تاریخ

ہم محنت کش یوم مئی کیوں مناتے ہیں؟ تاریخ کی روشنی میں

فاروق طارق

یوم مئی 1886ء کے شکاگو میں شہید ہونے والے محنت کش رہنماؤں کی یاد میں ہر سال منایا جاتا ہے۔ یہ محنت کش 8 گھنٹے روزانہ کام کا مطالبہ کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے 135 سال بعد بھی آج پاکستان سمیت کئی ممالک میں محنت کش طبقہ 8 گھنٹے سے زیادہ وقت محنت مزدوری میں صرف کرتا ہے تا کہ اسے ایک باعزت زندگی گذارنے کا موقع مل سکے۔

اس 135 سالہ تاریخ کے دوران شائد دوسری دفعہ کرونا کے پھیلاؤ کی وجہ سے عوامی سطح پر محنت کشوں کے بڑے جلسے، جلوس، ریلیاں اور دیگر عوامی سرگرمیاں منعقد نہ ہو سکیں گی۔ کچھ ٹریڈ یونینیں علامتی طور پر سماجی فاصلہ رکھتے ہوئے شائد کچھ سرگرمیاں منعقد کریں گی جبکہ دیگر آن لائن وبینارز وغیرہ منعقد کر رہی ہیں۔

پاکستان میں عام لوگوں کے علاوہ محنت کش طبقات کی ایک بہت بڑی تعداد مزدوروں کے عالمی دن کی تاریخ سے واقف نہیں۔ اس مضمون میں اس تاریخ کو مختصراََ پیش کیا جا ئے گا۔

انیسوی صدی کے دوران محنت کش طبقات آٹھ گھنٹے کام کے اوقات کار کے لئے مسلسل جدوجہد کر رہے تھے۔ کام کے حالات برے تھے اور اکثر محنت کش 12 سے 16 گھنٹے روزانہ کام کرنے پر مجبور تھے۔ کام پر اکثر صنعتی حادثے ہوتے تھے اور اکثر اوقات مزدور ان حادثات میں ہلاک بھی ہو جاتے تھے۔ جس طرح آج کے پاکستان میں صنعتی اداروں میں ہونے والے حادثات میں مزدورں کی ہلاکتوں اور زخمی ہونے کے واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔ کراچی میں دو سو مزدور ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں جل کر شہید ہو گئے جبکہ بلوچستان کی کانوں میں آئے روز کان کن کانوں میں دب کر شہید ہو جاتے ہیں۔

اٹھارویں صدی کے درمیان تک صورتحال یہ تھی کہ مزدور آٹھ گھنٹے روزانہ کام کے لئے کسی کامیابی کے بغیر جدوجہد میں مصروف رہے۔ یہ وہ دور تھا جب سوشلزم کے نظریات تیزی سے عام محنت کشوں میں مقبول ہو رہے تھے۔ مختلف قسم کی سوشلسٹ تنظیمیں معرض وجود میں آ رہی تھیں اور یہ تنظیمیں اور تحریکیں محنت کش طبقات کو ٹریڈ یونینوں میں منظم کرنے کی جستجو میں رہتے تھے۔

ایسی ہی ایک امریکی ٹریڈ یونین فیڈریشن جس کا نام تھا فیڈریشن آف آرگنائزڈ ٹریڈ اینڈ لیبر یونینز جو بعد میں امریکن فیڈریشن اف لیبر کہلائی، نے 1884ء میں اپنے ایک کنونشن میں منظور ہونے والی ایک قرارداد کے ذریعہ طے کر دیا کہ مئی 1886ء کے دن سے مزدوروں کے لئے ایک دن کام صرف آٹھ گھنٹے پر مشتمل ہو گا اور یہ ان کا لیگل دن ہو گا۔

انہوں نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ اس مقصد کے لئے اس روز سے ہڑتالوں اور مظاہروں سے بھی کام لیا جائے گا۔ 1885ء میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ محنت کش شکاگو اور دیگر امریکی شہروں میں آٹھ گھنٹے کام کے مطالبہ کے لئے جدوجہد میں شریک ہو گئے۔یکم مئی اب امریکی محنت کشوں کے لئے ایک ایسا دن بن کر ابھر رہا تھا جب آٹھ گھنٹے کام کو قانونی حیثیت مل سکتی تھی۔

یکم مئی 1886ء کو امریکہ کے تین لاکھ مزدور جن کا تعلق 13000 صنعتی اداروں سے تھا مظاہروں میں شریک ہوئے۔ مطالبہ ایک ہی تھا: ”کام آٹھ گھنٹے روزانہ“۔ اس سے زیادہ نہیں۔

امریکہ سے قبل آسٹریلیا کے شہر ملبورن میں 1856ء میں 888 کی ایک تحریک چلی۔ مطلب یہ کہ روزانہ کے 24 گھنٹے کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا۔ یہ کہا گیا کہ آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے آرام اور تفریحی سرگرمیاں اور آخری آٹھ گھنٹے نیند کے لئے۔

اس تحریک میں کنسٹرکشن میں کام کرنے والے مستریوں اور مزدوروں نے حصہ لیا اور اسے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ آج بھی ملبورن میں آٹھ گھنٹے کام کی یاد میں شہر کے وسط میں ایک مجسمہ موجود ہے۔

امریکی شہر شکاگو میں یوم مئی 1886ء کے روز 40,000 سے زیادہ مزدوروں نے ہڑتال شروع کر دی۔ اس روزانقلابی تقریروں نے ماحول گرم کر دیا۔ البرٹ پارسن، جوھان موسٹ، اگست سپائیس اور لوئیس لنگ کی تقریروں نے ان کو گھر گھر مقبول کر دیا۔ ہر فرد ان کو جاننے لگ گیا۔ مظاہرین کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ ہو گئی۔

تین مئی کو ہنگامے شروع ہو گئے۔ پولیس نے تشدد سے کام لینا شروع کیا اور تین مئی کو ایک لاٹھی چارج سے دو ہڑتالی مزدور شہید ہو گئے اور لاتعداد مزدور ذخمی ہوئے۔

چار مئی کو اس واقعہ کے خلاف مزدوروں نے ھے مارکیٹ (Hay Market) کے مقام پر ایک جلسے کا اعلان کیا۔ اس روز بارش شدید تھی۔

لگ بھگ تین ہزار مزدور وہاں پہنچے۔ ان میں بچے اور عورتیں بھی تھے اور شکاگو کا مئیر بھی اس جلسہ میں تھا۔ اگست سپائیس شعلہ نوائی کر رہا تھا کہ پولیس نے دھاوہ بول دیا۔ اسی دوران اشتعال انگیزی کو ہوا دینے کے لئے کسی نامعلوم فرد نے پولیس وین پر ایک بم پھینک دیاجس سے ایک پولیس افسر ہلاک ہو گیا۔

پولیس کی فائرنگ سے سات مزدور بھی شہید ہو گئے اور چالیس زخمی ہو گئے۔ اس دوران مزدور اپنی سفید شرٹوں کو سرخ خون سے رنگ کر لہراتے رہے اور یوں سرخ رنگ جدوجہد، قربانی اور عزم کا نشان بن گیا۔ سرخ جھنڈا مزدوروں کا نشان بن گیا۔

پولیس نے آٹھ مزدور رہنماؤں کو گرفتار کیا اور ان پر قتل کا مقدمہ بنا دیا۔ ان میں البرٹ پارسن، اگست سپائیس، سیموئل فیلڈن، اسکر نیبی، مائیکل سخواب، جارج اینگلز، ایڈولف مشر اور لوئیس لنگ شامل تھے۔ ان میں سے صرف تین رہنما اس روزھے مارکیٹ میں موجود تھے۔

11 نومبر 1887ء کو پارسن، سپائیز، اینگل اور فشر کو ملک بھر میں مظاہروں اور احتجاج کے باوجود پھانسی پر لٹکا دیا گیا جبکہ لوئیس لنگ نے پھانسی سے ایک روز قبل خود ہی اپنی جان لے لی۔ یہ آٹھ گھنٹے تحریک کے شہدا تھے۔ دیگر تین کو چھ چھ سال کی سزا سنائی گئی۔

یہ سزائیں انہیں آٹھ گھنٹے تحریک کی قیادت کرنے پر سنائی گئی تھیں۔ مگر بہانہ بم دھماکے کا تھا۔ پھانسی کے تختے پر چڑھنے والے مزدور رہنماؤں نے گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے تاریخی فقرے جرات کے ساتھ کہے: ”تم ہمیں جسمانی طور پر ختم کر سکتے ہو لیکن ہماری آواز نہیں دباسکتے“۔

پھانسیوں کے اس واقعہ کے بعد دنیا بھر میں یہ مطالبہ زور پکڑ گیا کہ کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے روزانہ مقرر کئے جائیں۔ امریکہ میں بھی 1887ء میں ہی سرکاری طور پر کام کے اوقات کار آٹھ گھنٹے مقرر کر دئیے گئے۔ اس جدوجہد کے نتیجے میں دنیا بھر میں محنت کشوں نے آٹھ گھنٹے کے اوقات کار حاصل کئے۔

یہ شہدائے شکاگو کو خراج تحسین تھا کہ دوسری انٹرنیشنل کی 1889ء میں منعقد ہونے والی انٹرنیشنل سوشلسٹ کانفرنس نے فیصلہ کیا کہ یوم مئی کو محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جائے۔ اس اجلاس کی صدارت عظیم مارکسی استاد فریڈرک اینگلز نے کی تھی۔ 1889ء کے بعد سے یکم مئی کا دن دنیا بھر میں محنت کشوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس روز محنت کش اپنی جدوجہد کو سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے تک جاری رکھنے کا عزم کرتے ہیں۔

اس وقت دنیا کے 66 ممالک میں یوم مئی کے روزسرکاری چھٹی ہوتی ہے۔ یہ ایک تجدیدعہد کا دن ہے کہ محنت کش طبقہ اپنے ان عالمی ہیروزکو فراموش نہیں کرے گا جنہوں نے مزدور طبقات کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔یہ دن دنیا کے ان تمام مزدوروں کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے جو آج تک مزدور طبقات کے لئے جدوجہد اور قربانیوں کا راستہ اپنائے ہوئے ہیں۔

آج مزدوروں کے اوقات کارسرکاری طور پر تو 8 گھنٹے ہیں مگر ایک باعزت زندگی بسر کرنے کے لئے دو دو تین تین کام کرنے پڑتے ہیں یا 12-14 گھنٹے کام کرنا پڑتا ہے تب جا کر گزارا ہوتا ہے۔ پاکستان کے مزدور طبقات تو آج کرونا کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ غربت اور عدم مساوات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور جینا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہاہے۔

اس پس منظر میں عالمی مزدور یکجہتی کی اہمیت مذید بڑھ جاتی ہے۔ آئیے 2021ء کے یوم مئی پر تجدید عہد کریں کہ قربانیوں، جدوجہد اور یکجہتی کے ساتھ ساتھ اس سرمایہ داری جاگیرداری نظام کے خاتمے اور ایک سوشلسٹ سماج کی تعمیر کے لئے جدجہدجاری رہے گی۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔