Day: جولائی 30، 2021

ڈاکٹر قیصرعباس روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی  سے ایم اے صحافت کے بعد  پاکستان میں پی ٹی وی کے نیوزپروڈیوسر رہے۔ جنرل ضیا کے دور میں امریکہ آ ئے اور پی ایچ ڈی کی۔ کئی یونیورسٹیوں میں پروفیسر، اسسٹنٹ ڈین اور ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرچکے ہیں۔ آج کل سدرن میتھوڈسٹ یونیورسٹی میں ایمبری ہیومن رائٹس پروگرام کے ایڈوائزر ہیں۔


لاشے تو افغان روز دفناتے ہیں، عید پر ہم نے مسکراہٹیں دفن کیں

افغان جنگ ایک اہم موڑ پر ہے۔ افغان حکومت اور افغان عوام کو اکیلا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ادہر عالمی میڈیا میں طالبان کی بربریت بارے کوئی رپورٹنگ نہیں ہو رہی۔ دنیا کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ طالبان کے ساتھ ہے یا افغان عوام کے ساتھ۔

خیبر پختونخوا کے خاشہ زوان جن کا نوحہ بھی نہ کیا جا سکا

ان تہذیب دشمنوں کے نزدیک زندگی، امن، ہنسی، فن، تاریخ اور طنز و مزاح ایک سنگین جْرم ہیں۔ افغان ہونے کے علاوہ فنون لطیفہ سے وابستگی اور افغانوں کے چہروں پرمسکراہٹیں لانا ہی خاشہ زوان اور دوسرے سینکڑوں فنکاروں اور گلوکاروں کا جرم تھا۔

ڈاکٹر مریم چغتائی عمران خان کا اکیڈیمک ورژن ہیں

امید ہے جس طرح عمران خان اپنے تازہ انٹرویو میں وکٹم بلیمنگ سے پیچھے ہٹ گئے ہیں، ڈاکٹر مریم چغتائی بھی سیلف ڈیفنس والے فلسفے پر نظر ثانی کرتے ہوئے تسلیم کریں گی کہ سیلف ڈیفنس سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ یکسا قومی نصاب کو ڈی دیڈیکلائز کیا جائے۔

کابل نہیں کشمیر سہی: مخصوص نشست پر پی ٹی آئی نے طالبان کمانڈر کو نامزد کر دیا

ماضی میں حکمران طبقات جس طرح وحشت و بربریت کو معاشرے پر مسلط کرتے ہوئے محنت کش طبقے کی بغاوت کو ٹالتے آئے ہیں اور اپنے اقتدار اور لوٹ مار کیلئے راستے بناتے آئے ہیں، ضروری نہیں اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہو۔