پاکستان

میڈیا کی آزادی: پاکستان دنیا میں 142ویں، برطانیہ 33ویں نمبر پر

فاروق سلہریا

گزشتہ چند دنوں میں میڈیا کے خلاف عمران خان حکومت کے مزید جابرانہ اقدامات سامنے آئے ہیں۔گزشتہ روز (8 اگست) کو نجم سیٹھی نے دعویٰ کیا کہ چینل 24 پر اُن کا شو روک دیا گیا ہے۔ ادھر پیمرا نے جیو کے شو ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ پر ا س کی 18 جولائی کی نشریات کی وجہ سے دس لاکھ جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ اس شو پر نیب کے چیئرمین بارے نازیبا ویڈیو کو موضوع بنانے پر یہ جرمانہ عائد ہوا۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مسلسل یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ میڈیا بالکل آزاد ہے۔ اس حوالے سے حکومتی دعوے کا سب سے بڑا اظہار امریکی دورے کے دوران عمران خان کا یہ بیان تھا کہ پاکستان کا میڈیا برطانوی میڈیا سے بھی زیادہ آزاد ہے۔ اِس سے ملتا جلتا ایک بیان فواد چوہدری نے اُن دنوں دیا تھا جب وہ وزیرِ اطلاعات تھے۔ وائس آف امریکہ کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغرب میں بھی تو میڈیا پر پابندیاں ہوتی ہیں۔ ان کا بین السطور یہ دعویٰ تھا کہ پاکستان کا میڈیاامریکہ کے میڈیا سے بھی زیادہ آزاد ہے۔کیا ایسا ہی ہے؟

مختصر جواب: عمران خان (اور فواد چوہدری)کا دعویٰ سراسر غلط ہے۔

اب آتے ہیں تفصیل کی طرف۔ عمران خان نے اپنے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لئے یہ ثبوت دیا کہ ان کی طلاق کی جھوٹی خبر چلا دی گئی اور ایسا امریکہ میں ممکن نہیں۔ فواد چوہدری نے بھی ایک واقعہ کی بنیاد پر اپنی دلیل پیش کر دی تھی۔ بائیس کروڑ کے ملک میں آزادی اظہار جیسے موضوعی مسئلے پر ایک واقعے کی بنیاد پر ایک دعویٰ کر دینا منطق اور حقائق کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ عمران خان کا بیان نہ صرف پاکستانی میڈیا کے کارکنوں اور عوام کے روز مرہ تجربات کی نفی کرتا ہے بلکہ اعداد و شمار کی روشنی میں بھی ایک سنگین مذاق سے زیادہ کچھ نہیں۔ آئیے ذرا اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہیں۔

معروف عالمی تنظیم ’رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز‘ (Reporters Without Borders) ہر سال 180 ممالک میں آزادی صحافت کا جائزہ لے کر مختلف ممالک کی درجہ بندی کرتی ہے۔ یہ درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے اس کا ذکر ذرا بعد میں۔ پہلے ذرا اس تنظیم کی درجہ بندی کی روشنی میں پاکستان اور برطانیہ کا ایک تقابلی جائزہ پیش خدمت ہے جس کی روشنی میں عمران خان کے دعوے کا کھوکھلا پن واضح ہو کر سامنے آ جائے گا۔

180 ممالک میں میڈیا کی آزادیوں کے حوالے سے برطانیہ اور پاکستان کی درجہ بندی:

اس رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کا مقابلہ ایک اور طرح بھی کیا جا سکتا ہے:

رپورٹ کے طریقہ کار میں وضع کردہ تحقیقی اصولوں کی روشنی میں ہر ملک کو ایک گلوبل اسکور دیا جاتا ہے۔ یہ اسکور صفر سے سو کے درمیان ہوتا ہے۔ صفر کا مطلب ہے بہترین۔ جوں جوں اسکور بڑھتا جائے گا توں توں متعلقہ ملک کی درجہ بندی گرتی جائے گی۔ اس سال پاکستان کا گلوبل اسکور 45 تھا جبکہ برطانیہ کا گلوبل اسکور 22 تھا۔ دوسرے الفاظ میں پاکستان میں میڈیا کی آزادی برطانیہ کے مقابلے میں آدھی بھی نہیں۔ آئیے اب اسی رپورٹ کی روشنی میں یہ تقابلی جائزہ تیسری طرح لیتے ہیں۔

رپورٹ میں گلوبل اسکور کے حوالے سے دنیا بھر کے میڈیا کی مندرجہ ذیل پانچ درجہ بندیاں ہیں:

مندرجہ بالا ٹیبل کی مدد سے عمران خان کے بیان کی حقیقت کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی یہ رپورٹ کس قدر قابل اعتبار ہے؟ ہمیشہ کسی تحقیقی رپورٹ کے قابل اعتبار ہونے کا فیصلہ اس کے طریقہ کار (Methodology) سے لگایا جا سکتا ہے۔ سماجی علوم میں دو مروجہ طریقہ کار ہیں۔ ایک کو معیاری (Qualitative) اور دوسرے کو مقداری (Quantitative) طریقہ کار کہا جاتا ہے۔ ماضی میں دونوں پر کافی تنقید رہی ہے۔ آجکل بہت سے محقق دونوں کے امتزاج کو استعمال کرنے لگے ہیں۔ مندرجہ بالا رپورٹ بھی دونوں کا ایک اچھا امتزاج ہے۔

طریقہ یہ ہے کہ میڈیا کی آزادی کو ناپنے کے لئے پانچ پیمانے ہیں:

1:تنوع (Pluralism)
2: میڈیا کی آزادی
3: میڈیا کو میسر ماحول اور سیلف سنسر شپ
4: قوانین
5: میڈیا کے لئے دستیاب انفراسٹرکچر کی کوالٹی

رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز 87 سوالات پر مبنی سوالنامہ بیس مختلف زبانوں میں دنیا کے ایک سو اسی ممالک میں ماہرین (وکلا، میڈیا ماہرین، ماہرینِ عمرانیات) کو بھیجتا ہے۔ ایک طرف تو ان ماہرین کی مدد سے معیاری طریقہ کار سے درجہ بندی کی جاتی ہے۔ دوسرا اعداد و شمار کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ مثلاً کسی ملک میں اس سال میڈیا کارکنان پر کتنے حملے ہوئے ہیں‘ کتنے اخبارات اور چینل بند کیے گئے۔

تحقیق کے طریقہ کار کو ہمیشہ بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ آپ کا طریقہ تحقیق آپ کا نظرئیے (مارکسزم، لبرلزم، فیمن ازم، پوسٹ ماڑدن ازم وغیرہ) سے طے ہوتا ہے۔ طوالت سے بچنے کے لئے اس بحث میں جائے بغیر میڈیا کے ایک طالب علم کی حیثیت سے راقم کی نظر میں مندرجہ بالا تحقیق کا طریقہ کار کافی جامع ہے (گو اس میں طبقاتی پہلو کو یکسر نظر انداز کیا گیاہے۔ اس فلٹر کو شامل کرتے ہوئے مندجہ بالا رپورٹ اور بھی جامع بن سکتی ہے)۔

بہ الفاظ دیگر اگر کوئی جہالت اور جنونیت کے ماحول سے باہر نہ آنا چاہے تو اور بات ہے ورنہ مندرجہ بالا رپورٹ کی تیاری کے لئے رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کا طریقہ کار کافی قابلِ اعتبار اور جامع ہے۔

اختتامیہ

منطق اور اعداد و شمار کی روشنی میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کی صورتِ حال انتہائی مخدوش ہے۔ اس وقت جو اقدامات کیے جا رہے ہیں ان کے نتیجے میں رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کی آئندہ درجہ بندی میں پاکستان کا نمبر اور بھی نیچے گرنے کا قوی امکان ہے۔

پاکستانی سیاستدانوں کا وطیرہ ہے کہ جب وہ حکومت میں ہوتے ہیں تو انہیں صحافت کی آزادی اچھی نہیں لگتی۔ وہ اکثر کسی ایک واقعے کی بنیاد پر پاکستان کا موازنہ امریکہ اور برطانیہ سے کر دیں گے۔ ان کا انداز طعنہ بازی والا ہوتا ہے نہ کہ سنجیدہ اور مدلل۔ اس قسم کی طعنہ بازی سے وقتی طور پر انٹرویو کرنے والے مغربی صحافیوں (پاکستان بارے جن کی معلومات اکثر کم ہوتی ہے) کو تو چپ کرایا جا سکتا ہے مگر سچ پر پردہ نہیں ڈالا جا سکتا۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی بری باتوں اور چیزوں سے تو مقابلہ کیا جاتا ہے مگر اچھی روایات سے نہیں۔ پھر یہ بھی اہم بات ہے کہ مغرب صرف امریکہ نہیں۔ آزادی صحافت میں سکینڈے نیویا ئی ممالک کی اچھی روایات سے مقابلہ کیوں نہیں کیا جاتا؟

Farooq Sulehria

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔