Day: اکتوبر 23، 2021

فارق طارق روزنامہ جدوجہد کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ وہ پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری ہیں اور طویل عرصے سے بائیں بازو کی سیاست میں سرگرمِ عمل ہیں۔


پہلے پالتے ہیں پھر مارتے ہیں

ریاستی تشدد اس کا حل نہیں اور نہ ہی ریاست کے پاس اتنی نظریاتی بنیاد مضبوط ہے کہ وہ لبیک لبیک کہنے والوں پر گولیاں چلاتی رہے۔ ریاست ایسے گروہوں سے اپنے تمام رشتے ناطے توڑے بغیر ان کی طاقت کو بڑھنے سے نہیں روک سکتی۔

یہ شاہراہیں نہیں…قتل گاہیں ہیں!

ہاں! یہ وہی محنت کش طبقہ ہے، جو ان تمام تکالیف کو برصغیر کی تقسیم کے بعد اور پاکستان میں ضیا آمریت کے بعد سے برداشت کرتے ہوئے حکمرانوں کے خلاف غم و غصے کو جمع کر رہا ہے۔ اس سماجی غم و غصے اور انقلابی تحریک میں شائد کسی ایک چھوٹے چنگاری نما واقعے کا فاصلہ باقی رہ چکا ہے۔ جب تاریخ اپنے الٹ میں بدلے گی، تو پھر یہی شاہراہیں شائد قتل گاہیں تو ہوں پر محنت کشوں کا انتقام اتنا گھٹیا اور چھوٹا نہیں ہو گا کہ ان شاہراہوں پر راج کرتے ہوئے انسانوں کا قتل عام کرے، بلکہ پھر آج کی یہ ”موت بانٹتی شاہراہیں“ قتل گاہیں بنیں گی لیکن یہ قتل گاہیں انسانوں کی بجائے ان انسان دشمن سامراجی اور سرمایہ دارانہ رشتوں کی ہونگی، جن رشتوں کو قائم رکھنے میں مفادات تلاشنے والے حکمران طبقات محنت کشوں اور نوجوانوں کے قتل عام کے موجب بن رہے ہیں۔

بنگلہ دیش: روہنگیا پناہ گزین کیمپ پر مسلح افراد کے حملے میں 7 ہلاک، 20 سے زائد زخمی

29 ستمبر کو بالو خالی کیمپ میں مقامی رہنما محب اللہ کے قتل کے بعد بہت سے روہنگیا ایکٹوسٹ روپوش ہو گئے یا انہوں نے پولیس اور یو این ایجنسیوں کی مدد سے تحفظ حاصل کیا۔ کچھ کارکنوں کی جانب سے ہلاکتوں کا الزام اراکان روہنگیا سالویشن آرمی (ارسا) پر لگایا ہے تاہم گروپ کی جانب سے اس کی تردید کی گئی ہے۔