Month: 2022 نومبر


آیت اللہ خامنہ ای کی بھتیجی نے مظاہروں کی حمایت کر دی

”اے آزاد لوگو، ہمارے ساتھ رہو اور اپنی حکومتوں سے کہو کہ وہ اس قاتل اور بچوں کو مارنے والی حکومت کی حمایت بند کریں۔ یہ حکومت اپنے کسی مذہبی اصول کی وفادار نہیں ہے اور اسے طاقت کے علاوہ کسی بھی قانون یا قاعدے کا علم نہیں ہے۔ کسی بھی ممکنہ طریقے سے اپنی طاقت کو برقرار رکھنا انکا مقصد ہے۔“

جدوجہد، یکجہتی، سوشلزم

ہفتہ وار یا ماہانہ بنیاد پر آپ ہمارے لئے لکھ سکتے ہیں، رپورٹ کر سکتے ہیں۔ بالخصوص اگر آپ اکیڈیمک شعبے یا تحقیق کے کام سے وابستہ ہیں تو ہمارے لئے لکھئے۔ ہمیں مترجم ساتھیوں کی بھی اشد ضرورت ہے۔
ماہانہ بنیاد پر یا سالانہ بنیاد پر آپ ہماری مالی مدد کر سکتے ہیں۔ اگر آپ مالی مدد کرنا چاہئیں تو مندرجہ ذیل واٹس اپ پر رابطہ کریں: 00923306009977
ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال ’روزنامہ جدوجہد‘ کا انگریزی زبان میں ایڈیشن بھی جاری کیا جائے۔ اس کے علاوہ ہم آنے والے سالوں میں اسے ایک ملٹی میڈیا پلیٹ فارم بنانا چاہتے ہیں لیکن یہ سب آپ کی عملی یکجہتی کے بغیر ممکن نہیں۔

مظفر آباد کارپوریشن میں 2 قوم پرست امیدوار کامیاب، نعروں کی گونج میں جیت کا جشن

جموں کشمیر نیشنل عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے فضل محمود بیگ بینک روڈ مظفر آباد کی وارڈ سے بطور آزاد امیدوار انتخابات میں حصہ لے رہے تھے۔ انہوں نے اپنے مد مقابل آزاد امیدوار کو بھاری مارجن سے شکست دی۔

جموں کشمیر: بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل، حکمران تحریک انصاف کو شکست

مظفر آباد ڈویژن میں سامنے آنے والے انتخابی نتائج دیگر دو ڈویژنوں پر بھی کسی نہ کسی سطح پر اثر انداز ہوتے ہوئے نظر آئیں گے۔ آزاد امیدواران کی بڑی تعداد میں کامیابی جہاں روایتی سیاسی جماعتوں اور قیادتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے، وہیں دیگر دو مراحل میں رائے دہندگان اور امیدواران کے حوصلے بھی مزید بلند ہو رہے ہیں۔ تمام سیاسی جماعتیں بھی پہلے مرحلے کے نتائج کو دیگر دو ڈیژنوں میں اپنا ووٹ بینک بڑھانے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش کریں گی۔

وزیر اعظم صاحب! آپ لینڈ مافیا کے ساتھ ہیں یا قائد اعظم یونیورسٹی کے؟

پاکستان کی ایک اہم ترین پبلک یونیورسٹی کی زمین بچانے کے لئے کچھ لوگ انتہائی مشکل لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ لڑائی محض یونیورسٹی کی زمین بچانے کے لئے نہیں، یہ لڑائی پاکستانی کی روح بچانے کے لئے لڑی جا رہی ہے۔ اس لڑائی کا مقصد پاکستان کی واحد وفاقی یونیورسٹی کا دفاع کرنا ہے۔ اس سے بھی اہم بات: اس لڑائی کا جو بھی نتیجہ نکلے گا اس سے یہ طے ہو گا کہ ہماری قومی ترجیحات کیا ہیں۔ اس لڑائی کا جو نتیجہ نکلے گا اس سے یہ بھی طے ہو جائے گا کہ کیا ملک کے تعلیمی ادارے سیاستدانوں کی سڑکوں اور رہائشوں کے لئے قربان کر دئے جانے چاہئیں؟ کیا عوامی جدوجہد سیاستدانوں، قبضہ مافیا اور بد عنوان سرکاری اہلکاروں کو شکست دے سکتی ہے؟ اگلے چند ہفتوں میں یہ طے ہو جائے گا۔

ایران: 156 شہروں میں احتجاج، ہلاکتوں کی تعداد 448 ہو گئی

اعداد و شمار کے مطابق احتجاجی تحریک کے دوران 1095 ایسی جگہیں ہیں جہاں پر احتجاج ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر ایران کے 156 شہروں میں احتجاجی تحریک جاری ہے، جبکہ ملک کی 143 جامعات کے طلبا و طالبات اور اساتذہ اس احتجاجی تحریک میں شامل ہیں۔

نجکاری مقاصد پورے کرنے کی بجائے نقصان کا موجب بنی: تحقیق

ایک آزاد تحقیق کے مطابق پاکستان میں نجکاری پروگرام مقاصد پورے کرنے کی بجائے الٹا نقصان کا موجب بنا ہے۔ قومی اثاثوں کی فروخت سے 11 ارب ڈالر کی آمدن کے علاوہ وہ مقاصد حاصل نہیں کئے جا سکے، جن کے دعوے کرتے ہوئے نجکاری کی گئی تھی۔