خبریں/تبصرے

انٹرنیٹ سے محروم طلبہ کے لئے پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو اور کنیکٹ دی ڈس کنیکٹڈ نے 5 ہزار کتابیں جمع کر لیں

علی رضا

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو اور کنیکٹ دی ڈس کنیکٹڈ نے بکس کولیکشن کیمپئین میں پانچ ہزار سے زائد کتابیں اکٹھی کی ہیں۔ یہ کتابیں بلوچستان، سابقہ فاٹا، کشمیر، سندھ اور جنوبی پنجاب جیسے کم مراعات یافتہ علاقوں میں لائبریریاں بنانے کے لیے اکٹھی کی جا رہی ہیں۔

پہلے ہی بلوچستان میں 8 لائبریریاں قائم کی جا چکی ہیں جن میں زیادہ تر کتابیں بلوچستان سے ہی جمع کی گئیں۔

چند روز پہلے اس کمپئین کا آغاز لاہور میں بھی کیا گیا۔ اس حوالے سے تین دن شہر کے مختلف مقامات پر بکس کولیکشن کیمپ بھی لگائے گئے جس کے نتیجے میں سینکڑوں کتابیں اکٹھی ہوئیں۔

معروف صحافی اور سماجی کارکنان نے بھی اس کمپئین کی بھرپور حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کثیر تعداد میں کتابیں جمع کروائیں۔ کتابیں جمع کروانے والوں میں ممتاز صحافی امتیاز عالم، سینئر صحافی رضا رومی، بائیں بازو کے رہنما فاروق طارق، انقلابی شاعر خالد جاوید جان، انقلابی شاعر حبیب جالب کی صاحبزادی طاہرہ جالب، ڈاکٹر عمار علی جان اور کئی دیگرمعروف شخصیات شامل ہیں۔

کئی اداروں نے بھی اس مہم میں کتابیں عطیہ کیں۔ ان میں طبقاتی جدجہد پبلیکیشنز، ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان، فولیو بکس، سانجھ پبلیکشنز، حقوق خلق موومنٹ، سٹوڈنٹس ہیرالڈ اور روزنامہ جدوجہد شامل ہیں۔

اس مہم میں پانچ ہزار سے زائد کتابیں اکٹھی کی گئیں جنھیں جنوبی پنجاب اور بلوچستان بھیج دیا گیا ہے۔ یہ مہم ابھی بھی جاری ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ اس مہم کو اب ملک کے دوسرے حصوں تک بھی پھیلایا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے کنیکٹ دی ڈس کنیکٹڈ کے چیئرمین مزمل خاں نے ’روزنامہ جدوجہد‘ سے بات کرتے ہوئے کہا: ”پسماندہ علاقوں میں نہ انٹرنیٹ ہے نہ لائبریریاں۔ پسماندہ علاقوں کے طلبہ علم کے تمام ذرائع سے محروم ہیں۔ مزید یہ کہ ہمارے ہاں جو ادب پہنچایا گیا اس کامقصد صرف مذہبی انتہا پسند پیدا کرنا تھا ہم ہر طرح کی کتابیں لے کر جا رہے ہیں تا کہ ان علاقوں کے نوجوان جدید تقاضوں سے روشناس ہو سکیں“۔

پروگریسو سٹوڈنٹس کولیکٹو کے رہنما محسن ابدالی نے ’روزنامہ جدوجہد‘سے بات کرتے ہوئے کہا کہ چاہیے تو یہ تھا کہ موجودہ بحران میں سامنے آنے والے تضادات کو دیکھتے ہوئے ریاست تعلیمی ایمرجنسی لگا کر طلبہ کے، خاص طور پر ترقیاتی لحاظ سے پسماندہ علاقوں کے طلبہ کے مسائل حل کرتی، وہاں انٹرنیٹ کی بحالی اور لائبریریوں کا قیام عمل میں لایا جاتا لیکن ریاست اس معاملے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے اس لیے ہمیں یہ کرنا پڑ رہا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیم اداروں میں تنقیدی نقطہ نظر کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے اس لیے یہ لائبریریاں نہ صرف علم کے فروغ کے لیے ضروری ہیں بلکہ یہ نوجوانوں کو بحث و مباحثہ کی متبادل جگہ کے طور پر بھی کردار ادا کریں گی۔ انھوں نے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد سے اس مہم کا حصہ بننے کی اپیل کی ہے۔

اگر قارئین جدوجہد اس مہم میں کتابیں جمع کروانا چاہتا ہے تو درج ذیل نمبروں پر رابطہ کریں:
03329988555
03024641263

علی رضا گورنمنٹ کالج لاہور یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات میں بی ایس آنرزکے طالب علم ہیں۔