Day: جولائی 31، 2021

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


جوہر میر: مزاحمتی شاعری کا گم شدہ سپاہی!

مزاحمتی ادب بر صغیر کی روایتوں کا ایک اہم باب ضرور ہے لیکن انقلابی اردو شاعری میں ان لوگوں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے اپنے اپنے مقام پر ماحول کی گھٹن کو تواجاگر کیا مگر انہیں قومی سطح پر وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ مستحق ہیں۔جوہرمیر بھی مزاحمتی شاعری کا ایک گمنام سپاہی ہے جس نے سماجی انصاف کی چوکھٹ پر اپنی انفرادی خوشیوں کو ساری زندگی قربان کیا۔

دانش صدیقی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک نہیں ہوئے، طالبان نے عمداً قتل کیا

”دانش صدیقی کو قتل کرنے اور پھر انکی لاش کو مسخ کرنے کے طالبان کے اقدام سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ جنگ کے اصولوں یا کنونشنوں کا احترام نہیں کرتے ہیں۔ طالبان ہمیشہ ظالمانہ رہے ہیں لیکن انہوں نے یہ اقدام کر کے یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ اپنے زیر قبضہ افغان حصہ میں غیر ملکی صحافیوں کی موجودگی کو پسند نہیں کرتے اور چاہتے ہیں کہ انکے پروپیگنڈہ کو ہی سچ تسلیم کیا جائے۔“