Day: جولائی 12، 2021

فاروق سلہریا روزنامہ جدوجہد کے شریک مدیر ہیں۔ گذشتہ پچیس سال سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں۔ ماضی میں روزنامہ دی نیوز، دی نیشن، دی فرنٹئیر پوسٹ اور روزنامہ پاکستان میں کام کرنے کے علاوہ ہفت روزہ مزدور جدوجہد اور ویو پوائنٹ (آن لائن) کے مدیر بھی رہ چکے ہیں۔ اس وقت وہ بیکن ہاوس نیشنل یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔


قیام امن کیلئے افغانستان کو 10 سال تک اقوام متحدہ کے حوالے کیا جائے

روس اور چین جو افغانستان سے امریکہ کا انخلا چاہتے تھے، ہرگز نہ چاہیں گے کہ کابل میں ایک ایسی حکومت قائم ہو جو چین میں ایغور اور چیچنیا میں علیحدگی پسند مسلمان قوتوں کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہو (افغانستان کے وسط ایشیائی ہمسائے بھی اپنے بارڈر پر امن کے خواہاں ہیں مگر وہ روس اور چین کی مرضی کے خلاف کوئی کردار ادا نہیں کریں گے اور عقلمند ریاستوں کی طرح انہوں نے افغانستان میں مداخلت سے گریز ہی کیا ہے)۔

جموں کشمیر انتخابات: 18 امیدواروں کا تعلق قوم پرست، ترقی پسند جماعتوں سے ہے

انقلابی جدوجہد میں شامل ہر منظم تنظیم اور قیادت کو ان فیصلہ کن لمحات کی تیاری کے تسلسل کے طور پر پارلیمانی شعبے کو بھی استوار کرنا ہوتا ہے۔ یہ عمل کبھی بھی سیدھی لکیر میں یا آئیڈیل حالات کے تحت استوار نہیں کیا جا سکتا بلکہ کٹھن اور دشوار حالات اور سخت پابندیوں سے راستے نکالتے ہوئے پارلیمانی شعبے کو منظم اور مضبوط کیا جاتا ہے۔ اسی دوران غیر معمولی واقعات اور حادثات کی صورت میں انقلابی قیادتیں سرمایہ دارانہ پارلیمان کا حصہ بھی بنتی ہیں اور اس پارلیمان کو بے نقاب کرتے ہوئے محنت کش طبقے کو حقیقی متبادل کیلئے نہ صرف تیار کرتی ہیں بلکہ اس منزل کے حصول میں اپنے طبقے کی رہنمائی کا فریضہ بھی سرانجام دیتی ہیں۔

ہر منٹ 11 افراد بھوک سے ہلاک مگر فوجی اخراجات میں 51 ارب ڈالر اضافہ

گلوبل وارمنگ اور وبائی کیفیت کی وجہ سے معاشی بدحالی عالمی سطح پر غذائی اشیا کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا باعث بنی ہے جو گزشتہ 10 سال کے عرصہ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس اضافے نے دسیوں ملین مزید افراد کو بھوک کا شکار کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔