پاکستان

صرف چینی نہیں گندم بحران کے پیچھے بھی جہانگیر ترین

فاروق طارق

پاسکو کا مینجنگ ڈائریکٹر محمد خان کھچی آج کل خوب خبروں میں ہے۔ ایف آئی اے کی رپورٹ واضح طور پر پاسکو کو دیگر اداروں کے ساتھ آٹا بحران کا درست طور پر ذمہ دار ٹھہراتی ہے۔ پاسکو میں فوجی آمر جنرل ضیا الحق کے دور سے حاضر سروس فوجی افسر مینجنگ ڈائریکٹر کے عہدہ پر کام کرتے تھے۔ ان کے ساتھ حاضر سروس میجر اور لیفٹیننٹ کرنل بھی پاسکو کے اعلی عہدوں پر تعینات ہوتے تھے۔ یونین کی کمپئین کے نتیجہ میں حاضر سروس میجر جنرل کو واپس بلا لیا گیا جب ان کے خلاف پاسکو میں من پسند بھرتیاں کرنے کا الزام درست ثابت ہوا۔

پاسکو کے پہلے سویلین مینجنگ ڈائریکٹر طارق مسعود تھے جو 2013ء میں تعینات ہوئے جنہوں نے من پسند بھرتیوں کو باہر نکال کر پاسکو میں ترقی کی ایک نئی راہ متعین کی۔ طارق مسعود 2016ء میں اپنے تین سال مکمل کرنے کے بعد ریٹائرڈ ہو گئے۔ آج کل وہ ممبر پبلک سروس کمیشن کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

محمد خان کھچی دوسرے سویلین مینجنگ ڈائریکٹر تھے جو 2015ء میں یہاں تعینات ہوئے۔ وہ ملتان کے رہنے والے ہیں اور سکندر حیات بوسن کے کلاس فیلو، دوست اور ہمسائے ہیں۔ کہانی 2018ء میں شروع ہوتی ہے۔ ان کے خلاف پاسکو یونین نے وزیر اعظم عمران خان کو درخواست بھیجی کہ انہوں نے ان تمام افراد کو دوبارہ بھرتی کر لیا ہے جنہیں انکوائری کے بعد نکال دیا گیا تھا۔ عمران خان نے ان کی 22ویں گریڈ میں پروموشن روک لی اور یہ 21ویں میں ہی رہ گئے۔

محمد خان کھچی کو سکندر حیات بوسن جہانگیر ترین کے پاس لے گیا۔ جس نے ان کی رُکی پروموشن کروا دی اور پھر محمد خان کھچی نے بدلے میں وہ کام کیا جس کی گونج اب سنائی دے رہی ہے۔ اس نے جہانگیر ترین کو پاسکو بارے تفصیلی بریفنگ دی اور بتایا کہ یہ تو سونے کی چڑیا ہے۔ پاسکو کے پاس گندم کے کچھ ذخائر ملک کے کم ترقی یافتہ علاقوں کے لئے مخصوص رکھے جاتے ہیں تا کہ ایمرجنسی میں یہ کام آ سکیں۔

محمد خان کچھی کی کانا پھوسی کے نتیجہ میں 2018ء میں اکنامک ایڈوائزری کمیٹی کو یہ تاثر دیا گیا کہ گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور اسے پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعے فروخت کر دیا جائے حالانکہ یہ بات حقائق کے خلاف تھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نومبر 2018ء میں گندم کی برآمدبذریعہ پرائیویٹ سیکٹر کا اعلان کر دیا گیا۔ نجی شعبہ نے پاسکو سے دھڑا دھڑ گندم خریدنا شروع کی اور اس کی ذخیرہ اندوزی شروع کر دی۔ گندم برآمد نہیں کی گئی۔ صرف کہا گیا کہ برآمد کر رہے ہیں۔ پاسکو کے پاس گندم کے ذخائر کم ہونا شروع ہوئے۔ ادھر پاسکو نے اپنے ٹارگٹ کے مطابق گندم کی خریداری نہیں کی۔ سندھ میں تو گندم خریدی ہی نہ گئی اور پنجاب میں پچھلے پانچ سالوں کی نسبت سب سے کم گندم کی خریداری کی گئی۔

جون 2019ء میں حکومت نے گندم کی برآمد بند کرنے کا کہا مگر اس پر نومبر 2019ء تک عمل نہ ہوا۔ محمد خان کھچی نے سب کو، سوائے اپنے پیاروں کے، اندھیرے میں رکھا۔ گندم کے حقیقی ذخائر کے اعدادوشمار بھی چھپائے گئے۔ نومبر میں جب یہ معلوم ہو گیا کہ مارکیٹ کی ضرورت کے مطابق تو گندم موجود نہیں۔ ”ایکسپورٹ“ہو چکی ہے جو دراصل بڑے ذخیرہ اندوزوں کے پاس پاکستان میں ہی موجود تھی تو مارکیٹ میں آٹا مہنگا بلکہ بہت مہنگا بکنا شروع ہوا۔ ذخیرہ اندوزوں نے گندم نکالی اور مہنگی بیچنی شروع کر دی اور دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹا گیا۔ اس طرح ایک ماہ کے دوران آٹا کی اونچی قیمت سے وہ سب کچھ پورا کر لیا گیا جسے کچھ افراد نے تحریک انصاف کی انتخابی مہم پر خرچ کیا تھا۔

Farooq Tariq

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔