ایک اہم واقعہ 2007ء میں وکلا تحریک کے دوران ہوا جب جنرل مشرف کی جانب سے نافذ کی گئی ایمرجنسی کے خلاف سپریم کورٹ کے بینچ، جس کی سربراہی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کر رہے تھے، نے ایمرجنسی اور ڈوگر کورٹ کو غیر آئینی قرار دیا اور ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹے رہے۔ اس کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی کا کیس ہے جس میں اعلیٰ عدلیہ نے جرات سے اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے آزاد عدلیہ پر حملے کو ناکام بنا دیا۔ یہ کیس مئی 2019ء میں اس وقت شروع ہوا جب صدر مملکت عارف علوی کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کیا گیا، جس میں یہ الزام لگایا گیا کہ جسٹس فائز عیسیٰ نے لندن میں اپنی تین جائیدادیں جو ان کی اہلیہ اور فیملی کے نام تھیں، جنھیں انہوں نے ڈکلیر نہی کیا۔ جبکہ جسٹس فائز عیسیٰ نے ان الزامات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی اہلیہ اور بچے خود مختار ہیں اور ان کے تمام اثاثے قانون کے مطابق ڈکلیرڈ ہیں۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے کچھ ”نا پسندیدہ“ فیصلوں، جن میں فیض آباد دھرنا کیس شامل ہے، جس میں انہوں نے ایجنسیوں اور فوج کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا۔ ان فیصلوں کی پاداش میں ان کے خلاف انتقامی ریفرنس دائر کیا گیا ہے جو لغو اور بے بنیاد ہے۔

یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا تعلق بلوچستان سے ہے اور وہ عوامی اور قانونی حلقوں میں انتہائی اچھی شہرت کے آزاد منش جج سمجھے جاتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وکلا تنظیمیں ان کے ساتھ کھڑی ہوئیں ہیں اور بار میں اسٹیبلشمنٹ کے خلاف مضبوط دھڑا جو کہ حامد خان کی قیادت میں جنرل مشرف کی غیر آئینی حکومت کے خلاف مزاحمت کرتا رہا، اس کے رہنماؤں نے جسٹس فائز کا بھرپور ساتھ دیا اور اس کیس میں منیر ملک سابق صدر سپریم کورٹ بار نے جسٹس عیسیٰ کی وکالت کی۔ اسی طرح وکلا تنظیموں کی طرف سے حامد خان اور رشید رضوی جبکہ عابد منٹو سمیت نامور وکلا نے صدارتی ریفرنس کی بھرپور مخالفت کی جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ نے 19 اپریل 2020ء کو جسٹس عیسیٰ کے خلاف ریفرنس کو اکثریت کے ساتھ بد دیانتی کی بنیاد پر کالعدم قرار دے دیا جبکہ اسی فیصلے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور ان لینڈ ریونیو ڈیپارٹمنٹ کو ہدایات جاری کیں کہ جسٹس فائز کی اہلیہ سرینا عیسیٰ کے اثاثوں کے خلاف تحقیقات کی جائیں اور اگر کوئی مواد اکٹھا ہو تو جسٹس عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے۔ قانونی حلقوں میں یہ محسوس کیا گیا کہ جب ریفرنس کو بد دیانتی کی بنیاد پر کالعدم قرار دیا گیا ہے تو مزید تحقیقات کا حکم غیر قانونی ہے کیونکہ اس کو جسٹس عیسیٰ کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے وکلا اور صحافتی تنظیموں اور خود جسٹس فائز عیسیٰ کی جانب سے نظر ثانی کی درخواستیں سپریم کورٹ میں دائر کی گئیں جبکہ حکومت نے ریفرنس کالعدم کرنے کے فیصلے کو چیلنج نہیں کیا۔

طویل عدالتی کارروائی کے بعد مورخہ 26 اپریل 2021ء کو سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ، جس کی سربراہی جسٹس عمر عطا بندیال کر رہے تھے، نظر ثانی کی درخواستوں کو 6 اور 4 کی اکثریت سے منظور کرتے ہوئے، 19 جون 2020ء کے فیصلے کے پیرا نمبر 4 تا 11 کو کالعدم قرار دیا۔ جس میں ’FBR‘ کو جسٹس فائز کی اہلیہ سرینا عیسیٰ اور بچوں کے اثاثوں کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے مختصر حکم نامہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکم نامے جون 2019ء کے نتیجے میں کی گئی کسی رپورٹ کو کسی فورم اور سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں لایا جا سکتا یعنی ان اداروں کی تحقیقات کی بنیاد پر کسی رپورٹ کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ یا ان کی فیملی کے خلاف استعمال بھی نہی کیا جا سکتا۔

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں یہ ایک اہم مقدمہ تھا جس میں ایک خاص بات یہ بھی تھی کہ نہ صرف ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کے حاضر سروس جج بلکہ انکی اہلیہ اپنا دفاع کرنے کے لیے خود عدالت میں پیش ہوتے رہے اور دس رکنی بینچ کے تمام سوالات کا بھرپور جواب دیا اور اس روایتی، رجعتی سماج میں جس دلیری سے سرینا عیسیٰ آزاد عدلیہ کی جنگ لڑتی رہیں وہ بھی تاریخ رقم کر گئیں۔ دوران سماعت سرینا عیسیٰ نے بہت دلیری سے ججوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کے اثاثوں کے متعلق سوالات بھی کیے اور جسٹس منیب اختر اور جسٹس عمر عطا بندیال کو کہا کہ وہ بھی اپنی بیوی اور بچوں کے اثاثے ڈکلیر کریں۔

ایک اور اہم بات جو کہ ریفرنس کے پیچھے سازش، بد دیانتی اور اسٹیبلشمنٹ کی ملی بھگت کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف میڈیا کمپئین ہے۔ ابتدا میں ہی ریفرنس کو میڈیا پر نشر کیا گیا جبکہ عدالتی کارروائی، جسٹس فائز عیسیٰ، سرینا عیسیٰ اور ان کے وکلا کے دلائل کو میڈیا پر بھی نہیں آنے دیا۔ حالانکہ اس حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ نے عدالت کو باقائدہ درخواست دی تھی جسے مسترد کر دیا گیا۔ بالآخر پاکستان کے عوام جیت گئے اور خفیہ طاقتوں کو شکست اور ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا۔ اگرچہ عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ، سماجی انصاف اور آئین اور قانون کی بالادستی کی جنگ بہت طویل ہے لیکن ایک بات طے ہے کہ عوامی طاقت اور بھرپور مزاحمت ہی جدوجہد کے اصول ہیں۔ جس پر چل کر جبر کا راستہ روکا جا سکتا ہے۔ تاریخ کا سبق ہے کہ جب بھی عوامی تحریک نے جنم لیا اور باشعور افراد نے مزاحمت کی سماج میں بہتری آئی۔ سپریم کورٹ کے ججوں، جنھوں نے ادارے اور آزاد منش جج کے خلاف شازش کو ناکام بنایا انھوں نے ثابت کیا کہ وہ ملازمت پیشہ جج نہیں بلکہ منصف ہیں۔

جسٹس فائز عیسیٰ اور سرینا عیسی،جو مادر مزاحمت بن کر ابھریں، نے اپنی مزاحمتی جدوجہد سے محکوم عوام کو جبر کے اس ماحول میں بہتر مستقبل کی امید دی ہے۔ خاص طور پر روایت شکن سرینا عیسیٰ کا نام آزاد عدلیہ کی جدوجہد میں پوری دنیا میں پاکستان کے لیے اعزار کا باعث ہے۔ عوام کے بنیادی حقوق کی جدوجہد اب مزید قوت سے آگے بڑھے گی۔

Rabbiya Bajwa

ربیعہ باجوہ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ہیں۔ وہ لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی فنانس سیکرٹری رہی ہیں اور انسانی حقوق کی جدوجہد میں سرگرم ہیں۔